بیانیوں کی کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ
02 نومبر 2020 (13:33) 2020-11-02

قوم کو بیانیوں کی جنگ میں الجھا دیا گیا تاکہ بنیادی مسائل پر عوامی رد عمل اور شور شرابے سے بچا جاسکے۔ ماضی قریب و بعید میں سیاستدان بیان دیتے تھے جو سوچ سمجھ کر دیے جاتے تھے اب بیانات کی جگہ بیانیوں نے لے لی ہے۔ یہ بھاری بھرکم بیانات کی چھوٹی سی قسم ہے جن کے لیے سوچنے سمجھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بھاری بھرکم سیاستدان اللہ کو پیارے ہوگئے۔ تیسری جنریشن کے سیاستدان عوام کو پیارے ہیں اس لیے پیار پیار میں عوام کا ناطقہ بند کیے ہوئے ہیں۔ بیانات میں وزن ہوتا تھا بیانیے بے ربط لیکن بے رنگ اور بے بو نہیں، وقت کے ساتھ ان میں حماقت کا رنگ، تعصبات کی بو غالب آنے لگی ہے۔ ٹوئٹس (بیانیہ کی کمتر قسم) نے تو بیانات کی قدر و قیمت پاکستانی روپے سے بھی گھٹا دی ہے۔ عوام ان بیانیوں اور رنگا رنگ ٹوئٹس سے تنگ آ گئے ہیں۔ خواہ مخواہ کا ذہنی خلفشار، سیاست مچھلی منڈی بن کر رہ گئی ہے۔ ایک بیانیہ پر دو دن شور شرابہ تیسرے دن دوسرا بیانیہ پھر اس میں ہلڑ بازی، ٹی وی چینلز، قومی اسمبلی، سینیٹ ہلڑ بازی کے مرکز، کوئی روک تھام، کوئی نوٹس نہیں، عوام حکومت کے نوٹس سے خوفزدہ ہیں۔ اس نے نوٹس لیا تو ہلڑ بازی کسی اور بازی میں بدل جائے گی۔ روک تھام نہیں اضافہ ہوجائے گا۔ بالکل مہنگائی کی طرح نوٹس لیا تھا، مہنگائی سر چڑھ کر بولنے لگی چینی پچاس پچپن سے 120 روپے کلو (وفاقی وزیر نے خوشخبری سنائی 25 ٹن چینی درآمد کرلی، 15 روپے کم ہوجائے گی تب بھی 100 یا 105 روپے کلو ملے گی) آٹے کا نوٹس لیا آٹا 80 روپے کلو، سبزیوں کی قیمتوں نے ہوش اڑا دیے پیاز سو روپے کلو، ٹماٹر 70 سے 80 روپے پاؤ یعنی تین سوا تین سو کلو، دالوں کو ہاتھ لگانے کو جی نہیں چاہتا۔ آٹا ہاتھ نہیں آرہا، مہنگی چینی نے منہ کا ذائقہ کڑوا کر دیا۔ ادارہ برائے پائیدار ترقی کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ مہنگائی پاکستان میں ہے۔ یہاں مہنگائی کی شرح 9 فیصد، بھارت میں 7.34، بنگلہ دیش میں 5.97 سری لنکا میں 41 فیصد ہے پاکستان میں آٹا 86 روپے کلو، بھارت میں 28 روپے، بنگلہ دیش میں 41 ٹکا، پاکستان میں پیاز 100 روپے کلو بھارت میں 55 بنگلہ دیش70 سری لنکا میں 85 روپے میں دستیاب، چینی اور گندم سکینڈل سے ملک کو 404 ارب ڈالر کا نقصان ہواچینی سے 184ارب، گندم سے220ارب برباد ہوئے کیا کم ہیں؟ اس پر کوئی بیانیہ نہیں آتا کوئی ہلڑ بازی نہیں ہوتی، بیانیوں میں اکثر و بیشتر جو الفاظ استعمال ہوتے ہیں ان میں مذمت، تشویش، نوٹس، حکم، ہدایت، برہمی، انکوائری، اظہار افسوس،چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اجازت نہیں دیں گے، برداشت نہیں کیا جائے گا کے الفاظ شامل ہوتے ہیں لیکن کثرت استعمال سے یہ الفاظ اپنی قدر و قیمت کھو چکے ہیں۔ مثلاً مذمت سے کوئی فرق نہیں پڑتا، تشویش سے اپنا خون جلتا ہے۔ نوٹس پر کوئی توجہ نہیں دیتا، حکم سنتے ہی بے اختیار ہنسی چھوٹ جاتی ہے، ہدایت پر کوئی عمل نہیں کرتا، برہمی پر اپنا بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے۔ انکوائری مٹی پاؤ فارمولے کا حصہ ہوتی ہے۔ اظہار افسوس واجبی عمل، چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ نہ بیٹھیں کسی کا کیا بگڑے گا جب چاہیں گے جہاں چاہیں گے دھماکے کریں گے اب تو مساجد اور مدرسے بھی ظالموں سے محفوظ نہیں، اجازت نہیں دیں گے، کون مانگ رہا ہے۔ آج تک کسی دہشت گرد نے دھماکوں کے لیے تحریری اجازت مانگی؟ برداشت نہیں کریں گے۔ نہ کریں کوئی فرق نہیں پڑتا، وقت کے 

