”شہباز شریف کا لاہوریوں کیلئے تحفہ۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین“
02 نومبر 2020 (12:18) 2020-11-02

 یہ ایک عالمگیر سچائی ہے کہ وقت اور زمانے تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور ان تبدیلیوں کے موجب اتنے عوامل ہوتے ہیں کہ انسان اُن کے سامنے بالکل بے بس نظر آتا ہے۔ اقبال نے کتنا صحیح کہا تھا

 ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں 

25 اکتوبر 2020 ء کو اورنج لائن میٹرو ٹرین کا لاہور میں افتتاح ہوا اور یہ منصوبہ جس شخص کا برین چائلڈ (Brain child) تھا اور جس نے رات دن ایک کرکے اس منصوبہ کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کے خواب دیکھے تھے وہ افتتاح والے دن جیل کی کال کوٹھڑی میں تنہا بیٹھا تھا۔ نہ جانے کیوں میرے ذہن میں منیر نیازی کا یہ مصرعہ تیرنے لگ گیا 

تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو 

یہ منصوبہ 2015 ء میں شروع ہو ا اور اسے 2017ء میں مکمل ہونا تھا،لیکن بعض این جی اوز(NGOs) نے مختلف وجوہات کی بنا پر اعلیٰ عدالتوں کو اپروچ کیا اور پھر آپ کو تو معلوم ہے کہ جب معاملات ہماری عدالتوں میں پہنچ جاتے ہیں تو پھر چل سو چل۔ سو منصوبہ التوا کا شکار ہو گیا اور اپنے طے شدہ ٹائم میں مکمل نہ ہو سکا اور پھر قومی الیکشن آ گئے۔ یہ منصوبہ چونکہ سی پیک کاایک حصہ تھا اس لیے چائنہ کی حکومت بھی اس میں شراکت دار تھی، لیکن بنیادی طور پر یہ منصوبہ پنجاب حکومت کا تھا۔ منصوبہ کے مطابق اورنج لائن کی لمبائی 27 کلو میٹر اور اس کے سٹیشنز کی تعداد 26 ہے اور اس کی لاگت 256.6 بلین تھی، اگرچہ بعد میں اس کی لاگت میں کچھ اضافہ ہو گیا کیونکہ کسی بھی منصوبہ میں التوا کی وجہ سے ایسا ہونا لازمی امر ہوتا ہے۔التوا کی بڑی وجہ الیکشن کے بعد پنجاب میں حکومت کی تبدیلی تھی۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بن گئی جس کی سربراہی دور اندیش عمران خان نے عثمان بزدار کے حوالے کر دی اور یوں یہ منصوبہ تقریباً پونے تین سال ا لتوا کا شکار رہا۔ یہ منصوبہ اس سے بھی زیادہ 

