حکومت کیوں گرے؟
02 اکتوبر 2019 2019-10-02

حکومت گراؤ تحریک کاآغاز ہوا چاہتا ہے۔ اقتداری اتحاد کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی مسلم لیگ نون اور جمعیت العلمائے اسلام (ف) نے لنگر لنگوٹ کس لیا ہے مگر ان میں سے بعض سیاستدان تذبذب کا شکار ہیں کہ مجوزہ تحریک میں شریک ہوا جائے یا نہیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ تحریک ناکام ہو جائے اور حکومت کو تمسخر اڑانے کا موقع مل جائے۔ اس سے ان کے کارکنان، ووٹرز اور سپورٹرز کے حوصلے بھی پست ہونے کا اندیشہ ہے۔ اگرچہ انہیں (کارکنان) ابھی یہ امید ہے کہ مارچ ہوتا ہے تو حکومت گر جائے گی اور پھر ان کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے خلاف فیصلہ سنا دیتا ہے تو ہو سکتا ہے انہیں کوئی ’’کوشش‘‘ نہ کرنا پڑے پوری کی پوری حکومت کافور ہو جائے؟ سوال یہ ہے کہ مارچ کامیاب ہو جاتا ہے یعنی لاکھوں بندے تمام اتحادی جماعتوں کے (حزب اختلاف) اسلام آباد پہنچ جاتے ہیں تو عمران خان گھر چلے جائیں گے ماضی میں ایسی کوئی مثال ملتی ہے کیا میری ناقص معلومات کے مطابق ایسا کوئی سیاسی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ فرض کیا ایسا ہوتا بھی ہے تو حکومت بنانے کے لیے مولانا فضل الرحمن کو کہا جائے گا یا پی پی پی اور مسلم لیگ نون سے درخواست کی جائے گی بالکل نہیں تو پھر یہ سارا زور اور حکمت عملی کس لیے؟

میں اپنے ایک گزشتہ کالم میں عرض کر چکا ہوں کہ محض حکومت کو دباؤ میں لانا مقصود ہے جو روز بروز احتساب کا شکنجہ سخت کرتی چلی جا رہی ہے اور قطعی طور سے کوئی لچک پیدا نہیں کرنا چاہتی اس حوالے سے جو گرفتاریاں ہو رہی ہیں حزب اختلاف کو اس سے بہت پریشانی لاحق ہے کہ کل ان کے مزید اہم عہدیدار بھی پس زنداں دھکیلے جا سکتے ہیں جس سے اس کا بے حد و حساب سیاسی نقصان ہو سکتا ہے لہٰذا اس سلسلے کو کسی نہ کسی طور روکا جائے اس کے لیے اس نے حکومت گراؤ مہم کا راستہ اپنایا ہے۔ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اکٹھا کرنے کے لیے اس نے مہنگائی، بیروزگاری اور بد انتظامی کی بھی آڑ ہے مگر عوام کی اکثریت جانتی ہے کہ اصل بات کیا ہے۔ اگر عوام کا اتنا خیال ہوتا تو اپنے ادوار میں کیوں ان کے مسائل پر توجہ نہیں دی گئی۔ ان سیاسی جماعتوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ عوام کی حالت سدھارنے میں کون سے انقلابی اقدامات کرتی رہی ہیں… جواب نفی میں ہو گا۔

محکمہ پولیس میں اصلاحات کی بات ہوئی مگر کارکردگی زیرو، پولیس اپنی من مرضیاں کرتی رہی کمزوروں کو پکڑنا اور ان پر تشدد کرنا اس کی سرشت میں شامل رہا۔ بیواؤں، یتیموں کی جائیدادوں پر قبضے کروانا اس کا مشن تھا۔ رشوت خوری میں اس نے ریکارڈ قائم کیے ۔ جعلی پولیس مقابلے عام تھے۔ ناجائز کام کوئی بھی تھا اس نے کیا مگر اسے کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ اسی طرح سرکاری اداروں میں اندھیر مچا ہوا تھا۔ خصوصاً محکمہ مال نے بے بس لوگوں کی کھال کھنچ رکھی تھی۔ پٹواری نے دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر رکھا تھا۔ کمیشن خوری میں بھی تمام متعلقہ مافیا پیش پیش رہا۔

