Trump or Joe Biden? Who will be the next US President? There is only one day left in the election
02 نومبر 2020 (08:00) 2020-11-02

واشنگٹن: امریکی عوام ڈونلڈ ٹرمپ اور جوبائیڈن میں سے کس کو اپنا صدر چنے گی، اس بات کا فیصلہ الیکشن میں ہوگا جو کل ہوگا۔ الیکشن مہم عروج پر پہنچ گئی ہے۔ نیویارک سمیت کئی ریاستوں میں جلسے اور ریلیاں جاری ہیں۔

صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے فلاڈلفیا میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہماری زندگی کا سب سے اہم صدارتی الیکشن ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنا بوریا بستر اٹھا کر گھر چلے جائیں۔ ہم ٹویٹس، غصے، نفرت، ناکامی اور غیر ذمہ داری سے تنگ آ چکے ہیں۔ عوام ایسا صدر دیکھنا چاہتے ہیں جو تنائو کی صورتحال کو کم کرے۔ ٹرمپ خود کو سخت گیر قرار دیتے ہیں حالانکہ حقیقیت یہ ہےکہ وہ انتہائی کمزور ہیں۔ دو دن میں اس صدارت کا خاتمہ ممکن ہے جو ملک کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی۔ وقت آ گیا ہے کہ قوم کی زندگی میں نئی روح پھونکی جائے۔ 

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے مشی گن میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا جوبائیڈن کرپٹ سیاستدان ہے۔ اگر جوبائیڈن جیت گیا تو چین امریکا کا مالک بن جائے گا۔ جوبائیڈن ہمیشہ سے ہی ایک ڈمی آدمی رہا ہے۔ جو ملک کو ایک اور جنگ میں دکھیل دے گا۔

خیال رہے کہ امریکی سیاست کا فیصلہ تین نومبر کو ہوگا۔ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ری پبلیکن پارٹی سے ہے جبکہ ان کے مدمقابل ڈیموکریٹس کے جوبائیڈن میدان میں اترے ہیں۔ ٹرمپ اگلے چار سال کیلئے صدر بننے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کی جانب سے اپنے مخالفین پر شدید الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ خیال رہے کہ جوبائیڈن اس سے قبل باراک اوباما کے دور حکومت میں نائب امریکی صدر کے عہدے پر براجمان رہ چکے ہیں۔ وہ 1970ء سے امریکی سیاست میں سرگرم ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا میں صدر کے انتخاب کیلئے الیکٹورل کالج کا سسٹم ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر امیدوار زیادہ ووٹ حاصل کر بھی لیتا ہے تو اس کو فاتح قرار نہیں دیا جا سکتا، اس کیلئے یہی الیکٹورل کالج کا نظام استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بہترین مثال 2016ء میں ہونے والے الیکشن تھے جس میں اس وقت کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے ڈونلڈ ٹرمہ کے مقابلے میں 30 لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کئے لیکن پھر بھی ہار ان کا مقدر ٹھہری۔

حالیہ امریکی انتخابات کی قومی رائے شماری میں جوبائیڈن موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے آگے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان کی مقبولیت کا گراف 50 فیصد تک ہے لیکن کچھ روز سے ٹرمپ دوبارہ عوام میں مقبول ہو رہے ہیں۔


ای پیپر