مولانا مودودی علیہ رحمہ کی جماعت 
02 اکتوبر 2020 2020-10-02

میں نہیں جانتا کہ اگر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ زندہ ہوتے تو ان کی جماعت کی سیاسی حکمت عملی کیا ہوتی مگر میں یہ جانتا ہوں کہ مولانا مودودی برصغیر کی تاریخ کی ایک بڑی شخصیت تھے۔ مجھے برادرم قیصر شریف کا واٹس ایپ ملا کہ میں جماعت اسلامی کے بانی کی شخصیت پر ایک پیغام ریکارڈ کر کے بھیجوں کہ بائیس ستمبر ان کا یوم وفات اور پچیس ستمبر ان کا یوم پیدائش تھا۔ میں جانتا ہوں کہ جماعت اسلامی برسیاں نہیںمناتی کہ اہلسنت و الجماعت کے دیوبندی مکتبہ فکر میں اس کو جائز نہیں سمجھا جاتا مگر میرے خیال میں بڑے لوگوں کو یاد کرنا، انہیں خراج تحسین اور خراج عقیدت پیش کرنا ان کا حق بھی ہے اور ہمارا فرض بھی، خاص طور پر جب ہم قحط الرجال کا شکار ہوں، جب ہمارا کلچر یہ بن چکا ہوکہ ہم نے تنقید ہی کرنی ہے، کسی کے کردار کی بڑائی کو تسلیم ہی نہیںکرنا۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ذات کو سراہوں یا نہ سراہوں ، اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا مگر مجھے ضرور پڑٹا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جب قیامت کے روز میرا مولانا سے سامنا ہو اوروہ اپنی عظیم دینی خدمات کی وجہ سے نورانی فرشتوں کی معیت میں جنت کی طرف لے جا ئے جا رہے ہوں تو میں ان سے عرض کروں، مولانا، میرے اور اپنے رب سے سفارش کیجئے گا کہ میں نے آپ کی جماعت کے سوشل میڈیا سیل کے انچارج کی گالیوں اور آپ کی جماعت کے احتجاجی پروگرام کی کوریج کرتے ہوئے آپ کے بعض کارکنوں کی طرف سے منظم تذلیل کے باوجود آپ کے حق میں گواہی دینے میں اپنے غم اور غصے کو حاوی نہیں آنے دیا اور میں اب بھی گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نیک اور باکردار لوگوں کی ایک جماعت بنانے کی سعی کی، اس کے ذریعے ایک انقلاب برپا کرنے کی بنیاد رکھی۔ اب یہ ایک الگ سوال ہے کہ وہ انقلاب برپا کیوں نہیں ہوسکا۔ ابھی پچھلے انتخابات میں ہی جماعت اسلامی ، تحریک لبیک پاکستان سے بھی پیچھے کیوں چلی گئی۔ میں مولانا مودودی کی سیاسی فکر سے اختلاف کر سکتا ہوں مگر اس کا انکارنہیں کر سکتا۔ وہ محض ایک سیاستدان نہیں تھے، وہ ایک استاد تھے، وہ عالم دین تھے، مفسر قرآن تھے، وہ ایک مصنف تھے، وہ ایک معیشت دان تھے، وہ ایک صحافی تھے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ میں نے مولانا مودودی علیہ کے ساتھ ساتھ مولانا ظفر علی خان او ر مجید نظامی جیسے جید صحافیوں سے ہی سیکھا ہے کہ صحافی کبھی اپنی رائے میں غیرجانبدار نہیں ہوتا، اچھا صحافی ہمیشہ ایک نظریہ رکھتا ہے اور اس نظرئیے کی بالادستی کے لئے جدوجہد کرتا ہے۔ ایک اچھا صحافی کبھی آئین، قانون اور عوامی حقوق کا مخالف نہیں ہوتا،وہ حق اور باطل، ظالم اور مظلوم کے درمیان کبھی غیر جانبدار نہیں ہوتا۔