سندھ کے اندر جو حالت ہاریوں کی ہے وہ ناقابل بیان ہے سرکاری ہسپتال ہوں یا سرکاری تعلیمی ادارے بری طرح سے متاثر ہیں ایک کچرا نہیں سنبھالا جا رہا ۔ کھربوں کی قومی دولت پر ہاتھ صاف کیے جا چکے ہیں کیے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ ہوتی ہے۔ بیرونی قرضے آنکھیں بند کر کے لیے گئے جو آج سوہان روح بن چکے ہیں اور یہ حقیقت ماننا پڑتی ہے کہ انہیں اتارنے کے لیے اور معاشی بہتری لانے کے لیے نئے نئے ٹیکس لگانا پڑ رہے ہیں۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے جس سے عوام آہیں بھرتے دکھائی دیتے ہیں مگر اتنا نہیں جتنی حزب اختلاف کہتی ہے کیونکہ غریبوں پر معمولی بوجھ ڈالا گیا ہے جو قابل برداشت ہے یہ تو ہونا ہی تھا ایک روز ایسے اقدامات اٹھانے ہی تھے سخت فیصلے کرنا ہی تھے۔ مگر اگر ذرا بروقت یہ سب ہو جاتا تو تکالیف کا احساس بہت کم ہوتا اب امید کی کرن نمودار ہو رہی ہے کہ جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ آنے والے دنوں میں کم ہونے لگیں گی مگر عمران خان سے چونکہ ان جماعتوں کی پرخاش ہے لہٰذا وہ انہیں وزارت عظمیٰ کی کرسی پربراجمان دیکھنا نہیں چاہتیں کیونکہ وہ فی الحال بدعنوان ہے نہ عیار انہیں فقط ملک سے محبت ہے اس کے لیے وہ اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہے ہیں اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ خطاکے مرتکب نہیں ہو رہے۔ ان سے بھی غلطیاں اور کوتاہیاں ہو رہی ہیں مگر وہ اس کا ازالہ کر لینے میں کوئی دیر نہیں لگاتے جسے حزب اختلاف یوٹرن کا نام دیتی ہے۔ اپنی کسی خطا کو تسلیم کر لینا کیا بری بات ہے ہرگز نہیں مگر حزب اختلاف غلطی کو غلطی نہیں سمجھتی نہ شاید اس کا ازالہ کرنا چاہتی ہے وجہ اس کی یہی ہے کہ وہ خطا سوچ سمجھ کر کرتی ہے لہٰذا اسے اس کو ماننے میں دلچسپی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ناقابل تردید ثبوتوں کے باوجود سینہ تان کر حکومت مخالف تحریک چلانے جا رہی ہے مگر عوام کو سب معلوم ہے کہ یہ ’’جدوجہد‘‘ کس لیے ہے…؟؟

یہاں میں یہ عرض کر دوں کہ پی ٹی آئی بطور جماعت کوئی مثالی سیاسی جماعت نہیں اس میں بھی خطا کار ہیں اور ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو سرکاری عہدوں پر فائز رہ کر مزے لوٹنا چاہ رہے ہیں ان میں کچھ وزیر بھی شامل ہین جنہوں نے عوام کو اب تک نظر انداز کر رکھا ہے اور کارکنان سے رشتہ ناتا ختم کیا ہوا ہے یہ وہی لوگ ہیں جو اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں اور حکمرانی کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور یہ بھی تصور کیے ہوئے ہیں کہ ان کے بغیر کاروبار مملکت چل ہی نہیں سکتا جبکہ دور بدل رہا ہے نئے زمانے کے تقاضے کچھ اور ہیں ذرائع ابلاغ نے ذہنوں میں سوچ کے دیے روشن کر دیے ہیں لہٰذا عوام سمجھتے ہیں کہ اصل طاقت وہی ہیں جس کے بل بوتے پر وہ تخت پر بیٹھتے ہیں اور پھر ان پر حکم چلاتے ہیں مگر اب یہ بدلنا چاہیے اسی تناظر میں ہی عمران خان وزیراعظم پاکستان نے نا اہل و کاہل وزراء کو آرام کرنے کا کہا ہے جو وفاق میں بھی ہیں اور صوبہ پنجاب میں بھی… ظاہر ہے یہ عوام خدمت کے جذبے کے تحت ہی کیا گیا ہے وگرنہ کام تو ایسے تیسے چل ہی رہا تھا… عوام بھی عادی ہوتے جا رہے تھے مگر نہیں وزیراعظم ایک سچے اور کھرے انسان ہیں انہوں نے کارکردگی بہتر نہ ہونے پر انہین سرخ جھنڈی دکھا دی ہے۔

بہرحال آنے والے دنوں میں میدان سیاست میں خاصی گہما گہمی نظر آئے گی کچھ لوگ آگے کی طرف بڑھیں گے اور کچھ پیچھے کی جانب پلٹیں گے یعنی کسی کو کامیابی کا یقین ہو گا تو کسی کو ناکامی کا مگر حکومت کے ہاں بھی صورت حال غیر یقینی کی ہو گی کیونکہ وطن عزیز کی ’’سیاست‘‘ گرگٹ کی طرح بدلتی ہے اچھی بھلی حکومت کی گاڑی رواں ہوتی ہے کہ یکدم اسے بریک لگ جاتی ہے۔ حکومتی ارکان مستقبل کے منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں مگر اچانک بوریا بستر لپیٹ دیا جاتا ہے… خیر صورت حال سیاسی ایک نازک موڑ کی طرف مڑ رہی ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے اور نہیں بھی… ویسے کچھ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ رائج نظام میں عمران خان بہتر حکمران ہیں ان سے کوتاہیاں ممکن ہیں مگر وطن سے محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس میں شک و شبے کی ذرا بھر گنجائش نہیں۔ لہٰذا آخری تجزیے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اس دوران وہ حزب اختلاف سے تعلق خاطر بھی قائم کر سکتی ہے مگر احتساب کا عمل بھی جاری رہے گا!


ای پیپر