آمنے سامنے کا مقابلہ
02 نومبر 2020 (13:22) 2020-11-02

اپوزیشن اور حکومت کے درمیان محاز آرائی اورالزامات کی جنگ سے سیاسی درجہ حرارت کافی اوپر جا چکا ہے۔ جس کی حد ت گلگت بلتستان تک بھی جا پہنچی ہے۔ جہا ں اگلے ماہ انتخاب ہونے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کر چکی کہ اگر یہ الیکشن 2018 جیسے ہوئے وہ انہیں بھی قبول نہیں کریں گے۔ وزیر امور کشمیر امین گنڈا پور کا یہ بیان سامنے آ چکا ہے کہ جتنے ووٹ سے ہمارے امید وار جیتیں گے اتنے کروڑ کے ترقیاتی فنڈ ان کو ملیں گے۔ اب وزیر اعظم نے ایک روزہ دورہ کے موقع پر گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا اعلان کردیا۔ وہ اس موقع پر تنقید کرنا نہ بھولے خاص طور پر ایاز صادق کا نام تو وہ بالکل نہیں بھولے عمران خان کا کہنا تھا ”آج ہم پاکستان کے میر جعفر، میر صادق اور میر ایاز صادق کو دیکھ رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو آج نریندر مودی کی زبان بول رہے ہیں، ان کا مقصد ایک ہے، کسی طرح انہیں بلیک میل کر کے این آر او لے لیں، قوم پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کبھی ان ڈاکوؤں کو معاف نہیں کروں گا۔ اس پر میڈیا کافی شور مچا چکا ہے مگر کچھ لوگ تو اپنی کریز سے باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ان کو کریز چھوڑنا پڑتی ہے۔ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی شاہ محمود کی شعلے اگلتی تقریر سے مشتعل ہوئے اور ایسا کچھ کہہ دیا جس نے پوری قوم کو دنگ کر دیا۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی اس میں کود پڑی۔ان کو اس لڑائی میں کیوں آنا پڑا۔سردار ایاز صادق جیسے صلح جو اور نرم مزاج نے جو بات کہی اس کو سردار ایاز صادق نے اپنی وضاحت میں بتا دیا تھا انہوں نے قومی سلامتی کے اجلاس کے حوالے سے تقریر نہیں کی تھی۔ بلکہ انہوں نے شاہ محمود اور ان کے درمیان جو بات جیت ہوئی اس کا ذکر قومی اسمبلی میں کیا تھا۔ وزیر اعظم کا گلگت بلتستان کے دورہ پر ایاز صادق کو نہ بھولنے کی وجہ کافی پرانی ہے۔ ماضی میں دونوں کا انتخابی حلقہ ایک تھا۔ اس حلقے سے وہ دو مرتبہ عمران اور ان کی پارٹی کے امیدواروں کو شکست دیتے آئے ہیں۔ وہ ناقابل شکست رہے ہیں 2013 کے انتخاب میں ایاز صادق اسی حلقے سے کامیاب ہوئے تو دھاندلی کے ایشو کو لے کر عمران خان نے چار حلقے کھولنے کا جو مطالبہ کیا تھا ان میں سردار ایاز صادق کا حلقہ بھی شامل تھا۔ مشکوک ووٹوں کی بنیاد پر یہ انتخاب کالعدم ہو گیا ایاز صادق کو سپیکر کا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ دوبارہ انتخاب میں عمران خان نے علیم خان کو ان کے مقابلے میں اتارا۔ اپنے دھاندلی کے بیانیے کو درست ثابت کرنے کے لیے ایاز صادق کو شکست دینا ضروری تھا۔عمران خان خود اس مہم کے روح رواں بنے۔بے پناہ دولت لٹانے کے باوجود ایاز صادق نے نا صرف ضمنی انتخاب جیتا بلکہ 2018 کے انتخاب میں بھی پی ٹی آئی کے امید وار علیم خان کو دوسری مرتبہ شکست دی۔ یہی وجہ تھی حالیہ واقعہ کو لے کر ایاز صادق کے خلاف نفرت انگیز مہم شروع کرنے کا فیصلہ اونچے لیول پر کیا گیا۔ کردار کشی کی جو مہم شروع کی گئی یہ ہمارے سیاسی کلچر کا 72 سالہ روگ ہے۔ جس نے آج تک ہماری جان نہیں چھوڑی۔ مگر پاکستان کے عوام میں اس مہم کو کوئی پذیرائی نہیں ملی ورنہ پہلے کیا ہوتا تھا غدار کو تو جینے کا حق دار بھی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ یہ تہمت ہماری سیاسی تاریخ کا نا پسندیدہ باب ہے، 