التوا کا شکار رہتا لیکن خوش قسمتی سے سی پیک منصوبہ کی سربراہی جنرل عاصم سلیم باجوہ کو مل گئی اور اُنھوں نے ذاتی دلچسپی سے اسے پایہ تکمیل تک پہنچا یا۔میں کیوں اسے لاہوریوں کے لیے شہبا شریف کا قیمتی تحفہ سمجھتا ہوں! اس لیے کہ یہ ہمارے ملک کی واحد اور اکلوتی عوام کی سواری ہوگی جو لاہور شہر کی فضاؤں کو دھوئیں سے زہر آلودہ نہیں کریگی کیونکہ اس کا ایندھن پٹرول یا ڈیزل نہیں بلکہ بجلی ہوگی۔میں چونکہ اسی شہر لاہور میں رہتا ہوں اسلیے اس تاریخی شہر کے باسیوں کی سفری مشکلات ہر روز میرے سامنے رہتی ہیں۔پوری دنیا میں اپنے شہریوں کو شہروں کے اندر سستی اور مناسب سفری سہولتیں مہیا کرنا حکومتوں کا بنیادی کام ہوتاہے لیکن ہمارے ملک میں تو حکومتیں اپنے غریب اور لاچار عوام کا خون چوسنے ولی جونکیں ہیں۔ذرا اس ملک کے حکمرانوں کا رہن سہن دیکھیں اورپھر گندے نالوں پر جھونپڑیوں میں رہنے والی عوام کا۔اگر آپ لاہور شہر کی سڑکوں پر نظریں دوڑائیں تو آپ کو ہر سو موٹر سائیکلوں، رکشاوں اور چنگ چیوں کا سمندر نظر آئیگا جو بیحدو بیکراں دھواں اس شہر کی فضاؤں میں بکھیر رہا ہوگا۔نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ لاہور شہر سموگ (Smog) کا گڑھ بن چکا ہے۔دن کے وقت بھی لاہور شہر سورج کی روشنی سے محروم رہتا ہے۔لیکن میں تو اپنے وزیراعطم عمران خان کی گفتگو سن کر ششدر رہ گیا بلکہ shocked ہوا جب وہ بڑے تفاخر سے بتا رہے تھے کہ ہمارے ملک میں نئے موٹر سائیکلوں کی فروخت میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ وہ اسے اپنے ملک میں معاشی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے انڈیکیٹر (indicator) کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ در اصل اُن کو اپنی پیدایش سے لے کر اس عمر تک چونکہ کبھی یہاں کے عوام کی حقیقی زندگی سے گزرنا نہیں پڑا اس لیے وہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ کیا اُنھوں نے کبھی لاہور میں بس کے داخلی دروازہ میں کھڑے ہو کر سفر کیا ہے۔ کیا اُنھوں نے کبھی جُھک کر اور اپنا سر دوسری سواریوں میں گھسا کر ویگنوں میں سفر کیا ہے۔ انھیں کیا معلوم یہاں لوگ کیسے جیتے ہیں۔ روزانہ کی سفری صعوبتوں سے تنگ آکر لوگ کچھ پیسے ایڈوانس دے کر قسطوں پر موٹر سائیکل لے لیتے ہیں اور پھر وہ سالہا سال قسطیں اتارتے رہتے ہیں۔ بھلا ہو چائنہ کا کہ وہ سستے موٹر سائیکل اس ملک میں بھیج رہا ہے۔ سو بات ہو رہی تھی لاہور میں سموگ کی۔ اس وقت لاہور شہر کے لوگ سانس کی مختلف بیماریوں کو بھگت رہے ہیں۔ بے شمار لوگ ناک، گلے اور پھیپھڑوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ شدید سموگ مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگوں کی زندگیوں کو بھی اجیرن کر رہی ہے۔ آپ کو شاید معلوم ہو کہ دنیا میں اُن علاقوں کی آب و ہوا کو انسانی زندگیوں کے لیے انتہائی خطرنا ک سمجھا جاتا ہے جن کا درجہ ائیر کوالٹی انڈیکس (Air quality index) میں 150 سے 200 کے درمیان ہوتا ہے۔ اور آپ یہ سن کر پریشان ہونگے کہ ہمار ا لاہور شہر دنیا کے پانچ آلودہ ترین شہروں میں عموماً شامل رہتا ہے اور پہلے دس میں تو زیادہ تر رہتا ہے۔ لاہور شہر میں عام آدمی کو ٹرانسپورٹ کے بڑے مسائل درپیش ہیں۔ اب اس شہر میں رکشے اور چنگ چیز تقریباً ویگن کا روپ دھار چکے ہیں۔ پہلے رکشاوں میں ایک یا دو سواریاں بیٹھا کرتی تھیں لیکن اب تو ایک رکشا میں چار پانچ سواریاں رکشا والوں نے ٹھونسی ہوتی ہیں جو ظاہر ہے ٹریفک پولیس کے لیے خاصا سود مندکاروبار ہے۔ اورنج لائن سے عام آدمی کو کافی سہولت میسر ہو گئی ہے۔لوگوں سے بھری یہ ٹرینیں اپنے روٹ پر خوب چل رہی ہیں۔ایک ٹرین میں ایک ہزار تک مسافر سفر کرسکتے ہیں۔اس طرح تقریباًڈھائی لاکھ مسافر روزانہ اس پر سفر کریں گے۔ اس کے مخالفین بڑے شد و مد سے اس پر خرچ آنے والے 5.62 بلین روپے سالانہ کا ذکر کرتے ہیں لیکن انہیں اس ملک کی اشرافیہ پر خرچ ہونے والی غریبوں کی کمائی کا کوئی خیال نہیں آتا۔ مثال کے طور پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ پر اُٹھنے والے 78.4 کروڑ روپے سالانہ کا۔ شہباز شریف کے غلط کاموں پر اگر اس کا احتساب جاری ہے تو اس کے اچھے کاموں کی توصیف نہ کرنا بھی ایک intellectual dishonestyہوگی۔


ای پیپر