عبدالعلیم خان کے پاس وزیر اعلیٰ پنجاب کے اختیارات 
02 اکتوبر 2018 (13:32) 2018-10-02

لاہور: وزیر بلدیات پنجاب عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ ان کے پاس کئی اختیارات ہیں تاہم وہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جانب سے دیے گئے ہیں۔

عالمی ادارے کو ایک انٹرویو کے دوران علیم خان نے اس تاثر کی نفی کی کہ صوبے کے بظاہر وزیراعلیٰ عثمان بزدار ہیں لیکن حقیقی اختیارات ان کے پاس ہیں۔علیم خان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کئی اختیارات ضرور ہیں مگر وہ وزیراعلیٰ کی طرف سے دیے گئے ہیں انہوں نے کہا اگر میں آپ کو یہ ذمہ داری دے دوں کہ کل آپ وزارتِ بلدیات کے اجلاس کی صدارت کرلیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وزیر آپ بن گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مجھے کہا ہے کہ آپ 100 روزہ پلان دیکھ لیں، یا جو محکمے ہیں انہیں بلا کر ان کی کارکردگی چیک کرلیں۔ اگر وزیراعلیٰ نے صاف ستھرا پنجاب منصوبے کی سرپرستی ان کی ذمہ داری لگائی ہے تو یہ اختیارات وزیراعلیٰ نے دیے ہیں، اگر وہ نہ دیتے تو کسی اور کو دے دیتے۔علیم خان کا کہنا تھا کہ جتنے اختیارات انہیں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جانب سے منتقل ہوئے ہیں وہ وہی کر رہے ہیں، اس سے زیادہ نہیں۔ وزیر بلدیات پنجاب علیم خان نے کہا کہ ان کی وزارت نے نئے نظام کے حوالے سے سفارشات کا مسودہ تیار کر لیا ہے جو رواں ہفتے منظوری کے لیے وزیراعظم عمران خان کو بھیج دیا جائے گا۔سابق صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ نے تمام تر اختیارات اپنے پاس رکھے اور شہروں کے میئر مکمل طور پر بے اختیار تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے بلدیاتی نظام میں بلدیاتی نمائندے انتظامی اور معاشی طور پر مکمل با اختیار ہوں گے اور پہلی مرتبہ دیہات اور شہر میں محلے کی سطح پر کونسلیں قائم کی جائیں گی تاکہ عوام کو اپنے چھوٹے بڑے مسائل کے حل کے لیے دور نہ جانا پڑے۔علیم خان نے کہا کہ میئر شہر کے تمام تر معاملات کا انچارج ہوگا اور تمام ادارے اس کے ماتحت کام کریں گے جب کہ میئر کو ووٹ کے ذریعے عوام خود منتخب کریں گے یعنی لاہور کے لوگ اپنا میئر خود منتخب کریں گے۔


ای پیپر