چیف سیکرٹری ،صوبائی افسر وں کی بھی سنیں
02 نومبر 2020 2020-11-02

بیوروکریسی کسی بھی ملک کے نظام میں وفاق اور صوبوں کا چہرہ ہوتی ہے،سرکاری مشینری کا ہر کل پرزہ اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے،درجہ بدرجہ کام ہونے سے ہر کام میں معقولیت آتی ہے اور گڑبڑ کے امکانات کم سے کم ہوتے چلے جاتے ہیں،اگر کہا جائے کہ سرکاری افسر حکومت کا فرنٹ فیس، ملکی آئین اور حکوت کی وضع کردہ پالیسیوں کے تحت سرکاری امور کی انجام دہی ان کا فرض منصبی اورآئینی تقاضا ہے تو غلط نہ ہو گا۔بد قسمتی سے پاکستان ماضی میں برطانوی کالونی رہا اور اب بھی کالونیل نظام ہی کے زیر اثر اور وفاق کا مرہون منت ہے،جس کے نتیجے میں صوبائی سروس اور اس کے ارکان دوسرے درجے کے شہری کا درجہ اختیار کر چکے ہیں۔ 

منتخب نمائندوں کی مشکل یہ ہے کہ وہ آئین بینی پر توجہ ذرا کم دیتے ہیں ، وزراءاپنے محکمہ کے رولز اینڈ ریگولیشنز سے نا آشنا ہوتے ہیں،حکومتی امور کو زبانی احکامات اور اپنی خواہشات کے ذریعے چلانے کی کوشش کرتے ہیں ،جسکی وجہ سے خود بھی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور حکومت کےلئے بھی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ اس کا حل یہ بھی ہے کہ وزراءبیوروکریسی کو اپنا ماتحت اور ذاتی ملازم نہ سمجھیں اور ان کو آزادانہ قوانین کے مطابق فرائض انجام دینے دیں تو معاملات بہتر انداز میں چل سکتے ہیں ،اس سے نیب کا کردار ہی ختم ہو سکتا ہے ، منتخب نمائندے اور سرکاری افسر مل جل کر بلا خوف و خطر اپنے اپنے فرائض انجام دیں اور حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں تو ملک و قوم ایک مرتبہ پھر ترقی ،کامرانی، شادابی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں،ورنہ حکومت کے انتخابی وعدے آج بھی خواب ہی رہیں گے ایسے خواب جن کی کوئی تعبیر نہ ہو۔

اس وقت ملک اور صوبوں میں بیوروکریسی بٹی ہوئی ہے ،وفاقی بیوروکریسی اور صوبائی بیوروکریسی جو پی اے ایس ( پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس) اور پی ایم ایس(پروونشل مینجمنٹ سروس) کہلاتی ہے۔ملک میں پی اے ایس کا راج ہے ،تمام پالیسیاں وہی بناتے ہیں اور عمل درآمد بھی وہی کراتے ہیں۔پی ایم ایس افسران کو اپنے اپنے صوبوں کی پوسٹوں پر تعیناتی کےلئے پورا حصہ نہیں مل رہا۔ 

دنیا بھر میں ریاستیںآئین و قانون کے مطابق ہی چلتی ہیں اور مملکت کا نظام اگر زبانی معاہدوں کے تحت چلایا جائے تو نہ آئین پر عملدرآمد ہوتا ہے اور نہ امور مملکت چلائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی عوامی مسائل و مشکلات کو حل کیا جا سکتا ہے،پھر حکومت کا ہونا نہ ہونا بھی یکساں ہو جاتا ہے،اس نازک صورتحال میں جس کا کام اسی کو ساجھے ،ا نتہائی ضروری ہے کہ وفاقی بیوروکریسی اپنا رویہ بدلے اور صوبائی بیوروکریسی کو اس کا آئینی حق دے اسے تیسرے درجے کی مخلوق اور شودر نہ سمجھے،خالص صوبائی پوسٹ پر وفاقی افسر کی تعیناتی وفاق اورآئین کو کمزور کرتی ہے اس روش کو بھی بدلنا ہوگا۔

