’’ جرم ‘‘ بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
02 اکتوبر 2019 2019-10-02

قصور میں ایک سیریل کلر کی گرفتاری کی خبریں آ رہی ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ملزم کا ڈی این اے ٹیسٹ حال ہی میں قتل ہونے والے تین کم سن بچوں کے قاتل سے میچ کر گیا ہے ۔ اس وقت قومی میڈیا کے اندر سب سے زیادہ شائع ہونے والی خبروں میں سنسنی خیز جرائم خصوصاً قتل اور خود کشی کے واقعات شامل ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ معاشرہ کس قدر اخلاقی و نفسیاتی دیوالیہ پن کا شکار ہے ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ jgkک کی جیلوں میں گنجائش سے تین تین گنا زیادہ قیدی بند ہیں ہم جیلوں کی تعداد میں اضافے کا مطالبہ تو کرتے ہیں اور پولیس کی نفری کم ہونے پر حکومت کو نشانہ بناتے ہیں مگر ہم اس طوفان اور ہیجان کے سد باب کی بات نہیں کرتے جس میں شہری معمولی بات پر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ یا کہ معاشرتی عدم برداشت اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ سڑک پر حادثہ ہو جائے اور اس میں متاثر ہونے والے فریق شدید زخمی ہونے سے بچ جائیں تو وہ بجائے اس بات کے کہ جان کی سلامتی پر اللہ کا شکر ادا کریں اور آپس میں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جاتے ہیں اور دونوں فریق دوسرے کو حادثے کا ذمہ دار کہتے ہیں۔

اس صورت حال سے قطع نظر اب ہم آپ کو معاشرے کا ایک اور منظر دکھاتے ہیں اور بعد میں ان دونوں کا آپس میں لنک تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سال پنجاب بھر سے میڈیکل کالجوں کے لیے انٹری ٹیسٹ جسے MDCAT کہا جاتا ہے اس میں 65 ہزار بچوں نے حصہ لیا جس میں 3500 کے لگ بھگ امیدوار کامیاب قرار پائیں گے جبک باقی رد کر دیئے جائیں گے ۔ داخلہ سے انکار والوں میں ایسے امیداور بھی ہوں گے جن کے نمبر 90 فیصد ہیں۔ کیونکہ سرکاری میرٹ اس وقت 94 فیصد کے لگ بھگ چل رہا ہے ۔ 65 ہزار میں سے ہم نے 3500 امیدار جو کہ معاشرے کی کریم ہیں وہ تو منتخب ہو گئے ساڑھے اکسٹھ ہزار کو ہم نے معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ لاہور میں پنجاب یونیورسٹی اور جی سی یونیورسٹی لاہور میں چار سالہ BS ڈگری میں داخلے کے لیے 80 فیصڈ نمبر نا کافی ہیں کیونکہ ان دونوں کا میرٹ بھی 85 فیصد سے اوپر ہے ۔ ایک وقت یہ بھی تھا کہ سادہ فرسٹ ڈویژن یعنی 60 نمبر لینے والے امیداور میڈیکل کالج میں داخلہ کے اہل ہوتے تھے۔ جہاں ضمنی طور پر ہمیں خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا وہ بیان نقل کرنا پڑے گا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہماری حکومت سے پہلے اس صوبے کے بے روز گار ڈاکٹر خیبر بازار پشاور میں پکوڑے بیچتے تھے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پختونخواہ یا پنجاب کے ینگ ڈاکٹرز اب بھی پکوڑے فروشی جیسے حالات سے دوچار ہیں ۔ دنیا میں کون سا قانون ہے کہ ہائوس جاب کرنے والے ڈاکٹر مفت کام کریں جس میں انہیں 36% گھنٹے لگا تار ڈیوٹی کرنی پڑے اور عید کے دن بھی چھٹی نہ ہو۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر ملک میں جرائم کی بڑھتی ہوئی لہروں کا مقابلہ کرنا ہے تو جیلوں کی تعداد بڑھانے یا پولیس نفری میں اضافہ کرنے کی بجائے آپ اس ملک کے نظام تعلیم کا سوچیں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل ورک فورس کو استعمال میں لائیں ان کے ہنر کو فروغ دیں ملک میں یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھائیں تاکہ ڈاکٹر انجینئر اور آئی ٹی ایکسپرٹ یا دیگر شعبوں کی تعلیم کے لیے میرٹ کم ہو ں جو کہ اس وقت پُل صراط سے زیادہ مشکل ہو چکا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف تعلیمی پالیسی یہ ہے کہ بچے کو 1000 میں سے 999 نمبر دے دیئے جاتے ہیں ہمارے دور میں انگریزی اور اردو کے پرچے میں جو مضمون ہوتا تھا اس کے کل نمبر 10 تھے اور پوری کلاس میں بہترین مضمون لکھنے والے کو استاد 7 نمبر دیتا تھا وہ طریقہ ٹھیک تھا۔

