فوج کے کردار کو متعین کرنے کی پی ٹی آئی کی شعوری کوشش
02 اکتوبر 2020 (14:03) 2020-10-02

کسی بھی قوم کے لیڈر اگر اچھے ہوں تو قوم مضبوط ہوتی ہے اور ترقی کی منازل طے کرتی ہے، اگر وہ برے ہوں تو قوم مسائل و مصائب میں ہی مبتلا رہتی ہے اور تنزلی کی جانب سفر کرنے لگتی ہے۔ قائد کی رحلت کے بعد سے اب تک بہت کم ایسے لیڈرر میسر آئے ہیں جنہوں نے اس امر کی کوشش کی ہو کہ قوم کے پسماندہ اور مظلوم غریب عوام کو مشکلات سے نکال کر خوشحال اور باوقار بنایا جائے۔ انہوں نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ ان کا تعلق ان طبقوں اور عناصر سے تھا جن کا وجود عوام کے استحصال کا مرہونِ منت تھا۔ جمہوریت کی آڑ میں چند حکمران خاندان آپس کی ملی بھگت سے اور نوکر شاہی اور مذہبی رہنماؤں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے عوام کی گردنوں پر سوار ہو گئے اور ا ن کے لئے نئی نئی مشکلات پیدا کرتے چلے گئے اور خود اپنے لئے وسائلِ دولت سمیٹتے رہے۔ عوام کو تنگی روزگار و جاہلانہ رسم و رواج میں الجھائے رکھا اور عوامی شعور کو کند کرنے اور غیر جمہوری رویوں کو فروغ دینے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا۔ جمہوری تربیت سے محروم پاکستان کے حکمران طبقے، سیاسی اختلافات قبائلی دشمنی کے اندازمیں طے کرنے کے لئے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خاطر طاقت اور زور آزمائی کے راستوں پر چل نکلے۔ باہمی کشمکش میں انہوں نے فوج کی مدد مانگی۔ اس کھیل میں نہ عوامی مفادات کا دخل تھا، نہ کوئی نظریاتی بنیاد تھی اور نہ ہی سلامتی کے امور پیشِ نظر تھے۔ یہ دھڑے بندی اور گروہی مفادات کی جنگ تھی، جس میں فوج کو ملوث کیا گیا۔ بلکہ اپنے اقتدار کے حصول، مضبوطی اور دوسری پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے بھی فوج کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اگر ہمارے سیاسی قائدین میں فراست، پختگی اور سٹیٹ کرافٹ کو سمجھنے کی اہلیت ہوتی تو وہ دیگر جمہوری ملکوں کی طرح فوج کو اقتدار کے جھگڑوں میں اپنی مدد کے لئے کبھی استعمال نہ کرتے۔ 

ہمارے سیاست دان اس طرح نہیں سوچتے ہیں کہ اگر عوام نے کسی پارٹی کو پاکستان کی حکومت چلانے کا اختیار دیا ہے تو وہ یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ پارٹی کس حد تک ان کے اعتماد پر پورا اترتی 

ہے۔ حقیقی جمہوریت کے قیام کی خاطر اس مشکل وقت میں تحریکِ انصاف کا ساتھ دینے کے بجائے اس کی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر وہ سیاستدان سمجھتے ہیں کہ تحریکِ انصاف نا تجربہ کار ہے اور سنگین غلطیوں کا ارتکاب کر رہی ہے تو انہیں چاہئے کہ وہ ایسی غلطیوں اور شواہد کے خلاف رائے زنی کریں اورا س سلسلے کے حقائق کو جمع بھی کرتے جائیں تا کہ آئندہ انتخابات کے موقع پر وہ عوام کو اس بات پر آمادہ کر سکیں کہ وہ زمامِ حکومت پی ٹی آئی کے بجائے ان کے تجربہ کار ہاتھوں میں دیں۔ اس جمہوری طریقہئ کار کے بجائے غیر جمہوری طریقوں سے بے جا دباؤ ڈال کر اگر وہ عوام کی منتخب کردہ حکومت کو بدلنے کی کوشش کریں گے تو اس عمل کے نتیجے میں اس سے بہتر حکومت تو قائم نہیں ہو سکے گی البتہ غیر جمہوری عناصر کو ایک مرتبہ پھر کھل کھیلنے کا موقع ضرور ہاتھ آ جائے گا۔ ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ امریکہ، یورپی جمہوریتوں یا بھارت میں فوج کا امورِ مملکت میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ فوج ہر ملک اور ہر نظام میں حکومت میں دخیل ہی نہیں بلکہ شامل بھی ہوتی ہے۔ لیکن یہ جمہوریت کی پختگی ہے کہ وہ فوج کی طاقت اور مشاورت دونوں سے کام لینے کے باوجود اسے اقتدار پر قبضے کا موقع نہیں دیتی۔ پاکستانی جمہوریت پی ٹی آئی کے دور میں پہلی دفعہ بلوغت کے اس درجے پر پہنچی ہے کہ اس نے سٹیٹ کرافٹ میں فوج کے کردار کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔حکومت کی کامیابی اسی میں ہے کہ فوج کی طاقت کو استعمال بھی کرے اور اسے پیشہ ورانہ حدود سے باہر نکلنے کا موقع بھی نہ دے۔  

