جائیں تو جائیں کہا…!
02 اکتوبر 2019 2019-10-02

معروف صحافی ،نامور تجزیہ نگار ،منفرد اسلوب کے کالم نگار اور مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے جنرل سیکرٹری جناب رؤف طاہر کے گھر ہونے والی ڈکیتی کی دلیرانہ واردات نے اہل لاہور کو خوفزدہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ہر شخص سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ جناب رؤف طاہر شہر کے ایسے نیک نام سینئر صحافی ہیں جو ہر دوسرے تیسرے روز اپنی تصویر کے ساتھ ایک قومی اخبار کے ادارتی صفحے پر شائع ہوتے ہیں۔ تقریباً ہرروز کسی ٹی وی چینل پر سیاسی تجزیہ کرتے نظر آتے ہیں وہ شہر کے علمی، ادبی، صحافتی اور سیاسی حلقوں ہی میں سرگرم نہیں۔ ملک کے مقتدر ایوانوں میں بھی جانے پہچانے جاتے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ملک کے ہر صدر اور وزیراعظم کے ساتھ ان کی ذاتی شناسائی ہے۔ اگر ایسے شخص کو اس کے تین بچوں کے ساتھ دو گھنٹے تک یرغمال بنا کر گن پوائنٹ پر لوٹا جا سکتا ہے تو ایک عام شہری کا کیا حال ہو گا۔ اہل صحافت میں تو یہ خوف جناب اسد اللہ غالب کے گھر ہونے والی ڈکیتیوں۔ جناب حمید اختر کے گھر ہونے والی ہولناک چوری اور جناب منو بھائی کے گھر کا صفایا ہونے کے دنوں میں بھی پیدا ہوا ہو گا۔ لیکن اب جبکہ میڈیا پر ویسے ہی بہت برا وقت ہے اور ملک پر ’’ریاست مدینہ‘‘ کی حکمرانی کا دعوی ہے۔ ایسے میں یہ واردات خوف کے سائے زیادہ گہرے کر رہی ہے۔ اس واردات کی تفصیل قومی اخبارات کی خبروں کے علاوہ خودجناب رؤف طاہر کے تازہ کالم میں دیکھی جا سکتی ہے جس کے مطابق 24 ستمبر کی رات جب جنا ب رؤف طاہر ،مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کی جانب سے معروف کرکٹر عبدالقادر مرحوم کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس کے بعد گھر پہنچے تو رات 12 بجے کے قریب سات نقاب پوش ڈاکو لیک سٹی میں واقع اُن کے گھر کی عقبی جالی کاٹ کر گھر میںداخل ہوئے پہلے جناب رؤف طاہر اور پھر دوسری منزل پر موجود ان کے تین بچوں کو یرغمال بنا کر 5 لاکھ روپے کیش اور تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کا سونا اور دوسرا سامان سمیٹا۔ اس ’’مال غنیمت‘‘ کو اس گھر میں بیٹھ کر تقسیم کیا اور دو گھنٹے بعد اطمینان کے ساتھ پچھواڑے کے کھیتوں میں اتر کر غائب ہو گئے لیکن یہاں کے مکینوں سے سکیورٹی کے نام پر چھ ہزار روپے ماہانہ لینے والی سوسائٹی کے سکیورٹی سٹاف اور گشت کرنے والے پہریداروں کو معلوم ہو سکا اور نہ اس رہائشی کالونی کے گردرات بھر ناکے لگا کر گشت کرنے والی پولیس کو کوئی خبر ہو سکی۔ رؤف طاہر کے بقول اس واردات کے بعد مقامی پولیس اور لیک سٹی انتظامیہ بہت ایکٹو ہو گئی ہے ہماری رائے میں وہ مزید چند دن ایکٹو رہے گی یا ایکٹو ہونے کا تاثر دے گی اور پھر اللہ اللہ خیر صلا۔

