اسلامو فوبیا
02 اکتوبر 2019 2019-10-02

وزیر اعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد واپسی ہوگئی ، اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کو عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا ۔ملیحہ لودھی کو عہدے سے ہٹائے جانے کی وجہ تو نہیں بتائی گئی مگرتجزیہ یہی کہتا ہے کہ ہیومن رائٹس کونسل میں قراردار لانے کے لئے جن 16ممالک کی حمایت درکار تھی انھیں آن بورڈ لینے میں ناکامی ملیحہ لودھی کے سر آئی ہے ۔تقریر کتنی متاثر کن تھی یا کشمیر پر کتنی سفارتی کامیابی ملی اس پر بہت بحث ہو گئی ۔ عمران خان کی تقریر کے 4نکات تاحال زیر بحث ہیں ۔وطن عزیز کے بہت سے دانشور تجزیہ کرتے ہوئے یہ کہتے رہے کہ عمران خان کو موسمیاتی تبدیلی ، اسلامو فوبیا اور دہشت گردی پر بات کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اصل موضوع کشمیر تھا۔عمران خان کی تقریر میں جو نقطہ مجھے اہم لگا وہ اسلاموفوبیا پر بات کرنا تھا۔تقریر سے قبل شاید بہت سے لوگ اس اصطلاح سے واقف نہیں تھے اور اگر واقف تھے بھی تو اسے موضوع بحث بنانا اتنا اہم نہیں سمجھا جاتا تھا۔تقریر میں اسلامو فوبیا پر بات کرنے کے فائدہ یہ ہوا ہے کہ جہاں جہاں بھی یہ پیغام پہنچا ہے لوگوں نے اس سوچ یا نظریے کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ اسلامو فوبیا ایک ایسی سوچ کا نام ہے جو دنیا بھر میں مسلمانوں اور مذہب اسلام کو دہشت گردی کی علامت ثابت کرنے کے لئے کوشاں ہے ۔یہ سوچ کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتی لیکن اسلام کو مغرب کا دشمن مانتی ہے ۔کشمیر کے مظلوم مسلمان ہوں ، فلسطین میں محکوم امت کی بات ہو یا روہنگیا میں نہتے مسلمانوں کی روداد ،،،دنیا میں ظلم و بربریت کا شکار ہونے والے مسلمانوں کی کڑی اسی تعصب زدہ سوچ سے ملتی ہے۔ اس وقت دنیا میں جن خطوںپر جنگ مسلط کی گئی ہے وہاں اسی سوچ کے باعث مسلمان نشانے پر ہیں ۔کشمیر میں بھارت ، غزہ یا فلسطین میں اسرائیل اور روہنگیا میں میانمار کی جانب سے ریاستی دہشت گردی دراصل اسلام فوبیا کا ہی نتیجہ ہے ۔ اسلامو فوبیا کے تدارک پر تحقیق کرنے والے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ تہذیبی تصادم کی عکاس یہ سوچ دراصل گزشتہ ایک صدی سے ہی دنیا پر غالب آنے کے لئے کوشاں ہے کہــ’’ اسلامی تہذیب مغربی تہذیب کی حریف اور دہشت گردی و خوف کی علامت ہے ‘‘۔ستمبر2011( جسے دنیا 9/11کے نام سے یاد کرتی ہے)سے پہلے یہ سوچ آہستہ آہستہ پروان چڑھ رہی تھی مگرورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے حملے کے بعد سے دنیا کے بڑے تھنک ٹینکس نے کھلے عام اپنی تحقیق اور ایجنڈے کا رخ اسلامو فوبیا کی طرف موڑ دیا ۔اسرائیل ، امریکہ اور مغربی تہذیب کے ٹھیکیدار سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور ہر ممکن طریقے سے اسلام کو دہشت گرد ی کی علامت ثابت کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی ۔دنیا کا یہ سب سے بڑا پروپیگینڈا تھا جو ایک ایسی تہذیب کے خلاف کیا گیا جو روح زمین پر امن کی علمبردار تھی ۔ جو ہر مذہب و ثقافت کو برابری کے حقوق دیتے ہوئے امن کی بات کرتی تھی۔پھر دنیا نے دیکھا کہ اقوام عالم میں دہشت گردی کا شکار بھی مسلمان بنے اور وجہ بھی انھیں ہی قراردیا جاتا رہا۔