آبادی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ سکولوں یونیورسٹیوں کی تعداد نہیں بڑھ رہی روزگار کے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں جس پر جنگی بنیادوں پر سوچنے کی ضرورت ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ حکام کی لا پرواہی کی وجہ سے ڈینگی نے تباہی پھیلا دی ہے اور وزیر اعظم کو اب ہوش آیا ہے کہ یہ کیا ہوا اور کیوں ہوا۔ شہباز شریف سرکاری افسروں کو اپنے دفتر بلا کر ان کی سرزنش کرتا تھا اور فائلیں ان کے منہ پر پھینکتا تھا۔اس سختی کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ جب وہ اخباری بیان میں بیوروکریسی کو دھمکی لگاتا تھا تو حاکمانِ اعلیٰ الرٹ ہو جاتے تھے جب ان کی سرزنش ہوتی تھی تو وہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ وہی رویہ کرتے تھے اور یوں اوپر سے نیچے تک پوری مشینری مستعد ہو جاتی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ جب ڈکیتی کی واردات ہو جائے اور انکوائری شروع ہو ۔ وہاں Pre-Emptive یعنی قبل از وقت اقدامات ہوتے تھے اب بعد از وقت انکوائری لگتی ہے ۔

ہمارا موضوع چونکہ جرائم اور خودکشی میں اضافے اور تعلیمی مواقع میں کمی سے ہے اس پر ڈنگ ٹپائو پالیسی نہیں چل سکتی یہاں اس وقت نئےInitiative نا گزیر ہو چکے ہیں اور ان کے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے کیونکہ آگے کوئی راستہ ہی نہیں ہے ۔

ملک میں ایسے پراجیکٹ شروع کیے جا ئیں جو Labour Intensive ہوں جہاں مشینوں سے کام کرنے کی بجائے افرادی قوت کو کھپایا جا سکے۔ جرائم میں ملوث نو جوان نسل کا تعلق بے روز گاروں سے ہے دوسری طرف فرسٹریشن کا شکار خود کشی کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق بھی معاشی وجوہات سے جڑا ہوا ہے ۔ غربت کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔

آج تک کسی حکومت نے نہیں سوچا کہ ہمارا جو قیمتی ذریعہ پیداوار یعنی افرادی قوت کو ضائع ہونے سے کیسے بچایا جائے۔ پاکستان شاید واحد ملک ہے جہاں والنٹیئر Volenteer فورس کو منظم نہیں کیا گیا ۔ حالانکہ اس کے لیے ہمارے پاس بے روز گاروں کی وافر سے بھی زیادہ تعداد موجود ہے ۔ ایسے افراد کو ترغیبات دیں ان کو نئے پراجیکٹس میں اعزازی تنخواہ پر رکھیں جو عام تنخواہ سے آدھی ہو اُسے وظیفہ کا نام دیا جائے نوجوان نسل کے لیے یہ لازمی قرار دیا جائے کہ وہ نوکری کرنے سے پہلے ایک سال تک رضاکار یا Volenteer فورس میں مفت کام کریں گے انہیں حکومتی سرٹیفکیٹ دیئے جائیں اور ملازمت کے میرٹ میں Volenteer کے لیے اضافی نمبر رکھے جائیں ان والنٹیئر کو ان کی قابلیت کے مطابق شعبہ جات میں بھیجا جائے تعلیم صحت میونسپل سروسز، کمیونٹی ورک، u/c لیول پر مددگار پروگرام وغیرہ شروع کر کے انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنایا جا سکتا ہے ۔ اسی طرح Volenteer فورس کا ایک حصہ فوج میں خدمات کے لیے بھیجا جا سکتا ہے ۔ جہاں ان کے لیے وسیع مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ ڈیم پراجیکٹ میں انہیں استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ اس کے لیے ایک پوری وزارت اور ڈیٹا بیس بنانا پڑے گا۔ اس فورس سے آپ کمیونٹی پولیسنگ کا شعبہ شروع کر سکتے ہیں۔ اس شعبے کو ایک عملی شکل دینے کے لیے ماہرین کی ضرورت ہے ۔ اگر موجودہ حکومت اس پر کام کا آغاز کرے تو یہ تاریخی اعتبار سے ایک بہت بڑا Innovation یا نئی ایجاد ثابت ہو گا۔ فارغ ذہن شیطان کی آما جگاہ ہوتا ہے یوتھ کو مصروف رکھیں گے تو جرم کم ہو گا خود کشیاں بھی کم ہو جائیں گی۔


ای پیپر