مغربی دہشت گردی
02 نومبر 2020 (12:36) 2020-11-02

ہمیں بتایا جاتا ہے، کہ برطانوی لنکن ان یونیورسٹی کے مرکزی دروازہ پر نبی آخر الزمان کااسم گرامی بطور دنیا کے بہترین قانون دان کے درج ہے، روایت ہے کہ اسی نسبت سے بانی پاکستان نے اس میں داخلہ لینے کو اعزاز خیال کیا تھا، اس وقت برطانوی تعلیمی اداروں کو وہی علمی حیثیت حاصل ہے جو قبل مسیح یونان کے شہر ایتھنز کوعلمی بنیاد پر میسر تھی، اس وقت بھی ولایت میں دنیا بھر سے طالب علم اپنی علمی پیاس بجھانے کشاں کشاں چلے آتے ہیں، روایت ہے کہ امریکی سپریم کورٹ کے باہر ایک تختی پر رقم تحریر میں نبی آخر زماں ؐ کو دنیا کا سب سے بہترین قانون دان مانا گیا ہے، باوجود اس کے مغرب میں آپؐ سے متعلق منفی جذبات کا اظہار اور نعوذ باللہ خاکے بنانے کی ناپاک جسارت اس بات کی غماز ہے، کہ کچھ قوتیں اس طرز کی شرارت سے دنیا کو ایک بار پھر بڑی بدامنی کی طرف دھکیلنے کے لئے بضد ہیں، یہ فعل کھلی مغربی دہشت گردی ہے۔ کیا ان مذکور اداروں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد آپؐ کی شخصیت سے نابلد ہیں یا جان بوجھ کر دنیا کو حقیقت بتانے سے گریزاں ہیں، فرانس میں جس انداز میں آپؐ کی گستاخی اور سربراہ مملکت کی طرف سے اسکی پشت پناہی کی جا رہی ہے، اس حرکت کو کسی طور پر بھی اخلاقی، قانونی، علمی اعتبار سے درست کہا جا سکتا ہے؟ قطعی نہیں۔

یہ ہستی کوئی دنیا کے عام فرد نہیں ہے وہ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبرؐ ہیں، ان پر ایمان لانے والوں کی تعداد کئی ارب ہے اور یہ سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا، یہ عقیدت محض زبانی کلامی بھی نہیں، تمام مسلمان آپؐ کی ہستی کو اپنے والدین، بیوی، بچوں سے زیادہ عزیز تصور کرتے ہیں، ان پر جان قربان کرنے کو اپنی خوش بختی ہی نہیں بلکہ ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ کیا آزادی اظہار کے نام پر کسی فرد کو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے؟

مغربی معاشرہ کو اپنے مہذب ہونے پر ناز ہے، جوا نسانی حقوق کا علمبردار بنا بیٹھا ہے، انسانوں کی توقیر کے زعم میں مبتلا ہے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ سماج شمار ہوتا ہے وہاں کے افراد کی جانب سے یہ ناپاک حرکت کیا معنی رکھتی ہے؟

آپؐ کی آمدکا انکی مذہبی کتب میں تذکرہ موجود ہے،آپ ؐ اوصاف حمیدہ بتلائے گئے ہیں، لیکن اہل مغرب نے مذہب کو اپنی حیات سے نکال کر خود پرظلم کیا ہے، سارا مغرب سکون کی تلاش میں سرگرداں ہے، اسکا راستہ ایک سچے مذہب ہی کی طرف جاتا ہے، مغربی معاشروں میں جو اچھی صفات پائی جاتی ہیں زیادہ تر مسلم معاشرے اس سے محروم ہیں حتیٰ کہ علمی میدان میں بھی وہ ان سے بہت پیچھے ہیں اس کے باوجود کسی بھی مسلم فرد، کارٹونسٹ، صحافی، مصنف، حکمران کی طرف سے دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی تضحیک کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے کسی مذہبی شخصیت کے بارے میں نازیبا الفاظ کہے ہوں، کسی نبی کی شان میں منفی خیالات کے اظہار کا تو تصور بھی ممکن نہیں، کیوں  کہ تمام انبیاء پر ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض ہے، ذرا غور تو فرمائیے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے محبت کو لازم قرار دے کر تمام متوقع خطرات کا دووازہ بند کر دیا ہے۔

