جڑانوالہ روڈ پر مسافر خاتون سے زیادتی کا واقعہ، دو ملزم گرفتار
02 اکتوبر 2020 (10:47) 2020-10-02

لاہور: ننکانہ صاحب کے قریب جڑانوالہ روڈ پر مسافر خاتون سے زیادتی کرنے والے 2 ملزم پولیس کی پکڑ میں آ گئے ہیں تاہم دیگر چار ملزموں کی تلاش جاری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس کے بعد ڈی پی او ننکانہ اسماعیل کھاڑک نے تین ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق ایف آئی آر میں نامزد دو ملزم اکمل اور عمران اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں جبکہ ڈیرے پر موجود چار نامعلوم ملزمان 

ابھی تک گرفتار نہیں کیے جا سکے ہیں۔ ایس ایچ او تھانہ مانگٹانوالہ محمد علی چڈھر کے مطابق لڑکی اپنی رضامندی سے ملزمان کے ساتھ گئی تھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز جڑانوالہ روڈ پر مسافر خاتون سے اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ ننکانہ صاحب کے قریب جڑانوالہ روڈ پر بس کے انتظار میں کھڑی خاتون کو چھ افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق 24 ستمبر کو خاتون کیساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا لیکن پانچ دن بعد 28 ستمبر کو تھانہ مانگٹانوالہ میں پولیس نے مقدمہ درج کیا۔

متاثرہ خاتون کی بہن کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق شیخوپورہ سے جڑانوالہ جاتے ہوئے تھانہ مانگٹانوالہ کی حدود میں رات ساڑھے آٹھ بجے قریب بس خراب ہو گئی۔ متاثرہ خاتون دوسری بس کے انتظار میں کھڑی تھی کہ ایک کار میں سوار دو افراد نے لفٹ کے بہانے بٹھایا اور نشہ آور جوس پلا کر بے ہوش کر دیا اور وسدھر پور ڈیرہ پر لے گئے، جہاں موجود دیگر افراد کیساتھ مل کر انہوں نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا اور برہنہ حالت میں کھیت میں پھینک دیا۔

بتایا جا رہا ہے متاثرہ خاتون کے موبائل فون سے ہی اس کی بہن کو اطلاع دی گئی تھی کہ اپنی بہن کو فصل چری سے اٹھا کر لے جاؤ۔ متاثرہ خاتون کی بہن دو افراد کے ساتھ فصل چری پہنچی تو وہاں موجود نہیں تھی لیکن اگلی صبح وہ خود ہی گھر چلی آئی اور سارا وقوعہ بیان کیا۔

ادھر جڑانوالہ روڈ پر تھانہ مانگٹانوالہ کے قریب لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی میں ملوث سفاک ملزموں کی گرفتاری کے لئے ڈی پی او ننکانہ نے تین ٹیمیں تشکیل دے دی ہے۔ تاہم ڈی پی او ننکانہ نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ زیادتی کا شکار خاتون نے ون فائیو پر کال نہیں کی تھی۔

دوسری جانب وزیراعلی عثمان بزدار نے آر پی او شیخوپورہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سختی سے حکم دیا ہے کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل لاہور موٹروے پر بھی خاتون کیساتھ زیادتی کا اندوہناک واقعہ پیش آیا تھا۔ پولیس نے واقعے میں ملوث ایک ملزم کو تو گرفتار کر لیا ہے تاہم مرکزی ملزم ابھی تک پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات ونشریات فیاض الحسن چوہان نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ 24 ستمبر کو پیش آیا، 27 ستمبر کو خاتون نے زیادتی کیخلاف درخواست دی۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ درخواست دینے کے بعد متاثرہ خاتون مانگٹانوالہ سے لاہور چلی گئی۔ ہم نے متاثرہ خاتون کو لاہور میں تلاش کرکے اس کا میڈیکل کرایا۔ متاثرہ خاتون سے زیادتی کے واقعہ کی مزید تفتیش ہونا باقی ہے۔


ای پیپر