اتنے ہائی پروفائل کیس میں پولیس کو کچھ دان تو ایکٹو ہونا ہو گا۔رہی سوسائٹی انتظامیہ تو اسے اپنی کمزور سکیورٹی کا کوئی تو جواز دینا ہے جبکہ اس کا تو دعویٰ ہی یہ ہے کہ اس سوسائٹی میں سکیورٹی کا سب سے بہترانتظام ہے۔ خود رؤف طاہرنے اسی دعوے سے متاثر ہو کر اس سوسائٹی میں گھر بنایا تھا کیونکہ اس سے قبل واپڈا ٹاؤن میں رہتے ہوئے ان کے ساتھ پہلے ڈکیتی اور پھر صرف ایک ماہ میں چوری کی دو بڑی وارداتیں ہو چکی تھیں۔ پہلی واردات اس وقت ہوئی جب ان کی اہلیہ مرحومہ اپنے بیٹے کے ساتھ گھر پہنچیں اور ابھی گاڑی سے اتر بھی نہیں پائی تھیں کہ موٹر سائیکل سوار ڈاکو آگئے۔ بیٹے آصف سے پرس، موبائل، اس کی والدہ سے بیگ اور موبائل کے علاوہ ہاتھوں میں پہنی ہوئی چھ طلائی چوڑیاں کاٹ کر یہ جا وہ جا… چوری کی واردات اس وقت ہوئی جب ان کی اہلیہ اتفاق ہسپتال میں زیر علاج تھیں اور سارا خاندان وہیں تھا کہ چوروں نے گھر کا صفایا کر دیا۔ جسے بچوں نے اپنی بیمار ماں سے چھپائے رکھا۔ چند دن بعد جب بیگم رؤف طاہر دوبارہ ہسپتال میں تھیں تو چوروں نے دوسری بار گھر کا صفایا کر دیا۔ یہ واردات جس روز ہوئی ، اس سے اگلے روز شدید بیماری کے باعث بیگم رؤف طاہر چل بسیں۔ بیگم رؤف طاہر کے انتقال اور چوری پر اظہار افسوس کے لیے وزیراعظم نواز شریف، بیگم کلثوم نواز، شہباز شریف اور دیگر اہم لوگ ان کے گھر آئے۔ تسلیاں دیں مگر آج تک نہ تو کوئی مجرم گرفتار ہو سکا اور نہ ایک پائی کا مسروقہ مال برآمد ہوا۔ حالیہ واردات اور جناب رؤف طاہر کے کالم کی اشاعت کے بعد گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ کے پرنسپل ڈاکٹر اعجاز بٹ نے فون پر راقم کو بتایا کہ واپڈا ٹاؤن کے ہر تیسرے چوتھے گھر میں چوری یا ڈکیتی کی واردات ہو چکی ہے۔ خود ان کے گھر سے اہل خانہ کی عدم موجودگی میں چور 6 لاکھ روپے کا کیش لے کر فرار ہو گئے۔ بعد میں دو چور پکڑے بھی گئے مگر انہیں ایک پائی واپس نہ ملی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ چوروں نے رقم کھا پی کر ختم کر دی ہے۔ ہمارے ایک دوست پروفیسر اعظم نے لقمہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی بھتیجی چوری کی دو وارداتوں کے بعد یہ کہہ کر ملک چھوڑ گئی کہ جس ملک کے لوگ اپنی ہی بہن بیٹی کو لوٹتے ہوں اور ادارے تحفظ نہ دیتے ہوں وہاں رہنا بہت مشکل ہے۔ سینئر صحافی جناب حمید اختر کے گھر واقع ڈیفنس میں چوری کی ایک بڑی واردات کئی سال قبل ہوئی۔ وہ اس چوری کے بارے میں لکھتے لکھتے مر گئے لیکن چور نہ پکڑے جا سکے۔ خود راقم کی چوری ہونے والی کار اس وقت کے گورنر کی واضح ہدایت کے باوجود آج تک برآمد نہیں ہو سکی۔ جناب رؤف طاہر نے اپنے کالم کے آخری حصے میں تفتیش کے لیے آنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ کچھ عرصے سے تھانوں میں مبینہ پولیس تشدد کی ویڈیوز وائرل ہونے سے پولیس بہت ڈی مورالائز ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جسمانی تشدد کے بغیر چوروں سے چوری اگلوانا ممکن نہیں۔ یقینا سکیورٹی کے کسی ادارے کا ڈی مورالائز ہونا کسی طرح اچھا نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ویڈیو تو گزشتہ کچھ عرصے سے سامنے آنے لگی ہیں جن کا زیادہ شک خود پولیس ہلکاروں ہی پر کیا جا رہا ہے لیکن اس سے قبل تشدد کے ذریعہ پولیس کتنا مسروقہ مال برآمد کرنے میں کامیاب رہی ہے اور کتنا مال متاثرین تک واپس پہنچایا گیا ہے۔ ادارے کی نیک نامی کے لیے ضروری ہے کہ خود پولیس یہ اعداد و شمار جاری کرے کہ فلاں سال اتنی مالیت کا سامان چوری ہوا یا لوٹا گیا اور اس کا اتنا فیصد برآمد کر کے مالکان تک پہنچا دیا گیا۔ سو جناب رؤف طاہر کو پولیس سے بھرپور تعاون کرتے ہوئے مجرموں کی تلاش جاری رکھنی چاہیے اور اپنی رہائشی سوسائٹی کے خلاف نقصان کی تلافی کے لیے دعویٰ دائر کرنا چاہیے کہ وہ گزشتہ کئی سال سے ان سے اور سوسائٹی کے دوسرے رہائشیوں کے کروڑوں روپے سکیورٹی کے نام پر وصول کر رہی ہے۔ اس لیے ان کے نقصان کی تلافی کرے کیونکہ سوسائٹی کے سکیورٹی انتظامات کا ناقص ہونا اس واردات نے ثابت کر دیا ہے۔ حکومت بھی اس معاملے پر غور کرے کہ کیاپرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے اپنے اپنے سکیورٹی انتظامات کے ذریعے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کیا جا سکتا ہے یا خود ریاست کو یہ ذمہ داری لینا ہوگی۔


ای پیپر