یہی وجہ ہے سارا غصہ بے چارے ایاز صادق پر نکل گیا اصل بات تو یہ ہے نواز شریف کی آل پارٹیز کانفرنس سے لے کر اب تک نواز شریف نے جو تین تقریریں کی ہیں اس نے سیاسی ماحول میں ایسا طلاطم برپا کر دیا ہے جس سے نمٹنا حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔ حکمران جو تین جلسوں سے اتنے گھبرائے ہیں کہ اپنی جبینوں سے بہنے والا پسینہ اب تک پونچھ رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کی تقریر کا حساب تو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہو گا۔ مگر حکومت اس کو میڈیا اور سڑکوں پر اس لیے لائی ہے تاکہ مسلم لیگ ن پر غداری کا لیبل لگا کر اس کو کالعدم کیا جائے۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اپنی پریس کانفرنس میں مسلم لیگ ن کی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مسلم لیگ ن پاکستان قائم کرلیں،جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ حکومت تو چاہتی یہ ہے مسلم لیگ ن جو دھاندلی کے باوجود آج بھی نواز شریف کے ساتھ ہے۔ قیا دت کو چھوڑیے عام لوگوں کا مقبول لیڈر آج بھی نواز شریف ہے۔ ایک نواز شریف اوپر سے پی ڈی ایم اتحاد جس کو توڑنے کی ایک سازش تو کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کی صورت میں سامنے آئی جس میں سکیورٹی اداروں سے جڑے لوگ مبینہ طور پر ملوث تھے۔ایاز صادق کے بارے میں حکومت کی حکمت عملی فواد چودھری کے ایسے ہی بیانیے سے پٹ گئی ہے۔ پی ڈی ایم میں نفاق ڈالنے کا حکومت کے نزدیک یہ سنہرا موقع تھا۔ مولانا فضل الرحمان ایاز صادق سے یکجہتی کے لیے لاہور آئے۔ مولانا اور ایاز صادق نے پریس کانفرنس کی۔ جیسے ہی مولانا نے بات کرنے کے لیے مائیک لیا تو چینل کے رپورٹر کو مولانا کی گفتگو سے شدید دھچکا لگا۔ نہ کوئی اختلاف، نہ وارننگ اور نہ ایاز صادق کی سرزنش۔ مولانا نے ایاز صادق سے بڑھ باتیں کیں۔ اہم بات تو یہ ہے ایاز صادق کی کردار کشی کی مہم کے پیچھے اسلام آباد ہی ہو گا۔ ایاز صادق کے خلاف لاہور میں راتوں رات بینرز اور پوسٹرز آویزاں کیے گئے، جس میں انہیں غدار وطن قرار دیا گیا۔ تاہم جب ان بینرز کا مقامی میڈیا پر خوب چرچا ہوا تو پھر لاہور کی انتظامیہ نے ہٹانا شروع کر دیے۔ یہ کام تو کراچی میں اپنے مخالفوں کے خلاف ایم کیو ایم کیا کرتی تھی۔ انہوں نے ایسی ہی مہم 2007 میں عمران کے خلاف بھی چلائی تھی جب ان کے خلاف کراچی کی دیواروں پر چاکنگ کی گئی اور عمران خان کو کراچی میں جانے نہ دیا تھا۔ ادھر بلاول بھٹو نے یہ بیان دے کر ایاز صادق کی بات کو آگے بڑھایا کہ سلیکٹڈ اداروں کو بھی ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں۔ اب بلوچستان میں ایاز صادق کے ایشو کو لے کر پارٹی میں پھوٹ پڑی ہے اس کا بھی پس منظر ہے۔ اپوزیشن نے سردار ثنا اللہ زہری کو کوئٹہ کے جلسے میں نہیں بلایا تھا۔ جس کی اہم وجہ یہ تھی کہ اس جلسے کی انتظامیہ سردار اختر مینگل کے ہاتھ میں تھی۔ سردار اختر اور مسلم لیگ ن کے سابق وزیر اعلیٰ سردار ثنا اللہ زہری کے درمیان قبائلی اور سیاسی دشمنی ہے۔ ایک تصادم کا خطرہ ہو سکتا تھا۔ جلتی پر تیل کا کام یہ ہوا کہ سردار اختر مینگل نے جاتی امرا میں مریم نواز سے ملاقات کر لی۔ نواز شریف کو بلوچستان کی لیڈر شپ سے یہ بھی گلہ ہے کہ انہوں نے جنوری 2018 میں بلوچستان کی حکومت جو کہ سردار ثنا اللہ زہری کی تھی۔ اس نے اسٹیبلشمنٹ کی سازش کو بے نقاب کیوں نہیں کیا اب تو حکومت بھی مشکل میں ہے ایک اور پنڈورا بکس فواد چودھری کی تقریر نے کھول دیا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر فواد چودھری کے اس بیان سے کہ ”ہم نے بھارت کو گھس کر مارا ہے“ نئی دہلی کے ان دعووں کی تصدیق ہوتی ہے کہ پاکستان، دہشت گردی اور بھارت میں دہشت گردانہ کارروائی کرنے والوں کی اعانت کرتا رہا ہے۔

پارٹی نواز کے بیانیے کے ساتھ ہے، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو پارلیمنٹ کا رکن بننے کے لئے ”نا اہل“ قرار دیئے جانے کے بعد ان سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت چھین لی گئی تھی انہیں پی پی او 2002ء کے تحت سزا یافتہ شخص قرار دے کر پارٹی کا عہدہ رکھنے سے روک دیا گیا تھا۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے یہ توانہوں نے 4جنوری 2018 کی اس پریس کانفرنس میں کہہ دیا تھا ”پردے کے پیچھے کارروائیاں نہ رکیں تو میں اسلام آباد میں سارے ثبوت اور شواہد قوم کے سامنے رکھ دوں گا۔ چار برس کی کہانی بھی سناؤں گا اور بتاؤں گا کہ یہاں کیا کچھ ہوتا رہا اور یہ بھی بتاؤں گا کہ کیا کچھ ہو رہا ہے اور کس طرح انتخابی عمل میں اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، عوامی رائے سے کھیلنے کے نتائج ہم بہت بھگت چکے۔ اب سچی اور کھری جمہوریت کو رہنے دیا جائے، جمہوریت کو اپنی خواہشوں کا غلام نہ بنایا جائے، غلام جمہوریت آمریت کی شکل ہوتی ہے“، اس بیانیے سے اب تک پارٹی میں بڑا ڈینٹ نہیں پڑا۔


ای پیپر