ساتھ برداشت کی عادت ہوجائے گی۔ حکومتی بیانیوں کے باوجود عوام کے مسائل کیوں بڑھ رہے ہیں۔ ڈھائی لاکھ سرکاری بیانیوں کے جواب میں اپوزیشن اور عوام کے تین لاکھ بیانیوں میں کہا گیا کہ اس کی وجہ فیصلوں میں تاخیر، غلط فیصلے، نا اہل ٹیم ہے، نا تجربہ کاری قیامت ڈھا رہی ہے، وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں وفاقی وزیر بھی پھٹ پڑے فرمایا مافیا تبدیلی میں رکاوٹ بیورو کریسی عدم تعاون پر کمربستہ، کیامافیاز اور بیورو کریسی غیر ملکی ہے؟ اپنی ہے تو قابو میں کیوں نہیں؟ مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے، حکومت کا پورا فوکس اپوزیشن کے خلاف بیانیوں پر ہے، کسے دبایا جائے نہ دبے تو کیسے دھمکایا جائے، باز نہ آئے تو نیب کے ذریعے پکڑ کر جیل کے ننگے فرش پر کیسے سلایا جائے۔ ایک طرف مہنگائی، بد امنی، نا اہلی، زیادتی کیسز میں روز افزوں اضافہ، بم دھماکے، دوسری طرف منا بھائی ایم بی بی ایس  لگے رہو کوئی نہیں چھیڑے گا جو چھیڑے گا اسے نہیں چھوڑیں گے۔ 

بیانیوں اور بہکی بہکی باتوں کے نقصانات عوام کے ذہنوں اور منفی اثرات ملکی سیاست پر پڑنے لگے ہیں۔ حساس اور ان کیمرا معاملات زیر بحث آ رہے ہیں، نری حماقت، غیر دانش مندانہ سوچ اور بیوقوفی، کشمیر پر غیر مؤثر پالیسی، نری باتیں، بیانیے، دعوے مودی کو چیلنج، اچھل کود، آنیاں جانیاں، اوئے ہندو قصائی اب کے مار، گجرات کے قصائی نے گفتار کے غازیوں کی 