مشرف کے دورِ اقتدار کے بعد بننے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگاتی رہیں اور پارلیمنٹ کو بے توقیر کرتی رہیں۔ ایک دوسرے کا احتساب کرنے اور پائی پائی وصول کرنے کے دعوے کئے جاتے رہے۔ ایک دوسرے کی کرپشن، نااہلی، منی لانڈرنگ کے میڈیا پر انکشافات کرتے رہے۔ یہ تھا بھی درست ایک طرف ملک مقروض ہو رہا تھا تو خود ان کے ا ثاثے آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔ پچھلے دونوں جمہوری ادوار میں ملکی معیشت اور ادارے بربادی کی انتہا تک پہنچ گئے۔ جب اقتدار میں تھے تو ایک دوسرے پر طرح طرح کے الزامات لگا رہے تھے لیکن جونہی اقتدار کسی تیسرے شخص کو منتقل ہوا تو ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے والے ایک دوسرے کے دوست بن گئے ہیں اور وہی ماضی والی کہانی دہرانا شروع کر دی کہ پی ٹی آئی کی حکومت نااہل ہے ملک چلا نہیں سکتی۔ اس سے عوامی سطح پر سیاست دانوں کا کھوکھلا پن واضح ہو جاتا ہے۔ عوام کو بھی سمجھ آ گئی ہے کہ ان کا کوئی قومی ایجنڈا نہیں ہے اپنی کرپشن کے دفاع کے لئے ایک دوسرے پر الزامات لگانے والے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ 

ہمارا ہر سیاست دان بظاہر جمہوریت کے نعرے لگاتا ہے لیکن اندر سے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے فوج کی پشت پناہی حاصل ہو جائے تا کہ مخالف سیاسی طاقتوں کو مغلوب کر سکے۔ فوجی اقتدار کی مخالفت صرف وہ کرتا ہے جسے اقتدار کے کھیل سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائدین تو جب بھی اقتدار میں آئے فوج کا سہارا لے کر ہی اقتدار میں آئے۔ اس طرح میاں نواز شریف نے اپنے اے پی سی کے خطاب میں جتنی باتیں کی ہیں زیادہ تر انہی کے خلاف چارج شیٹ تھی ان کی ساری تان اداروں پر ٹوٹی انہوں نے کہا جب تک عمران خان کو لانے والوں کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا جاتا ساری جد و جہد بیکار ہے جب کہ میاں نواز شریف نے خود تین دفعہ وزارتِ عظمیٰ اور پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ ایسے ہی حاصل کی ہے۔ اس طرح میاں نواز شریف نے اپنے کئے جرائم دوسروں کے سر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ میا ں نواز شریف کا خطاب اس لئے اہمیت اختیار کر گیا کہ ان کے بیانیے میں وہ کچھ تھا جو بھارتی اخبارات اور اس کے حکمران پاکستان اور فوج کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد پراپیگنڈا کرتے ہیں اسے اس خطاب سے فوج اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی بنیاد مل گئی۔ میاں صاحب نے احساس نہیں کیا کہ وہ جو کہہ رہے ہیں کس موقع پر اور کس کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ اگلے روز بھارتی اخبارات نے طرح طرح کی شہ سرخیاں جمائی تھیں جن میں ایک اخبار کی ہیڈ لائن یہ بھی تھی کہ نواز شریف نے اپنی فوج پر حملہ کر دیا۔ میاں صاحب کو اس سے اندازہ کرنا چاہئے جب بھی بھارت یا کوئی دوسرا ملک اس طرح تقریر کا ذکر کرے گا تو وہ اسے آپ کا ملک یا آپ کی فوج ہی گردانے گا۔


ای پیپر