نئے پاکستان میں ’ وائسرائے‘ کی واپسی
02 اکتوبر 2019 2019-10-02

وائسرائے ‘ کا لفظ اور عہدہ ہمارے لئے انگریز دور کی یادگار ہے، یہ ایک ایسا سرکاری عہدیدار ہوتا ہے جو کسی ملک،صوبے، کالونی یا ریاست کو وہاں کے اصل حکمرانوں کے ایما پر چلاتا ہے، ’ وائس‘ لاطینی لفظ ہے جس کا مطلب ہے’ کی جگہ پر‘ اور ’ رائے‘ فرانسیسی کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’بادشاہ‘ یعنی بادشاہ کی جگہ پر۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئے پاکستان میں اسی وائسرائے کی واپسی ہو رہی ہے اورسوال کا جواز یوں ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت جو بلدیات کا قانون لا رہی ہے اس میں ضلعے کی سطح پر بلدیاتی نظام ہی موجود نہیں ہے حالانکہ برصغیر میں ضلعے ہی سب سے اہم اور مو¿ثرانتظامی یونٹ رہے ہیںجو ڈویژنوں یا تحصیلوں کے مقابلے میںاپنی سیاسی، ثقافتی، تاریخی اور علاقائی پہچان رکھتے ہیں مگر نئے بلدیاتی نظام کومبینہ طور پر تحصیل کی سطح تک محدود کیا جا رہا ہے اور ضلعے میں تمام تر اختیارات ڈپٹی کمشنر کے پاس ہوں گے جوکسی بلدیاتی نظام کے پاس ہو سکتے ہیں۔

کیا آپ ڈپٹی کمشنر کی طاقت اور اختیارات کا اندازہ لگا سکتے ہیں جس کی جوابدہی کے لئے کوئی منتخب ادارہ ہی موجود نہ ہو ، ویسے معذرت کے ساتھ اب تک جتنے بھی بلدیاتی نظام رہے ہیں ان میں بیوروکریسی ہمیشہ سیاستدانوں سے طاقتور رہی ہے مگر اس کے باوجود سیاسی ادارے موجود رہے ہیں، کام کرتے ،عوام کو جواب دیتے رہے ہیں مگر نئے پاکستان کی حقیقی جمہوریت میں ضلعی سطح پر یہ تکلف بھی ختم کیا جا رہاہے اورایک بیوروکریٹ کو گھنٹہ گھر بنایا جا رہا ہے۔ آپ یہ سوال کرسکتے ہیں کہ جب ہمیشہ سے بیوروکریسی ہی طاقتور رہی ہے تو براہ راست طاقت دینے میں کیا حرج ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں غلامانہ دور سے باہر نکلنا ہے نہ کہ ریورس گئیر لگانا ہے۔ اگر آپ ایک عام شہری ہیں تو آ پ کو میری بات اس طرح سمجھ آسکتی ہے کہ آپ کسی بیوروکریٹ کے دفتر میں ڈائریکٹ داخل نہیں ہوسکتے مگر ایم این اے، ایم پی اے اور کونسلر کے دفتر کا دروازہ بند نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح آپ اپنے علاقے کے ایم پی اے کے خلاف احتجاج کر کے اس پر جو چاہے الزام لگا سکتے ہیں مگر آپ یہی جرا¿ت اپنے علاقے کے ایس ایچ او کے خلاف نہیں کرسکتے کہ اس کا آپ کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا ویسے سب وضاحتیں غیر ضروری ہیں کیونکہ مہذب معاشرے سیاسی اور جمہوری اداروں کے ذریعے ہی چلتے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر جو گریڈ اٹھارہ کے افسران بھی لگا دئیے جاتے ہیںاور گریڈ انیس، بیس کے بھی، پورا ضلع اس افسر کی صلاحیتوں پر انحصار کرتا ہے اور یہ صلاحیتیں قابلیت اور محنت کے ساتھ ساتھ خوشامد اور چاپلوسی کی بھی ہوسکتی ہیں۔ جب یہ افسران پورے ضلعے کی ترقیاتی سکیموں کے انچارج بنیں گے تو یقینی طور پر وہ وائسرائے بن جائیں گے۔ انہیں پوچھنے یا بتانے کے لئے کوئی لارڈ مئیر یا ضلعی ناظم موجود نہیں ہو گامگر یہ ڈپٹی کمشنر صرف بلدیاتی اختیارات سے وائسرائے نہیں بنے گا بلکہ پی ٹی آئی کی حکومت پولیس کے نظام میں اصلاحات کے نام پر پولیس کو بھی ڈپٹی کمشنر کے ماتحت کر رہی ہے جس کے بعد ڈپٹی کمشنر تھانوں پر چھاپے مار سکے گااور پولیس کا سربراہ ، ضلعی انتظامیہ کے سربراہ کو جوابدہ ہو گا۔ جب ہم پولیس کے نظام میں خرابیوں کو دیکھتے ہیں تو فوری طور پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں کہ پولیس اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن میں ملوث ہے، اس کی کسی طرح بھی روک تھام ہو تو ضرور ہونی چاہئے۔ ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی پولیس اور وکلاءکے درمیان جنگ جاری ہے۔ ایک وکیل صاحب نے انہی دو بنیادوں پر پولیس کو ڈپٹی کمشنر کے ماتحت کرنے کی حمایت کی تومیری دلیل تھی کہ پھر عدلیہ کو بھی ڈپٹی کمشنرکے ماتحت کردینا چاہئے کیونکہ وہاں بھی فیصلے تاخیر کا شکار ہیں، کرپشن کی بے شمار شکایات ہیں اور وکلا بھی ہڑتالیں وغیرہ کر کے انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں لہٰذا ان کی حاضری بھی ڈپٹی کمشنر آفس میں ہی لگنی چاہئے۔ پولیس پر قبضہ ہمیشہ سے ہی بیوروکریسی کا خواب رہا ہے مگر پنجاب پر سیاسی طور پر پختہ لوگوں کی حکومت کی وجہ سے یہ منصوبہ ناکام ہوتا رہا ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں پولیس کے ضلعی سربراہ کی اے سی آر لکھنے کا حق ضلعی ناظم کو دیا گیا تھا مگر چودھری پرویز الٰہی نے اس ضلعی نظام کی جو بہت ساری چیزیں واپس کروائیں ان میں مجسٹریسی نظام کی بحالی کے ساتھ ساتھ اس اختیار کا خاتمہ بھی تھا حالانکہ ضلعی ناظم ایک سیاسی منتخب عہدہ تھا مگر اس اختیار کے اپنے مضمرات تھے۔ شہباز شریف جیسے کائیاں شخص کے دور میں تو یہ معاملہ لٹکا ہی رہا کیونکہ پولیس خود مختار ہونا چاہتی تھی اور بیوروکریسی اسے اپنے پنجوں میں دبوچنا چاہتی تھی ۔

