The hearing of money laundering case against Shahbaz Sharif has started
02 نومبر 2020 (10:43) 2020-11-02

لاہور: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کیخلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت  11 نومبر تک ملتوی کردی گئی  جبکہ عدالت کی جانب سے 11 نومبر کو ہی ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

ذرائع کےمطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف احتساب عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی۔جبکہ دونوں کو بکتر بند گاڑی کے ذریعے عدالت پہنچایا گیا۔

احتساب عدالت  میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت  میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز  پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ  کیا گیا  جبکہ دونوں  کے  جوڈیشل ریمانڈ میں 9 دن کی  توسیع کر دی گئی ۔

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس  کے معاملے پر عدالت نے درخواست کی فوٹو کاپی فراہم کرنے پر اظہار ناراضگی کیا۔جسٹس جواد الحسن نے ریمارکس دیئے کہ اس ٹرائل کو دنیا بھر میں  دیکھا جا رہا ہے،یہ کوئی عام ٹرائل نہیں ہے،ملزمان کیخلاف دو درخواستیں موصول ہوئی ہیں،ان دونوں درخواستوں پر 4 نومبر پر سماعت کروں گا۔

 عدالت نے شہباز شریف کے وکیل سے استفسار  کیا کہ فرد جرم کی کارروائی پر  کب سے آغاز کیا جائے۔شہباز  شریف  کے وکیل نے  استدعا کی کہ کم از کم 7 دن کا وقت دیا جانا چاہیے،عدالت نے شہباز شریف کے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 11 نومبر تک ملتوی کر دی جبکہ عدالت نے شہبازشریف اور حمزہ شہباز کے مزید 11 نومبر تک جوڈیشل ریمانڈ کی  توسیع کر دی گئی۔

 قبل ازیں شہباز اور حمزہ شہباز کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے تھے۔ اس کے علاوہ لیگی صدر کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو بھی عدالت لایا گیا۔ مریم نواز شریف، مریم اورنگزیب، احسن اقبال اور دیگر رہنما بھی شہباز شریف سے ملاقات کیلئے عدالت پہنچے۔

اس موقع پر ایک صحافی نے میاں شہباز شریف سے سوال کیا کہ آپ کو عدالت پیشی کیلئے بکتر بند گاڑی میں لایا گیا، اس پر آپ کیا کہیں گے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ظلم کی انتہا ہے لیکن کوئی بات نہیں۔

خیال رہے کہ نیب کی جانب سے منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ میاں شہباز شریف نے اربوں روپے بنائے، اس سلسلے میں ان کے اپنے فرنٹ مین، ملازمین اور منی چینجرز نے ان کی مدد کی۔ شہباز شریف نے متعدد بے نامی اکائونٹس سے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی۔

قومی ا حتساب بیورو کے مطابق شہباز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں نے اربوں کے اثاثے بنائے۔ خیال رہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔ نیب کا کہنا ہے کہ میاں شہباز شریف اور ان کے اہلخانہ نے کرپشن کرکے اس وقت 7 ارب سے زائد کے اثاثے بنا لیے ہیں۔

شہباز شریف اور ان کے صاحبزادوں نے 2008ء سے 2018ء تک کاروباری یونٹس قائم کیے۔ 1990ء میں شہباز شریف کے اثاثوں کی مالیت 21 لاکھ تھی جو 2018ء میں بے نامی کھاتے داروں اور فرنٹ مین کی وجہ سے 6 ارب کے قریب پہنچ گئی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کو لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ نیب کا مؤقف ہے کہ شہباز شریف کے خلاف سٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر انکوائری شروع کی۔


ای پیپر