ڈالر ایمنسٹی سکیم بہتر حل ہے
02 نومبر 2020 (11:50) 2020-11-02

پاکستان میں ڈالر کی قیمت نیچے آ رہی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ لیکن چند ماہ پہلے قیمت اتنی بڑھ گئی تھی کہ موجودہ کمی آٹے میں نمک کے برابر محسوس ہوتی ہے۔یہ درست ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے ڈالر کو مصنوعی طریقے سے فکس کر رکھا تھا جس سے معیشیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ لیکن موجودہ حکومت کے دور میں جو اضافہ ہوا ہے وہ بھی آرگینک محسوس نہیں ہوتا۔ کئی مرتبہ تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ کم اور انٹر بینک میں زیادہ تھا۔ یعنی کہ ڈالر ضرورت سے زیادہ مارکیٹ میں موجودتھا پھر بھی ریٹ بڑھا دیا گیا۔ اس طرز کے معاملات شک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق موجودہ حالات میں ڈالر کی قیمت ایک سو چالیس روپے سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔   ڈالر کو کس طرح نیچے لایا جا سکتا ہے اس حوالے سے ماضی میں کچھ کامیاب مثالیں موجود ہیں۔ سن 2018 میں جب امریکہ اور ترکی کے تعلقات کشیدہ ہوئے تو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔ عوام لیرا دے کر ڈالر خریدنے لگے۔ تا کہ مشکل وقت میں کام آ سکے۔ چند دنوں میں لیرا کی قدر میں ڈرامائی کمی ہوئی۔ طیب اردوان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ڈالر بیچ کر لیرا خریدیں۔ طیب اردوان کی ایک تقریر نے اس مہم کو کامیاب کر دیا۔ نہ صرف ترکی بلکہ پوری دنیا میں لیرا خریدنے کی مہم چل پڑی۔ چند دنوں میں لیرا اپنی کھوئی ہوئی قدر بحال کرنے میں کامیاب ہو گیا۔گو کہ وہ اپنی پرانی حیثیت فورا بحال نہیں کر سکا لیکن ترک معیشیت سنبھلنے میں کامیاب ہو گئی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ فارمولہ پاکستان میں لاگو کرنے کی کوشش کی جائے تو کیا اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئیں گے۔ میرے مطابق یہ سکیم پاکستان میں کامیاب ہونا شاید مشکل ہے۔ بلکہ عمران خان صاحب نے ترک روایت کی پیروی کرتے ہوئے پاکستانی عوام سے ڈالرز بیچنے اور روپیہ خریدنے کی درخواست کی تھی جو کہ بے ثمر رہی۔ کیونکہ ہرپاکستانی چاہتا ہے کہ اسے بدلے میں کوئی مالی فائدہ دیا جائے۔جیسا کہ ٹیکس میں چھوٹ 

وغیرہ۔اس حوالے سے حالیہ تجربہ بہت اچھا رہا ہے۔

 2019میں پیش کی گئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے کامیاب ایمنسٹی سکیم قرار دیا جا رہا ہے۔یہ سکیم پچھلی ایمنسٹی سکیم کے نو ماہ بعد ہی لانچ کردی گئی تھی۔ اس کے باوجود عوام کا رسپانس بہت بہتر تھا۔ عمومی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر دو ایمنسٹی سکیموں کے درمیان وقفہ کم ہو تو دوسری سکیم میں پبلک رسپانس کم ہوتا ہے لیکن حالیہ تجربے میں تمام اندازے غلط ثابت ہوئے اور عوام نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک تقریبا چودہ ایمنسٹی سکیمیں متعارف کروائی جا چکی ہیں۔ پہلی ایمنسٹی سکیم صدر ایوب خان نے 1952میں لانچ کی تھی اور آخری سکیم 2019میں عمران خان صاحب نے پیش کی ہے۔ گو کہ 2020میں پراپرٹی کے کاروباروں کو دی گئی سہولتوں کو بھی ایمنسٹی ہی کہا جا رہا ہے لیکن سرکاری سطح پر اسے ایمنسٹی سکیم کا نام نہیں دیا گیا ہے۔2019ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں تقریباً تین سو ارب سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے گئے۔ ستر ارب ٹیکس ریوینیو اکٹھا ہوا اور تقریبا ڈیڑھ لاکھ کے قریب لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔اس سکیم کی کامیابی کی وجہ سہولیات تھیں جو اثاثے ظاہر کرنے والوں کو دی گئی تھیں۔ جیسا کہ منی ٹریل اور ایف بی آر کے شکنجے سے آزادی۔ ماضی کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈالر کو مناسب قیمت پر لانے کے لیے ڈالرایمنسٹی سکیم فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ 