اسلاموفوبیا کے تھنک ٹینکس نے دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی کہ اسلام ، مسلمان ، حجاب، داڑھی، مسجد اور مدرسہ خوف و دہشت کی علامت ہے۔15مارچ 2019کو نیوزی لینڈ کے دارلحکومت کرائسٹ چرچ میں واقع مسجد النوراور لن ووڈ مسجد پر دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان سمیت دنیا کے بڑے رہنماؤں نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ مسلمانوں کو دہشت کی علامت ثابت کرنے کی کوشش میں مغربی تہذیب ایک ایسی سوچ کو پروان چڑھا چکی ہے جسکا کوئی مذہب نہیں ۔وہ سوچ امن سے ، انسانیت سے ، آزادی اظہار رائے سے بین المذہب ہم آہنگی اور ہر اس اقدام سے نفرت کرتی ہے جو کسی بھی تہذیب سے زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے ۔آفاقی حقیقت یہ ہے کہ سچ دبانے سے مزید ابھر کر سامنے آتا ہے۔مغرب پر غالب تعصبانہ سوچ اسلاموفوبیا پھیلانے میں کامیاب تو ہو گئی مگر جلد دنیا کے باشعور رہنماؤں کو یہ احساس بھی ہو گیا کہ اسلاموفوبیا کے نام پر امن کی بات کرنے والی مغربی تہذیب دراصل بدترین انسانیت دشمن سوچ کو پروان چڑھا رہی ہے ۔15 مارچ 2019 کے بعد جرمنی ، برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ ، عراق ، اوراردن سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں نے ایک اعلامیہ پیش کیا جس میں واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں اور دنیا میں دہشت گردی کا شکار ہونے والی اقوام میں سب سے بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے ۔عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا پر بات کر کے دنیا کی توجہ اس المیے کی جانب مبذول کرانا مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کسی بیماری کی جڑ پکڑے جانے سے ہی اس کا علاج ممکن ہو پاتا ہے ۔آج مغربی ممالک بھی دبے الفاظ میں سہی مگر یہ حقیقت تسلیم کر رہے ہیں کہ وہ ایک مخصوص پروپیگینڈا کا شکار ہوئے ہیں ۔آج امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے ۔آج دنیا کو یہ سمجھ آ رہا ہے کہ مسلمانوں کو انکے مذہب انکے لباس اور انکی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہاہے ۔اور آج اقوام عالم اس بات پر اتفاق کررہی ہیں کہ اب دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے جہاں ایک ایک کونے میں مختلف تہذیبیں اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر نہیں رہ سکتیں انھیں اب ایک دوسرے کو برداشت بھی کرنا ہوگا، عزت ومقام بھی دینا ہوگا اور ہر ایک کے عقیدے اور نظریات کو قبول بھی کرنا ہو گااور یہ بین المذہب ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔مگر بدقسمتی سے آج جب دنیا سمجھ رہی ہے ہمارے خطے کے اپنے دانشور دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اسلاموفوبیا پر بات کرنے کو غیر اہم قرار دے رہے ہیں ۔مغرب کی اندھی تقلید کے ساتھ نشونما پانے والے ان دانشوروں کو بھی اب ازسر نو اپنے خیالات و افکار پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا جس موضوع کو آج اہم سمجھ رہی ہے اگر آپ اسے ایک صدی کے بعد جا کر سمجھنے کی کوشش کریں گے تو پھر ماضی کی طرح ایک نیا پروپیگینڈا اور ایک نئی نفرت انگیز سوچ اسلاموفوبیا کی جگہ لینے میں کامیاب ہو جائے گی ۔


ای پیپر