کووڈ۔ جمہوریت کے لئے خطرہ؟
02 نومبر 2020 (12:28) 2020-11-02

کورونا وائرس نے امریکہ، لاطینی امریکہ، ہندوستان اور یورپ کو مضبوطی سے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ امریکہ میں کیسوں کی تعداد 9 ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور 235,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فرانس، سپین، جرمنی، بیلجیئم اور دیگر نے نقل و حرکت پر پابندی سے لے کر مکمل لاک ڈاؤن تک کی اقدامات پر ایک بار پھر سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے اور ہفتے کی شام برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے انگلینڈ میں مکمل طور پر دوسرے ماہ کے لئے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ چین میں وائرس سے نمٹنے کی صلاحیت ہے اور زندگی کم و بیش معمول پر آ گئی ہے لیکن ایک آمرانہ حکومت کے لئے وبائی بیماری کا پھیلاؤ روکنا آسان ہے۔ سختی سے پابندیوں کے نفاذ کے اقدامات کو مغربی طرز کی لبرل جمہوریت میں شہری آزادیوں کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی کوریا، تائیوان اور جاپان نے بھی معقول حد تک بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ان جمہوریتوں میں کنفیوشین اقدار کے باعث بزرگوں کے اختیارات کو اعتماد کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ امریکہ میں سب کچھ بڑا اور بڑے پیمانے پر ہے اور کووڈ 19 کے معاملہ میں بھی اس کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں۔ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مخالف امیدوار جو بائیڈن کی سوچ کے انداز مختلف ہیں۔ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ لاک ڈاؤن سے معیشت کو ہونے والا نقصان وائرس کی نسبت کہیں زیادہ ہو گا۔ بائیڈن انسانی جان کے قیمتی ہونے پر اصراراور پالیسیوں میں استقامت کی کمی پر تنقید کرتا ہے۔ فیس ماسک کے تنازع سے بہتر ان دونوں کے اختلافات کی کوئی بھی مثال نہیں ہے۔ ٹرمپ اسے ذاتی آزادیوں کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں اور ان کی ریلیاں فیس ماسک کے بغیر شہریوں سے پُر ہجوم ہوتی ہیں۔ بائیڈن کبھی ماسک کے بغیر نہیں ہوتا اور سائنس پر عمل کرنے کی اپیل کرتا ہے۔ درمیان میں میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر انتھونی فوکی ہیں، جو یہ بتاتے ہیں کہ چہرے کو ڈھانپنا کیوں ضروری ہے اور انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر 2020 میں کوئی ویکسین بازار میں دستیاب بھی ہو گئی تو 2021 کے اواخر یا 2022 تک امریکہ معمول پر آ سکے گا۔ امیدواروں کی سوچ میں اس قدر تضاد کے باعث ہی مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر لاک ڈاؤن کے طوق سے آزاد کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ چیزیں یورپ میں مختلف ہو سکتی ہیں لیکن اس قدر مختلف نہیں ہیں۔ اٹلی میں پُرتشدد مظاہرے ہوئے جب حکومت نے پابندیاں سخت کیں اور پیرس، لندن، اسٹٹ گارٹ، برلن اور زیورخ میں پورے موسم گرما میں شہری مظاہرے کرتے رہے ہیں۔ کووڈ19 اقدامات کے تنازع پر زیربحث رہنے والے دو عوامی معاملات ذاتی آزادی اور عوامی بہبود ہیں۔

کووڈ19 ان شہری آزادیوں کے لئے ایک چیلنج ہے جو کسی بھی جمہوریت کا سنگ بنیاد ہیں۔ معاملات میں مزید خرابی معاشی طور پر کمزور اور پسماندہ افراد اور متمول افراد کے درمیان معاشی تفریق سے در آتی ہے۔ یہ اہم سچائی ہے کہ جمہوریتیں اسی وقت بہترین کام کرتی ہیں جب امیر اور غریب کے درمیان تفاوت کم ہو اور متوسط طبقہ مضبوط ہو۔ مغربی جمہوریتیں شہری آزادیوں پر بھروسہ کرتی ہیں اور امریکہ سے زیادہ کوئی نہیں جہاں خوشی کے حصول کا حق اپنے آزادی کے اعلامیے میں شامل ہے۔ وائرس کے خلاف اقدامات سے ان شہری آزادیوں پر بڑی حد تک زد پڑی ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جہاں شخصی آزادی عوامی تحفظ اور صحت عامہ کے تحفظ کیلئے حکومت کے فرض سے متصادم ہو سکتی ہے۔ کووڈ19 اور اس سے لڑنے کے اخراجات عالمی معیشت کے لئے بھی بہت زیادہ بھاری ثابت ہوئے ہیں، ذرائع کے مطابق یہ 11 کھرب ڈالر سے لے کر 28 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ معاشی طور پر مسائل پیدا ہونے سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے، تنخواہوں میں کمی اور متعدد شعبہ جات کو بند کر دیا گیا ہے۔ بلومبرگ نے اندازہ لگایا ہے کہ یہ وبائی مرض اب تک دنیا بھر میں سفری اور سیاحت کے شعبے میں 174 ملین مالیتی ملازمتیں نگل چکی ہے۔ نئے لاک ڈاؤن سے یہ تعداد بڑھے گی۔ سپر مارکیٹوں اور صحت کے شعبہ میں شامل فرنٹ لائن عملہ شاید اپنی ملازمت سے محروم نہ ہو لیکن ان میں انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت معاشرتی طور پر کمزوروں کی دیکھ بھال کس طرح کرے گی۔ یہ سچ ہے کہ فراخ دلی کے ساتھ امدادی پیکیج موجود ہیں لیکن یہ سوال باقی ہے کہ وہ کب تک جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہاں بھی ایک سیاسی تقسیم ہے۔ مالی، حکمت و دانائی، دائیں اور بائیں بازو کی معاشرتی ہم آہنگی کے لئے جو بھی قیمت ہو، امدادی پیکیج سے مشروط ہو سکتی ہے۔ امریکہ میں مزید امدادی پیکیج کے بارے میں مذاکرات میں کہیں زیادہ سخت سوالات کئے جا رہے ہیں۔ عوام حکومتی اقدامات کو کس طرح قبول کرتی ہے یہ حکومت پر اعتماد سے منسلک ہے اور یہ کہ حکمرانوں کے دل میں عوام کے لئے کتنی جگہ ہے۔ یورپ میں، پہلے لاک ڈاؤن کے دوران عوام نے بڑے پیمانے پر حکومت سے تعاون کیا، وہ اب تھک چکے ہیں، معاملات میں خرابی بڑی حد تک حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے حکومتی اقدامات کی مخالفت کے باعث بھی آئی۔ اب شہری مارچ کی طرح حکومتوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے سے انکاری ہیں۔ وسیع تر نقطہ نظر یہی ہے کہ کووڈ19 پوری دنیا میں لبرل جمہوریتوں کے لئے ایک چیلنج ہے۔ لاک ڈاؤن کے تحت جمہوریت کے بارے میں 2020 کے فریڈم ہاؤس نے ایک رپورٹ جاری کی ہے کہ کووڈ19 سے پیدا ہونے والے بحران کے باعث 80 ممالک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورتحال خراب ہوئی ہے۔ کچھ بھی ہو، کووڈ19 کے باوجود کمزوروں اور جمہوریت کی دیکھ بھال کرنے والوں کیلئے آواز بلند کرنا ہو گی کیوں کہ ہم سب اس میں شریک ہیں۔

(بشکریہ: عرب نیوز۔30-10-20)


ای پیپر