جونا گڑھ پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ
02 اکتوبر 2020 (14:16) 2020-10-02

نواب آف جونا گڑھ نے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کر تے ہوئے اسے منافقانہ‘ دوہرا معیار‘ اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کا نام دیاہے۔ نواب آف جونا گڑھ نے تقسیم ہندوستان کی دردناک داستان دنیا کے سامنے رکھتے ہوئے   بھارت کو مقبوضہ وادی میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریفرنڈم کرانے کا چیلنج دیدیا۔  نواب آف جونا گڑھ بھارت کے ایک ہی واقعہ پر 2 متضاد چہرے سامنے لے آئے۔

 نواب آف جونا گڑھ کا کہنا ہے کہ بھارت نے 27 اکتوبر 1947ء کو نام نہاد الحاق کو بنیاد بنا کر کشمیر پر قبضہ جما لیا۔ بھارت نے 9 نومبر 1947ء کو جونا گڑھ پر قبضہ جما لیا۔ جونا گڑھ کا پاکستان سے الحاق جونا گڑھ سٹیٹ کونسل کی منظوری سے ہوا تھا۔ بھارت نے اس قانونی الحاق کو بندوقوں کی طاقت سے روند ڈالا۔ بھارت نے نہ صرف الحاق کو روندا بلکہ بندوقوں کے سائے میں نام نہاد ریفرنڈم کرا ڈالا۔ نواب آف جونا گڑھ محمد جہانگیر خان نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھارت کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریفرنڈم کرائے اور کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے۔

1748ء میں ریاست جونا گڑھ کا قیام عمل میں آیا۔ 1807ء میں یہ برطانوی محمیہ ریاست بن گئی۔ 1818ء میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس کا کنٹرول سنبھال لیا لیکن سوراشرا کا علاقہ برطانوی راج کے انتظامیہ کے براہ راست تحت کبھی نہیں آیا۔ اس کے بجائے برطانیہ نے اسے ایک سو سے زیادہ نوابی ریاستوں میں تقسیم کر دیا، جو 1947ء تک قائم رہیں۔ موجودہ پرانا شہر جو انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران ترقی پایا سابقہ نوابی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ اس کے ریاست کے نواب کو 13 توپوں کی سلامی دی جاتی تھی۔ تقسیم ہند،(15 اگست 1947ء) کے وقت اس ریاست کے نواب محمد مہابت خان جی سوم نے 

پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا پاکستانی حکومت کی طرف سے (15 ستمبر، 1947ء) کو اس کی منظوری دے دی گئی۔ نواب کا مؤقف تھا کہ اگرچہ ریاست جوناگڑھ کا خشکی کا کوئی راستہ پاکستان سے نہیں ملتا مگر سمندر کے ذریعے یہ تعلق ممکن ہے کیونکہ اس ریاست کا کراچی سے سمندری فاصلہ 480 کلومیٹر ہے۔ اس ریاست کے ماتحت دوریاستیں تھیں (1)منگروال (2)بابری آباد۔ ان دو ریاستوں نے اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا جس پر نواب جونا گڑھ نے ان دونوں ریاستوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی۔ ان دونوں ریاستوں کے حکمرانوں نے حکومت ہندوستان سے مدد کی درخواست کی جو منظور کر لی گئی ہندوستانی فوجوں نے 9 نومبر، 1947ء کو ریاست جوناگڑھ پر حملہ کر دیا۔ اس دوران ایک جلاوطن گروپ نے ایک عارضی حکومت قائم کی جس کا سربراہ سمل داس گاندھی (Samaldas Gandhi) کو مقرر کیا گیا جو مہاتما گاندھی کا بھتیجاتھا۔ حکومت ہندوستان نے اسے مجاہد آزادی کا خطاب دیا موجودہ دور میں لاتعداد اسکول، کالج اور ہسپتال اس کے نام سے منسوب کیے گئے ہیں۔

9 نومبر کو ریاست جوناگڑھ پر ہندوستان کا مکمل قبضہ ہوگیا اور ریاست کا نیا گورنر مقرر کردیا گیا۔یہ فیصلہ انگریزی حکومت کے فیصلے کے خلاف تھا جس میں ریاست کو پاکستان یا ہندوستان میں کسی سے الحاق کا حق دیا تھا اور جوناگڑھ پاکستان سے الحاق کے حق میں فیصلہ دے چکا تھا۔ 20جنوری 1949ء کو جوناگڑھ کو نئی ریاست سوراشٹرا میں ضم کردیا گیا۔ 1960ء میں جونا گڑھ میں مہاگجرات موومنٹ کے نتیجے میں ریاست گجرات کا حصہ بنادیا گیا۔ جوناگڑھ بھارت کا حصہ نہ تھا۔ اس کے نواب نے بھارت سے نہیں پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا لیکن بھارت نے چالاکی اور مکاری سے اپنی فوجیں اس ریاست میں داخل کرکے قبضہ کیا اور بعد ازاں اسے اپنے صوبے سوراشٹر کا حصہ بنالیا تھا۔

سب سے پہلے بھارت نے 26 اکتوبر کو ریاست جموں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا۔ اس نے مہاراجہ کی جانب سے نام نہاد الحاق کو اس کی بنیاد بنایا لیکن آج تک ہندوستان الحاق کی وہ دستاویزات نہیں دکھا سکا۔ ہندوستان نے دوسرا غاصبانہ قبضہ 9 نومبر 1947 کو ریاست جونا گڑھ اور مناور پر قبضہ کر کے کیا۔ انگریزوں کے جانے کے بعد برصغیر میں پاکستان، ہندوستان اور حیدرآباد تین ملک بن گئے۔ پاکستان نے حیدرآباد کی خود مختاری کو قبول کیا اور مشتاق احمد خان اْس کے سفیر کی حیثیت سے پاکستان میں تعینات ہوئے۔ 

اس وقت بھارت میں درجنوں حریت پسند اپنے آزاد وطن کی جدوجہد کررہے ہیں جن میں تامل اور سکھ پیش پیش ہیں۔ خالصتان کے قیام کیلئے سکھ کمیونٹی ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کر چکی ہے۔ اندراگاندھی کا قتل بھی اسی تناظرمیں ہوا جبکہ ان کے صاحبزادے سنجے گاندھی کو تامل ناڈو میں علیحدگی پسندوں نے ایک بم دھماکے میں موت کے گھاٹ اتاردیا۔ مسلمانوں کو دبانے اور خوف وہراس پھیلانے کیلئے دہلی، بھارتی گجرات،ممبئی میں آئے روز مسلم کش فسادات اسی لئے کرائے جاتے ہیں۔ اس وقت بھارت میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ جونا گڑھ اور مناوادر،میسور،گجرات سمیت درجنوں ریاستوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں کے لوگ آزادی کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے تو پھر بھارتی حکمران کیا کریں گے۔ ابھی تو مقبوضہ کشمیر میں رائے حق دہی کی بات ہورہی ہے مودی سرکارنے لاکھوں کشمیریوں کو ان کے حق سے محروم کرکے بر ِصغیرپاک و ہندکے ایک ارب انسانوں کا مستقبل داؤپر لگا دیاہے حالانکہ بر ِصغیرکے لوگ امن چاہتے ہیں کیونکہ امن میں ہی ہم سب کی بقا، عافیت اور سلامتی ہے۔


ای پیپر