صوبائی افسران کے مطابق ،،نظم اور امور کو وزراءکے ذریعے چلنا چاہئے ،ملک میں سیاسی اور مالی وفاقیت آئین کے مطابق تشکیل پا چکی مگر اب تک انتظامی فیڈرلزم قائم نہ ہونے سے وفاقی افسران کی طرف سے مسلسل آئین شکنی ہو رہی ہے،ضروری ہے کہ انتظامی امور وفاقی بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ طے شدہ کوٹے کے مطابق صوبائی بیوروکریسی کے ذریعے چلائے جائیں۔

صوبائی افسروں کے ان خدشات تحفظات اور مطالبات کی روشنی میں نظام کا سرسری جائزہ لینا بھی ضروری ہے اور وفاقی حکومت خاص طور پر وزیر اعظم کو اس حوالے سے سوچ بچار بھی کرنا ہو گی ورنہ ریاست کا تیسرا مگر اہم ستون اور حکومت کا چہرہ انتظامیہ اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں مشکلات کا شکار رہے گا اور حکومت ڈیلیور نہیں کر سکے گی۔

گورننس کی ناکامی اس وقت ہوتی ہے جب چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی نگرانی وفاق کرتا ہے جس سے وزیر اعلیٰ،کابینہ اور منتخب اسمبلیوں کو غیر اہم کر دیا جاتا ہے،سول سروس کی بنیاد 1915ءکے انڈین ایکٹ کی روشنی میں 1954 میں رکھی گئی اور اس کا بنیادی مقصد صوبوں کو وفاق کے ذریعے کنٹرول کرنا تھا،مگر حیرت انگیز طور پر یہ قواعد نہ تو آئین کا حصہ ہیں نہ اس حوالے سے قانون سازی کی گئی بلکہ صرف ایک زبانی معاہدے کے تحت صوبائی بیوروکریسی کی قسمت ،مستقبل اور اختیارات طے کر دیئے گئے،جس کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ،1935ءکے قوانین اس حوالے سے عارضی نافذ کئے گئے مگر 1956ءاور1962ءکے آئین میں اس کا تذ کرہ موجود نہیں،ذوالفقار بھٹو نے سی ایس پی سروس کی جگہ سی ایس ایس کا نظام متعارف کرایامگر ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے صوبائی پوسٹس پر وفاقی بیوروکریسی لگا دی گئی،ہونا تو چاہئے تھا کہ سی ایس پی کو ایکٹ رولز اور کیڈر کے ذریعے نافذ کیا جاتا مگر آئین کے ذریعے ایسا ممکن نہ تھا اس لئے انتظامی حکم کا سہارا لیا گیا۔

ایسے حالات میں وزیر اعظم عمران خان کا 250سالہ قدیم نظام کو کو تبدیل کرنے کا خواب بھی کالونیل نظام میں کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے اور اسی بوسیدہ اور ناکارہ نظام کو اصلاحات کے ذریعے بحال کرایا جا رہا ہے جس پر صوبائی بیوروکریسی میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے،لیکن جب تک اس بنیادی تضاد کا حل نہیں نکالا جا تا ریاست کمزور رہے گی،گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوں کی بیوروکریسی کی خواہش ہے کہ وہ تمام رولز جو قانون سازی کے بغیر وجود میں آئے ان کو تحلیل کر کے قانون سازی کے ذریعے صوبائی بیورو کریسی کو تحفظ دیا جائے،ورنہ سٹیٹس کو مزید مضبوط ہو جائے گا اور تبدیلی کا خواب آنکھوں میں ہی دم توڑ دے گا۔

وفاقی بیوروکریسی بھی ٹھنڈے دماغ سے سوچے صوبائی سروس انکی دشمن نہیں ،انہی کی طرح مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہو کر آنے والے یہ افسران بھی ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں،چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک بڑے منجھے ہوئے ،سمجھدار اور بردبار افسر ہیں،ان سے یہی امید ہے کہ وہ صوبائی سروس کے ساتھ انصاف کریں گے۔وہ اگرصوبائی افسروں کے اصل نمائندوں کی بجائے ریٹائرمنٹ کے قریب چند افسروں کو مل کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے صوبائی سروس کے مسائل حل کر دیئے ہیں تو اس پر ہنسا ہی جا سکتا ہے،صوبے کے تمام صوبائی افسرآپ کی ٹیم کا حصہ ہیں،ان کے مسائل سنیں،ان کو گلے سے لگائیں آپ کے قد اور عزت میں بھی اضافہ ہو گا اور انتظامی امور بھی بہتر چلیں گے۔


ای پیپر