sharmila farooqi,halloween,viral,social media users,photos,ppp
02 نومبر 2020 (12:33) 2020-11-02

کراچی:پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شر میلا فاروقی کی ہیلوئین کا تہوار مناتے ہوئے تصاویر پر سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید۔

تفصیلات کے مطابق ہیلوئین کا موسم اکتوبر کی اکتیس تاریخ  ہوتی  ہے جس میں لوگ چہرے پر نقاب لگا کر منفرد نظر آنے کی کوششیں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

روایتی طور پر یہ مغربی ممالک میں آل ہیلوز ڈے کی شام کو منایا جاتا رہا ہے۔تقریب تین دنوں تک جاری رہتی ہے جس میں اس دنیا سے چلے جانے والے اپنے رشتے داروں کو یاد کیا جاتا ہے۔

لوگ اس موقعے پر طرح طرح کے ماسک یا چہرے لگاتے ہیں اور دوسری دنیا کی روحوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

ہیلوئین کے موقعے پر چہرے پر ماسک اور سیاہی لگا کر پارٹیوں میں جانے کا موسم، گھروں کے باہر خوفناک تصویریں لگانے کا موسم، کم کپڑوں میں چڑیل کا میک اپ کرنے کا موسم ہے۔

 بھارت اور پاکستان میں بھی لوگ ہیلوئین منانے لگے ہیں،ایک اور نظریے کے مطابق اس کا آغاز آئرلینڈ کے قبائل نے کیا۔

 ان قبائل کا عقیدہ تھا کہ 31 اکتوبر کی رات کو زندہ انسانوں اور مرنے والوں کی روحوں کے درمیان موجود سرحد نرم ہوجاتی ہے اور روحیں دنیا میں آکر انسانوں، مال مویشیوں اور فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ روحوں کو خوش کرنے کے لیے قبائلی 31 اکتوبر کی رات آگ کے الاؤ روشن کرتے، اناج بانٹتے اور مویشیوں کی قربانی دیتے تھے۔

اسی تہوار کے پیش نظر پاکستان میں بھی لوگوں کی جانب سے مختلف قسم کے روپ دھارے گئے ،پاکستانی فنکاروں نے بھی اس تہوار کو منانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

دلچسپ صورتحال اس وقت دیکھنے میں آئی جب  پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نے اس تہوار کو مناتے ہوئے اپنے چہرے پر چڑیلوں والا میک اپ کیا۔جس کے بعد تصویریں دیکھتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے توپوں کا رخ ان کی جانب کرلیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر شرمیلا فاروقی کی شیئر کی گئی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے چہرے کو بدروحوں سے مشابہت رکھتے ہوئے میک اپ کیا ہوا ہے اور وہ کافی حد تک خوفناک دکھائی دے رہی ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین نے ان کی تصاویر پر مختلف قسم کے کمنٹس دیئے اور اکثر نے ان کو چڑیل تک کہہ ڈالا۔

نورِ مریم نامی انسٹا ہینڈل کی جانب سےکہا گیا کہ ’بندہ اپنی عمر دیکھ کر کام کرے‘۔

شہباز نے لکھا کہ’ویسے محترمہ کو اتنی محنت کی ضرورت نہیں تھی‘۔

امینہ شعیب کا کہنا تھا کہ ’انڈیا تو انڈیا ،اب پاکستان کے بھی مسلمان پاگل ہو رہے ہیں ہیلوئین کے پیچھے،استغفراللہ۔‘

رابیل علی نے لکھا کہ ’ یہ تو پہلے ہی چڑیل ہے اس کو ویسے ضرورت تو نہیں تھی‘۔

یاد رہے کہ ہیلوئین ایک مغربی تہوار ہے، جسے مسیحی اپنے پادریوں اور مرے ہوئے لوگوں کی یاد میں مناتے ہیں جنہوں نے اپنے مذہب کی راہ میں جان دی تھی۔


ای پیپر