’’استاد ‘‘ کا منٹو پارک میں بچوں کو ڈانٹنا؟‘‘
02 اکتوبر 2019 2019-10-02

انسان کہیں بھی کسی بھی حال میں مطمئن نہیں ہوتا …

شہباز کو میں نے اپنے فون کی حفاظت کے لیے ’’آلات‘‘ نصب کروا کے لانے کو کہا … میں نے اُسے تاکید کی تھی کہ وہ … موبائل فون پر جو Protector یا Cover لگوائے اُس کا کلر ذرا Reasonable سا ہو … اور پتہ نہ چلے کہ میرا بھی ’’گجرات‘‘ سے تعلق ہے …

’’جی جی … آپ بالکل فکر نہ کریں‘‘ …؟

میں نے فکر نہ کیا … جب وہ فون واپس لایا … تو میری ہنسی نکل گئی … ایک تو بس میں سفر کے دوران میرے فون کی Bell سن کر لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ ’’ریل کار‘‘ کا ہارن بج گیا ہے دوسرا اب یہ میرا فون اور اُس کی ’’یونیفارم‘‘ دیکھ کر صاف پتہ چلے گا کہ میرا تعلق ’’گجرات‘‘ سے بھی ہے، میں دوستوں کو ناراض کرنے کا کبھی بھی ارادہ نہیں کرتا اس لیے … کئی جگہ مجھے دوستوں کی ناراضگی مول لینا پڑ جاتی ہے اپنی اُس ’’مروت‘‘ کے ’’عوض‘‘ …

بہرحال مروت اور محبت میں سب جائز ہے.. دوران ملازمت جو وقت ملتان اور گجرات میں گزرا وہ یادگار تھا کئی اچھے دوست ملے کئی خوش کن تجربات بھی ہوئے... یہ بھی پتہ چلا کہ دوستوں کے ’’ تحفہ‘‘ ’’ لینے‘‘ سے محبت بڑھتی ہے چاہے وہ ’’ لہسن ‘‘ ہی کیوں نہ ہو ... (غور فرمائیں میں نے صرف تحفہ لینے کی بات کی ہے تحفہ دینے کی نہیں ؟!)

پہلے روزے سے ہی چھوٹے بیٹے نے ایک دفعہ اصرار شروع کر دیا … ’’پاپا … بکرا کب لائیں گے‘‘ … میں نے بتایا … ’’بیٹا بکرا عید پر‘‘ … میں نے سمجھا وہ سمجھ چکا ہو گا … مگر تین چار دن بعد اُس نے پھر اصرار کیا اور ساتھ غصے کا اظہار بھی … ’’پاپا بکرا کب لائیں گے؟‘‘ … ’’بکرا عید پر‘‘ … میں نے Routine میں جواب دیا … اور دفتر چلا گیا … شام کو میں نے موٹر سائیکل گھر میں گھمانے کی کوشش کی تو بیٹے نے غصے میں کہا … ’’نہ آج آپ اندر آئیں گے نہ ہی آپ کی موٹر سائیکل پہلے بکرا لے کے آئیں‘‘ …؟ میں نے پھر سمجھایا … ’’بیٹا بکرا عید پہ لائیں گے بکرا‘‘ … اب تو صرف سات دن رہ گئے ہیں عید میں آج 23واں روزہ ہے؟‘‘ … وہ غصے سے بولا … ’’اووف‘‘ … ’’توبہ‘‘ میں سمجھ گیا … کہ بے خیالی میں میں نے اُسے ’’ٹرخانے‘‘ کی جو کوشش کی … اُسے سمجھ نہ آئی اور اُس نے ہر عید کو بکرا عید سمجھ کر دن گننے شروع کر دئیے … مودی کا خیال تھا کہ پاکستان مقبوظہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے گھبرا کر شاید چپ کر جائے گا اور پھر کشمیری خود ہی ... دب جائیں گے ... یا .. . ؟!!ہندو کی مکاری اور گائو ماتا سے محبت بھارت کے کام آجائے گی؟!!

لیکن جو عمران خان نے عالمی سطح پر ایسا خطاب کیا جیسے ’’ استاد ‘‘ منٹو پارک میں بچوں کو ڈانٹ رہا ہو ... تو مت پوچھیئے نریندر مودی اینڈ کمپنی پر کیا گزری؟؟بھارتی چینل ایسی ایسی بکواس اگل رہے ہیں کہ خدا کی پناہ؟!!