بطور ماہر معاشیات میں جانتا ہوں کہ بہت سے لوگ ڈالرز کیش کروانا چاہتے ہیں لیکن اس ڈر سے نہیں کروا رہے کہ حکومت منی ٹریل مانگے گی۔ ایک بزرگ چھوٹا سا کاروبار چلاتے ہیں۔ کہنے لگے کہ مجھے ڈالرز کیش کروانے ہیں۔ سوچ رہا ہوں کیسے کرواوں۔ پوچھا گیا کہ کتنے ڈالرز ہیں۔ بزرگ نے جواب دیا۔ نو لاکھ اسی ہزار۔پوچھا کہ ڈالرز کہاں رکھے ہیں۔ کہنے لگے گھر پر۔ استفسار کیا کہ اتنے زیادہ ڈالرز آپ نے گھر پر کیوں رکھے ہیں۔ کہنے لگے کہ اگر بینک میں رکھوں تو ایف بی آر نوٹس بھیج دے گا۔ حکومت منی ٹریل مانگے گی۔ اب میں اپنی محنت سے کمائی ہوئی دولت کی وضاحتیں بھی حکومت کو دوں۔ میں نے کاروبار کیا ہے کونسا گناہ کر لیا ہے جو حکومت مجھ سے انکوائریاں کرتی پھرے۔ میں نے اس لیے ڈالرز خرید کر گھر میں رکھ چھوڑے ہیں۔ اس طرح کے سینکڑوں واقعات روزانہ رونما ہو رہے ہیں لیکن انھیں کوئی سنجیدہ نہیں لے رہا۔ میری حکومت سے گزارش ہے کہ جہاں کالا دھن رکھنے والوں کو ٹیکس ایمنسٹی دی گئی ہے وہاں ڈالرز رکھنے والوں کو بھی ڈالر ایمنسٹی سکیم دی جائے۔ اس سکیم کے تحت کسی بھی پاکستانی شہری کو اجازت دی جائے کہ وہ کسی بھی بینک یا منی چینجر سے تین ماہ تک ڈالر کیش کروا سکتا ہے۔ اس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ ڈالرز کہاں سے آئے یا ان کی منی ٹریل کیا ہے۔ تین ماہ بعد جو شخص ڈالرز کیش کروانے آئے گا اس سے مکمل منی ٹریل لی جائے گی۔ حکومت ان ڈالرز کے عوض بانڈ جاری کرنے کا آپشن بھی متعارف کروا سکتی ہے۔ جس پر ایک مخصوص شرح سود دی جائے۔اس طریقہ کار سے گھروں، دکانوں اور بینک لاکرز میں رکھے ہوئے کروڑوں ڈالرز اکانومی میں شامل ہو سکیں گے۔ رسد اور طلب کے درمیان خلیج پیدا ہو گی اور ڈالر ایک اندازے کے مطابق تقریباً ایک سو چالیس روپے تک آ سکتا ہے۔اس کی ایک شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جو شخص ڈالر بیچ کر پاکستان میں انڈسڑی لگائے اس سے پوچھ گچھ نہ کی جائے۔ وہ منی ٹریل دینے کا پابند نہ ہو۔ اسے پانچ سال تک ٹیکس چھوٹ ہو۔ اس عمل سے نہ صرف ڈالر کا ریٹ نیچے آئے گا بلکہ پاکستانی اکانومی مضبوط ہو گی۔ نوکریاں پیدا ہو گیں۔ بے روزگاری کم ہو گی۔ جرائم کی شرح نیچے آئے گی اور بیرون ملک سرمایہ منتقل کرنے کی بجائے پاکستان میں ہی کاروبار کرنے کی طرف رجحان بڑھ جائے گا۔ برآمدات کی انڈسڑی لگانے والوں کو دس سال تک اِنکم ٹیکس میں مخصوص چھوٹ دی جائے۔ کیونکہ اس شعبے کے لوگ نہ صرف ڈالرز پاکستان میں خرچ کرتے ہیں بلکہ بیرون ممالک سے ڈالرز کما کر پاکستان بھی لاتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف ایمنسٹی سکیمو ں کے حق میں نہیں ہیں لیکن نظریہ ضرورت کے پیش نظر انھیں قائل کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ معیشیتوں نے ترقی کے ابتدائی دنوں میں ایمنسٹی سکیموں سے بھرپور فائدہ اٹھایا تھااور آج بھی مشکل وقت میں وہ ٹیکس ہیونز کی آفر نکال کر اکانومی کو سہارا دیتے رہتے ہیں۔


ای پیپر