خودکشی کرنےوالے امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ، حکام پریشان
02 اکتوبر 2020 (14:08) 2020-10-02

واشنگٹن : ایک سال کے دوران امریکی فوجیوں میں خودکشی کے رجحان میں 30 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔جرمن ویب سائیٹ کے مطابق امریکی فوج میں خودکشیوں کا رجحان ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔

امریکی حکام کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 2019 کے مقابلے میں 2020 کے دوران خودکشی کرنے والے فوجیوں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اگر حاضر سروس فوجیوں کی خودکشی کی بات کی جائے تو یہ تعداد 30 فیصد زائد بنتی ہے۔رواں برس مارچ سے صرف امریکی فضائیہ کے تقریباً 100 اہلکاروں نے خودکشیاں کیں۔

گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس حاضر سروس امریکی فوجیوں میں خودکشی کے رجحان میں تیس فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اعلی حکام فوجیوں میں خودکشی کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے پریشان ہیں۔

ستائیس سالہ اسٹاف سارجنٹ جیسن لوو کے کسی ایک ساتھی کو بھی اندازہ نہیں ہوا کہ ان کے اندر کون سی کشمکش جاری ہے۔وہ ٹاپ پرفارمر پیراٹروپر تھے۔

آرمی ایڈوانس لیڈر کورس میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی اور اسی وجہ سے ان کی بیاسویں ایئربورن ڈویژن میں جلد ہی ترقی بھی متوقع تھی۔ فوج میں گریجویشن کے پانچ دن بعد سارجنٹ جیسن لوو نے کسی بھی کال یا ٹیکسٹ میسج کا جواب دینا چھوڑ دیا۔ان کے ساتھی اور اسٹاف سارجنٹ رائن گریو نارتھ کیرولینا میں ان کے فلیٹ میں گئے۔

دروازہ کھولا گیا تو پتا چلا کہ ستائیس سالہ سارجنٹ جیسن لوو خودکشی کر چکے ہیں۔ ابھی تک ان سوالات کے جوابات کسی کہ پاس نہیں ہیں کہ انہوں نے خودکشی کیوں کی۔ اسٹاف سارجنٹ رائن گریو کا نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، اسے کسی معاشی مسئلے کا سامنا نہیں تھا اور نہ ہی ریلیشن شپ کا کوئی مسئلہ تھا۔

رواں برس امریکی فوج کی صرف بیاسویں ایئربورن ڈویژن میں یہ دسویں خودکشی تھی۔ میجر جنرل کرسٹوفر ڈوناہیو کہنا ہے کہ وہ ان خودکشیوں کے محرکات جاننے سے قاصر ہیں۔ تاہم جولائی میں ڈویژن کے حکام نے کہا تھا کہ فوجیوں کی بیرونی ملک تعیناتی، تنہائی اور کورونا وائرس جیسے عناصر خودکشیوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکی فوج میں خودکشیوں کا رجحان ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ امریکی حکام کا نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس خودکشی کرنے والے فوجیوں کی تعداد میں بیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور اگر حاضر سروس فوجیوں کی خودکشی کی بات کی جائے تو یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں تیس فیصد زائد بنتی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس کی بڑی وجوہات میں فوجیوں کی جنگی علاقوں میں تعیناتی، قدرتی آفات سے مقابلہ اور امریکی شہروں میں بدامنی کے وہ واقعات ہیں، جہاں ان فوجیوں کو امن و امان کے لیے بلایا جاتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب فوجیوں کی جنگ زدہ علاقوں میں تعیناتی کی مدت کم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت کا مزید خیال رکھنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔

اسی طرح ذہنی دباؤ کے شکار فوجیوں کا پتا لگانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال کی جائے گی۔امریکی حکام نے رواں برس کی خودکشیوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی لیکن مارچ کے بعد سے صرف ایئر فورس میں تقریبا ایک سو اہلکاروں نے خودکشیاں کی ہیں۔

2018ءمیں تقریبا 541 فوجیوں نے اپنی جان خود لی تھی۔


ای پیپر