مولانا مودودی ؒ کے بعد ان کی جماعت نے ایک طویل جدوجہد کی ہے مگر جب مولانا مودودی حیات تھے تب جماعت اسلامی مادر ملت فاطمہ جناح کے ساتھ تھی مگر ان کے انتقال کے بعد امیر چاہے کوئی بھی رہے ہوں جماعت نے مستقل بنیادوں پراپنا دھڑا بدل لیا۔ جماعت اسلامی کو بطور سیاسی جماعت اپنی اپنی حکمت عملی طے کرنے کا حق ہے تاہم ہمیں بھی حق ہے کہ اس حکمت عملی کا تجزیہ کریں۔ مجھے یاد ہے کہ میں بھی مینار پاکستان کے سامنے اس فٹ بال گراونڈ میں موجود تھا جس میں محترم قاضی حسین احمد جماعت اسلامی کو ایک متبادل قوت بنانے کے لئے پاکستان اسلامک فرنٹ کی بنیاد رکھ رہے تھے، اس کے ساتھیوں اور محبین کا دائرہ وسیع کر رہے تھے، اب تو اس بات کو بھی غالبا ربع صدی سے زیادہ کا وقت گزر گیا۔ قاضی حسین احمد میں جو سیاسی جرات اور ویژن تھا وہ ان کے بعد نہیں دیکھاجا سکا۔ وہ بہرحال جماعت اسلامی کو ایک مقبول جماعت بنانا چاہتے تھے اور اسی کے لئے انہوں نے سب سے پہلے نوجوانوں کو متحرک کرتے ہوئے شباب ملی بنائی، محترم محمد علی درانی جیسی شخصیت کو ساتھ لیا، انہوں نے ’ظالمو قاضی آ رہا ہے ‘کا نعرہ لگایا اور وہ سب کچھ کیا جو جناب عمران خان نے مقبولیت اور اقتدار کے لئے کیا ہے مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جس راستے سے ذوالفقار علی بھٹو ، نواز شریف اور عمران خان تاریخ ساز لیڈر بن گئے ، جماعت اسلامی اس راستے کے ذریعے منزل تک کیوں نہیں پہنچ سکی۔ میں درست اور غلط کی بات اس لئے نہیں کرتا کہ اگر یہ راستہ جماعت اسلامی کے لئے غلط تھا تو ان کے مخالفین کے لئے بھی اتنا ہی غلط تھا۔میں نہیں جانتا کہ جماعت اسلامی میں شامل نمازیں پڑھنے اور روزے رکھنے والے نیک اور باکردار لوگ سیاسی ضروریات کو کیوں نہیں سمجھ سکتے۔ جماعت اسلامی نے آئی جے آئی بنایا اور جب نواز شریف مقبول ہو ئے تو ان کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ نوے کی دہائی میں کرپٹ سیاستدانوں کا خاتمہ کرنے کے لئے مقتدر قوتوں کے لئے استعمال ہوئے او ر اس کے بعد کروڑ کمانڈرز کی بات کر دی۔ ایک موقع آیا کہ محترم سید منور حسن نے جماعت اسلامی کو مکمل طور پر تحریک انصاف کی گود میں ڈال دیا مگرجب عمران خان اقتدار میں آ رہے تھے تو صوبائی سطح کا اتحاد بھی ختم کر دیا گیا۔اس سے بہت پہلے میاں طفیل محمد صاحب کے دور میں ضیاءالحق کی آمریت کی حمایت کا بوجھ بھی اٹھایا اور پھر اس کا فائدہ بھی نہ اٹھا سکے۔مولانا مودودی کی جماعت بہتر سیاسی فیصلے کیوں نہیں کر سکتی، مجھے اس کے بارے علم ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ فیصلے کرنا ان کا حق ہے جیسے کم از کم مجھے جناب سراج الحق سے امید تھی کہ وہ ایک آئینی ور جمہوری طریقہ کی سیاست کر کے آئے ہیں اور وہ آئین اور جمہوریت کی پاسداری میں اپنا کردارادا کریں گے۔ وہ پلڑوں کو برابر رکھیں گے مگر وہ بھی پانامہ کیس میں صرف نواز شریف کو اقتدار کے ایوانوں سے باہر نکلوا کر واپس آ گئے اور اس کے بعد ٹائیں ٹائیں فش ہے۔

میں پھر کہوں گا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ایک بڑی شخصیت تھے، انہوں نے تاریخ کے اہم ترین موڑ پر برصغیر میں اسلامی تحریک کے احیا میں اہم ترین کردارادا کیا۔ میں اب اس فضول بحث میں نہیں جانا چاہتا کہ وہ پاکستان کے قیام کے مخالف تھے یانہیں کہ پاکستان بن چکا اور اس پاکستان میں انہوں نے اسلامی نظام کے نفاذ، فتنہ قادیانیت کے خاتمے ، تحریک ختم نبوت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردارادا کیا ہے۔ میں اسلامی جمعیت طلبا کے نوجوانوں کو کسی بھی دوسری جماعت کے کارکنوں سے زیادہ نظریاتی اور محب وطن کارکن سمجھتا تھا اور ذاتی مخالفت کے باوجود سمجھتا اور کہتا رہوں گا مگر میرے خیال میں جماعت اسلامی نے ایک مرتبہ پھر ٹرین مس کر رہی ہے۔ پاکستان اپنی سیاسی تاریخ کے اہم ترین موڑ پر کھڑا ہے جہاںجناب عمران خان ہماری روایتی سیاست کے اہم ترین نظرئیے کے محافظ بن کے سامنے آئے ہیں اور جناب نواز شریف نے روایتی سیاست کے خلاف محاذ کی قیادت سنبھال لی ہے اور ملک میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور ایماندار لوگوں کی جماعت نہ تین میں نظر آ رہی نہ تیرہ میں۔ جب جنگ شروع ہوجائے تو ہر کسی کو اپنا اپنا حسین اور اپنا اپنا یزید چننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میری جماعت اسلامی پنجاب کے جنرل سیکرٹری قدرت اللہ بٹ سے بات چیت ہو رہی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ جماعت اسلامی کو چاہئے کہ اگر وہ اپنی کوششوں سے نااہل کروائے گئے نواز شریف کو کرپٹ سمجھتی ہے اور ان کی شروع کی ہوئی لڑائی کو ذاتی مفادات کی جنگ تو اپنا وزن جناب عمران خان کے پلڑے میں ڈال دے تاکہ یہ فیصلہ ہو سکے کہ وہ کس کے ساتھ ہے۔ٹاس ہونے والا ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کھیل میں جماعت اسلامی کو جتوانے کے لئے نہ ہیڈ آئے نہ ٹیل بلکہ سکہ کھڑا ہوجائے۔


ای پیپر