ٹریفک وارڈنز آپے سے باہر ,لاہور ہائیکورٹ نے نو ٹس لے لیا
02 اکتوبر 2018 (17:27) 2018-10-02

لاہور:لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی اکبر قریشی نے ٹریفک وارڈنز کی جانب سے صحافی کی ویڈیو بنانے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سماعت کے دوران جسٹس علی اکبر قریشی نے کا کہ ٹریفک وارڈنز کا کا صرف چالان کرنا ہے ویڈیو بنانا نہیں۔ جسٹس علی اکبر قریشی نے وارڈنز کی جانب سے صحافیوں سمیت دیگر شہریوں کی ویڈیوز اور تصاویر بنانے پر پابندی عائد کردی۔عدالت نے صحافی کی ویڈیو بنانے پر ٹریفک پولیس پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کس قانون کے تحت وارڈن نے صحافی کی ویڈیو بنائی؟ جسٹس علی اکبر قریشی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب صحافی نے کہہ دیا تھا کہ میرا چالان کرو تو پھر ویڈیو کیوں بنائی؟ وارڈنز فوج ظفر موج سڑکوں پر کھڑے خوش گپیو ں میں مصروف رہتے ہیں۔

جسٹس علی اکبر قریشی نے چیف ٹریفک پولیس آفیسر کیپٹن لیاقت کو آج (بدھ کو ) عدالت طلب کرلیا اور کہا کہ صحافی ہو یا کوئی شہری کسی کی تذلیل برداشت نہیں کریں گے۔ وارڈنز کا کام صرف چالان کرنا ہے اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔صحافی برادری خود کہتی ہے کہ اگر کوئی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کا چالان کریں ۔ اظہر صدیق نے کہا کہ ٹریفک وارڈنز نے عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا جس پر عدالت نے چیف ٹریفک پولیس آفیسر کیپٹن لیاقت کو کل عدالت میں طلب کر لیا۔ یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی ۔

ایک ٹریفک وارڈن نے صحافیوں کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جس پر ٹریفک وارڈنز کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے اور اس پر بحث کا آغاز ہونے پر لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس علی اکبر قریشی نے نوٹس لے کر ٹریفک وارڈنز کو سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ دوسری جانب سی ٹی او لاہور ملک لیاقت نے بھی ٹریفک وارڈنز کو صحافیوں کی ویڈیوز بنانے سے منع کر دیا ہے اور ویڈیو بنانے والے ٹریفک وارڈنز کی سرزنش بھی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹریفک وارڈنز کو ویڈیوز بنانے سے منع کر دیا ہے البتہ چالان ضرور ہوں گے۔


ای پیپر