اصل میں ہم کبھی کبھی کچھ چیزوں کو ’’لائٹ موڈ‘‘ میں لے لیتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے … جیسا کہ دو تین ماہ تک لوگوں کا خیال تھا کہ فاٹا کا انضمام بھی سیاسی ’’نعرہ‘‘ ہو گا … صدیوں سے یہ نعرہ نعرہ ہی رہا اور ایسے میں حکومتی وعدہ کے طور پر اس حوالے سے بھی تاریخ پہ تاریخ ملتی رہے گی … لیکن پھر جب ساری قانون سازی مکمل ہو گئی … تو صوبہ ہزارہ … صوبہ جنوبی پنجاب والے بھی اب چپ کر گئے ہیں … حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھ رہے ہیں … کیونکہ اُنھیں یقین ہے کہ ہم نے سنجیدگی سے یہ نئے صوبے بنانے والی تحریک کبھی چلائی تو ممکن ہے یہ کام بھی سرعت کے ساتھ ہو جائے اور ہمیں ملتان سے آگے آگے ہی رہنا پڑ جائے اور لاہور پھر لاہور ہی ہو جائے …ویسے جنوبی پنجاب والے عثمان بزدارکو دیکھ کر حیرت زدہ بھی ہیں... اور چپ بھی.. نہ جانے کیوں ؟!!اِس چپ کی وجہ نہ مجھے معلوم ہے نا ہی شاید آپ بیان کر سکیں۔

ایک ہندو اور عیسائی صحرا میں بھٹک گئے …رمضان المبارک کا مہینہ تھا....

دور ایک مسجد نظر آئی …

ہندو بولا … ’’دیکھو وہ مسجد ہے اگر ہم خود کو مسلمان ظاہر کریں گے تو وہاں سے ہمیں کھانے کو کچھ مل سکتا ہے‘‘؟ …

’’ میں اپنا نام احمد بتائوں گا‘‘ …

مگر عیسائی نے خود کو مسلمان ظاہر کرنے سے انکار کر دیا …

مسجد کے امام نے دونوں کا خوش دلی سے استقبال کیا اور نام پوچھا …

ہندو … ’’میرا نام احمد ہے‘‘ …

عیسائی … ’’میرا نام مائیکل ہے‘‘ …

امام صاحب نے ایک شخص کو بلایا اور کہا …

’’مائیکل کے لیے کچھ کھانے کو لائو‘‘ …

پھر ہندو کی طرف مخاطب ہوئے اور کہا …

’’اور … سنائیں … احمد صاحب روزے کیسے گزر رہے ہیں‘‘ …(سمجھ گئے ہوں گے؟!!)

آج سفر کے دوران میری اگلی سیٹ پر میاں بیوی ’’اتفاق‘‘ سے بیٹھ گئے … تین گھنٹے کے سفر کے دوران لڑکی تین منٹ بھی چپ نہ رہی … اوپر سے ساری گفتگو اُس نے بلند آواز میں کی اور پوری بس کو پتہ چل گیا کہ ’’بیچاری‘‘ نے آج بھی ’’کسی وجہ‘‘ سے روزہ نہیں رکھا … ان میاں بیوی کی زندگی نہایت پر سکون گزر رہی ہو گی …؟

میں نے ساتھی اداکار (اوہ سوری … ساتھی مسافر) سے کہا … تو وہ بولے … ’’خاک‘‘ … ’’پرسکون‘‘ گزر رہی ہو گی جو لڑکی تین گھنٹے کے سفر کے دوران (اُس وقت جب پوری بس سو رہی تھی) تین منٹ بھی چپ نہ رہی وہاں بیچارے مرد کو کیا سکون لینے دیتی ہو گی یہ بیوی ؟!…

’’چلو کہہ لو … کہ کامیاب ہو گی ان کی شادی شدہ لائف‘‘ … میں نے پھر اپنی بات پر اصرار کیا …

’’کیسے‘‘ وہ بولا …

’’آپ نے دیکھا … یہ لڑکی تین گھنٹے بولتی رہی اور وہ بیچارہ تین گھنٹے چپ رہا‘‘ … (تابعداری کی عمدہ مثال)

ہاہاہاہا … ساتھی مسافر نے میرے ساتھ گویا اتفاق کر لیا …

میرے دو تازہ اشعار حاضر ہیں ان پر باقی احمد پوری نے بھی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے … ME HAPPY …

آگ پھر وقت سے پہلے ہی بجھا دی جائے

قوم سوئی ہے، ضروری ہے، جگا دی جائے

میرے اشعار نہ نیلام کوئی کر پائے

آج بازار میں ہڑتال کرا دی جائے

اِک اور شعر ملاحظہ کریں.... یہ بھی ابھی آیا ہے... کہاں سے ؟!!

بھئی وہیں سے جہاں سے ہماری بے وزن شاعری آتی ہے ... آپ توجہ سے پڑھتے ہیں اور فیس بک والے بھی Like مار دیتے ہیں . .. ہم بھی تو اُن کی . ...’’بیکار ‘‘ باتوں پر خوامخواہ ... پسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں . ..اِسے کہتے ہیں۔

TIT FOR TAT

زندگی بھر رہے سیکھنے میں مگن

رُوٹھنے کا ہنر اور منانے کا فن


ای پیپر