گہرائی کا اندازہ لگایا اور کشمیر آئینی طور پر ہڑپ کرلیا، مگر مچھ سے اگلوانے میں مزید سو سال لگیں گے۔ غیر مسلم قوتوں نے ہماری (عالم اسلام شامل) بے حسی اور نرے بیانیوں پر اکتفا کرنے کی عادت کے پیش نظر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کو معمول بنا لیا۔ صرف بیانیوں پر اکتفا باتوں کے گولے داغے جا رہے ہیں۔ اور اپنی کم عقلی اور حماقت میں ریڈ لائن کراس کر رہے ہیں بھارت نے پلوامہ حملے میں ایسی منہ کی کھائی کہ اب تک زخم سہلا رہا ہے۔ رات کے اندھیرے میں حملہ کیا ہماری بہادر افواج نے دن کی روشنی میں منہ توڑ جواب دیا۔ ابھی نندن پکڑا گیا چائے پلا کر چھوڑ دیا گیا۔ کیوں؟ اسٹیٹ سیکرٹ، غیرت مند ہوتا تو مونچھیں منڈوا کر گنگا میں ڈوب مرتا، جو بھی کارروائی ہوئی ان کیمرا اجلاسوں کی روداد منظر عام پر کیسے آ گئی نہیں آنی چاہیے تھی۔ اسٹیٹ سیکرٹ ملک و قوم کی امانت ہوتے ہیں انہیں ڈی سیکرٹ کرنا نا مناسب ہی نہیں انتہائی غلط لیکن واہیات اور قابل اعتراض بیانیے دونوں طرف سے آ رہے ہیں۔ شرمناک بات ہے کہ 12 ربیع الاول نبی ختمی مرتبتؐ کی آمد کا دن عوام آقائے دو جہاں کی محبت و عقیدت میں سرشار لیکن بیشتر ٹی وی چینلز اس روز بھی ٹاک شوز میں بیانیے کو روتے رہے، چینلز ہی اس جنگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ ابھی نندن کی رہائی سے متعلق سابق سپیکر ایاز صادق کے قومی اسمبلی میں بیان پر بیانیوں کے ڈھیر لگ گئے۔ ان کی وضاحت بھی کام نہ آئی معاملہ بے وقوفی اور حماقت سے غداری تک جا پہنچا۔ شبلی فراز نے کہا ”بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو“ معاملہ عدالت لے جانے کا عندیہ، ایاز صادق نے ”بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی“ بڑے بے ادب ہیں لیکن کوئی وزیر خارجہ سے بھی تو پوچھ لے، انتہائی زیرک، محتاط گفتگو کرنے والے وزیر خارجہ، پیپلز پارٹی کے سائے میں بال سفید کرنے والے تجربہ کار شاہ محمود قریشی ان کیمرا اجلاس میں کیا ایجنڈا لے کر گئے تھے کہ ان پر بقول ایاز صادق گھبراہٹ طاری رہی اور ایاز صادق کو کہنا پڑا ”پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے“ یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ ابھی نندن کو رہا نہ کیا گیا تو بھارت رات 9 بجے حملہ کردے گا بھارتی گیدڑوں کو تو ہماری مسلح افواج ناکوں چنے چبوا چکی تھی ہمارے بہادر جوان ”خدا سے ڈرنے والے موت سے ہر گز نہیں ڈرتے“ شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن، پھر بزدلی کا بیانیہ کس نے دے کر بھیجا، کیا پنڈی کے شیخ کو ان کے موکلوں نے بتا دیا تھا شاہ محمود سے پوچھا جانا چاہیے کہ انہوں نے بقول ایاز صادق یہ کہا تھا یا نہیں، کہا تھا تو کیوں کہا، کیا اس سے ریاست اور 21 کروڑ پاکستانی عوام کی سبکی نہیں ہوئی ادھر مودی قصائی اپنے دیوتا بندروں کی طرح خوشی میں قلابازیاں کھا رہا ہے کہ پاکستان میں غداروں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، کیا مناسب نہ ہوگا کہ اس مسئلہ کو یہیں ختم کردیا جائے اور سیاستدانوں کو آئندہ ایسی حماقت نہ کرنے کا مخلصانہ مشورہ دیا جائے، غدار دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ ایک کو غدار قرار دیا تھا آدھا ملک کٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔ اب کیا ارادے ہیں اللہ میاں اپنا کرم کرے اگر غداروں کی تعداد اسی طرح روز افزوں بڑھتی رہی تو بقول محترم عبداللہ طارق سہیل آئندہ مردم شماری کے بجائے ”غدار شماری“ کرانا پڑے گی۔ بیانیوں کی جنگ کب کہاں اور کیسے ختم ہوگی مشکل ٹاسک ہے لیکن اگر ملکی معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرلیا جائے اسٹیٹ سیکرٹس کے معاملے میں احتیاط برتی جائے اور بقول شیخ رشید مذاکرات کے ساتھ دل کے دروازے بھی کھول دیے جائیں تو پی ڈی ایم کے 22 نومبر کے آئندہ جلسے سے قبل معاملات میں پیش رفت ممکن ہے ایسا نہ ہوا تو دسمبر اہم ہوگا حکومت گئی یا پی ڈی ایم، دمادم مست قلندر کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔


ای پیپر