فوٹوبشکریہ فیس بک

جرات مند کمانڈو کیوں پاکستان نہیں آتا؟ چیف جسٹس کا مشرف کے وکیل سے سوال
02 اکتوبر 2018 (11:51) 2018-10-02

اسلام آباد: این آر او کیس میں سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو جواب داخل کرانے کیلئے 11 اکتوبر تک کی مہلت دیدی۔

تفصیلات کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کی وطن واپسی کے معاملے پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ پہنچنے تک پرویز مشرف کو گرفتار نہ کیا جائے۔

این آر او کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کی وطن واپسی کے معاملے پر سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں محمد ثاقب نثار نے سپریم کورٹ میں کی۔ اس موقع پر پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ نے عدالت میں پیش ہو کر موقف اپنایا کہ پرویز مشرف کو سیکیورٹی خدشات ہیں وہ پاکستان نہیں آسکتے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مشرف غداری کیس میں مقدمات کا فیصلہ قانون کے مطابق ہوگا، استفسار کیا کہ کمانڈو کہتا تھا جرات مند کمانڈو ہوں اب جرات کا مظاہرہ کرے جبکہ جرات مند کمانڈو کیوں پاکستان نہیں آتا؟

سابق صدر کے وکیل نے کہا کہ مشرف کو بہت سنجیدہ نوعیت کی بیماری ہے، شاید میرے پاس بھی ان کو جا کر دیکھنے کیلئے وقت کم ہے، عدالت اگر چاہے تو رپورٹ چیمبر میں جا کر دیکھ سکتی ہے جبکہ پرویز مشرف کو وطن واپسی پر سیکیورٹی کا بہت مسئلہ ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پرویزمشرف کو وطن واپسی پر رینجرز کی سیکیورٹی فراہم کی جائے اور سپریم کورٹ پہنچنے تک پرویز مشرف کو گرفتار نہ کیا جائے۔

وکیل اختر شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پرویز مشرف پر بہت کیسز ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ پرویز مشرف کے خلاف تمام کیسز کا ریکارڈ طلب کر لے گی لیکن مشرف صاحب کو آنا چاہئے وہ بڑی ہمت والے کمانڈر ہیں۔

سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کو جواب داخل کرانے کیلئے 11 اکتوبر تک کی مہلت دے دی اور حکم دیا کہ اس عدالت میں این آر او کیس میں پیشی سے قبل پرویز مشرف کو کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے جبکہ پرویز مشرف جس ایئرپورٹ پر اتریں انھیں رینجرز کی سیکیورٹی فراہم کی جائے۔


ای پیپر