آئینی اور جمہوری نظاموں میں اختیارات ( یا ذمہ داریوں) کی مختلف اداروں میں تقسیم ہوتی ہے جبکہ یہ آمریت ہی ہوتی ہے جس میںتمام اختیارات کا مرکزایک آمر اور اس کے کچھ غیر منتخب نمائندے ہوتے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا گٹھ جوڑ حکومت کی بدترین ٓمریت قائم کر دے گا، گستاخی معاف، ڈپٹی کمشنر ترقیاتی کاموں سے امن و امان تک ہر شے میں اتنا بااختیار ہوگا کہ اپنے ضلعے میں سورج طلوع اور غروب ہونے کا بھی فیصلہ کر سکے یعنی وہ ڈپٹی کمشنر کو وائسرائے سے بھی آگے بڑھ کرضلعے میں ایک چھوٹا موٹا خدا بنانے جا رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جہاں پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن کھڈے لائن لگے ہوئے ہیں وہاںاس معاملے میں ان کی وزرا کی سطح کی سیاسی ٹیم بھی اپنے اپنے ضلعے میں ایک بیوروکریٹ کی دست نگر ہوجائے گی۔ اس کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ کیا پی ٹی آئی کی حکومت کوئی ایسا آرڈیننس بھی جاری کرے گی جس میں وہ اپنے بنائے ہوئے ان ڈپٹی کمشنروں کے سو ہاتھ اور سوپاو¿ں بھی بنا دے تاکہ وہ اپنے اپنے علاقے میں چالیس ، چالیس محکموںکو کنٹرول کر سکیں۔

تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ آئی جی صاحبان کی ملاقات کے بعد جناب عمران خان نے پولیس افسران کو ہی حکم دیا ہے کہ اگر وہ اس تبدیلی کو تسلیم نہیں کرتے تو ایک ہفتے متبادل نظام دیں اور مجھے ایک بار پھر حیران کر دیا ہے کہ حکومت کس ہوچ پوچ طریقے سے چلائی جا رہی ہے کہ پولیس سے ان پٹ تو ضرور لی جانی چاہئیے مگر اسی پولیس سے نظام مانگنا جس کو درست کرنا ہے عجیب و غریب ہے۔ اگر یہ اہم ترین کام پولیس یا کچھ سلیکٹڈ لوگوں نے ہی کرنا ہے تو پھر اسمبلیوں کا کیا کام ہے۔ پولیس سمیت دیگر سٹیک ہولڈروں سے تجاویز لیجئے اور انہیں اسمبلی کے سامنے رکھئے۔ اپنے منتخب نمائندو ں کو رائے دینے کا حق دیجئے اور ان کی رائے پر اعتماد بھی کیجئے۔ اس وقت ایک طرف بلدیات کا نظام تہہ وبالا کیا جاچکا ہے تو دوسری طرف جناب عمران خان کے کزن نوشیرواں برکی نے صحت کے نظام میں زلزلہ برپا کر رکھا ہے تیسری طرف سرکاری جامعات کے بجٹ میں پچاس فیصد کٹوتی نے بھی تباہی مچا رکھی ہے اور اگر کوئی کسر رہ گئی تھی تو وہ پولیس کے نظام میں ناتجربہ کاروں کے تجربات سے پوری ہوجائے گی۔خود پولیس افسران کہتے ہیں کہ اگر ان کا محکمہ انتظامیہ کے ماتحت ہوگا تو وہ عوام کوپہلے سے زیادہ مارے گا کیونکہ دونوں محکمے مل کر حکومت کی رٹ قائم کریں گے۔ مجھے حیرت ہے کہ نئے پاکستان کا مطلب یہ کیسے ہو گیا کہ انگریز کے دور کا پاکستان بنا دیا جائے؟


ای پیپر