کیا مغرب کا اہل علم طبقہ اس حقانیت پر غور نہیں کرنا چاہتا؟، خود مغربی سماج میں لوگ ہر روز نبیؐ کی تعلیمات سے متاثر افراد ایمان لا کر دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں، باوجود اس کے تمام وسائل مغرب کی مٹھی میں بند ہیں، فی زمانہ متاثر کن میڈیا ان کے کنٹرول میں ہے، فیصلہ سازی کی ساری طاقتیں انکے اشاروں پر چلتی ہیں، گزشتہ اربع صدی سے مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کا بازار بھی نام نہاد دانشوروں نے گرم کر رکھا ہے اس کے باوجود آج بھی لوگ نبی ؐ اور ان پر نازل کتاب کو سچ اور حق جان کر اس پر ایمان لا رہے ہیں، خود فرانس میں طرح طرح کی ناروا غیر قانونی پابندیوں کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں بڑے مردوزن اسلام قبول کر رہے ہیں۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ افراد جن کو اللہ تعالیٰ نے سوچنے، سمجھنے، لکھنے کی صلاحیت عطا کی ہے، وہ آپؐ کی تعلیمات اور تبدیلی مذہب کی وجوہات پر غور کرتے، مسلمانوں پر بے جا پابندیوں کے خلاف آواز اٹھاتے تو انہیں دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا، مسلم معاشرے جن کو تنگ نظر جانا جاتا ہے یہ اتنا ظرف ضرور رکھتے ہیں کہ کوئی بھی عالمی شخصیت جس نے انسانیت کے لئے کوئی اچھا کام کیا ہو،اسکی دل و جان سے قدر کرتے ہیں، تعصب نہیں برتتے، افسوس ہوتا ہے مغربی دانشوروں پر کھلے دماغ سے سوچنے کے بجائے تعصب کی عینک سے وہ مسلم زعماء کو دیکھتے ہیں، اور آپ ؐ کے بارے میں آزادی اظہار کے نام پر وہ کر گزرتے ہیں جس کا سوچنا بھی محال ہے اس ہستی کو محسن انسانیتؐ کہا جاتا ہے۔

 فیمنسٹ تحریک پر نازاں ہیں،غلامی کے خاتمہ پر کریڈٹ لینے اورجانوروں کے حقوق کی بات کرنے والے کیا جانیں کہ چودہ سو سال قبل آپ ؐ نے ان تمام جہالتوں،خرافات کو اپنے پاؤں تلے روند دیا تھا جن خدمات پر انہیں ہیروز مانا جاتا ہے، جس سود کے بارے میں مغربی ماہرین معیشت آج دلائل دیتے ہیں آپؐ نے اس وقت اس کا خاتمہ کیا جب کوئی منظم معاشی نظام سرے سے موجود ہی نہ تھا، لڑکیوں کی تعلیم کا درس دینے والوں کو کیا علم کہ اس متبرک ہستی نے حصول علم کو مردوزن کے لئے فرض قرار دیا ہے، وہ مغربی مفکرین جنہیں ناحق افراد کے قتل کا قلق ہے انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ آپؐ کا ارشاد گرامی ہے جس نے کسی بے گناہ کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا اور جس نے ایک فرد کو بچایا اس نے پورے عالم کو بچالیا، انسانی حقوق کا چارٹر اقوام متحدہ میں جو نافذالعمل ہے وہ آپؐ کے خطبہ حجۃ الوداع سے ماخوذ ہے، گویا پہلی سانس سے موت کی آخری ہچکی تک کی راہنمائی سب سیرؐت میں محفوظ ہے جو قرآن ہی کی ایک عملی شکل ہے آج بھی پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے آپؐ کا ذکر بلند کر دیا، تو یہ کم ظرف افراد اپنی خباثت سے بھلا اس میں کمی لا سکتے ہیں؟ جن کو اپنی زندگی اور موت پر کوئی اختیار ہی نہیں، البتہ مسلمان اپنی اچھی سیرت سے اس قماش کے لوگوں کو آپ ؐ  پر ایمان لانے پر آمادہ ضرور کر سکتے ہیں۔


ای پیپر