میدان میں کب تک رہینگے؟مولانا نے اپنے کارڈ شو کروادئیے
02 نومبر 2019 (23:53) 2019-11-02

اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آئندہ دو روز میں مزید سخت فیصلے کر نے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ حکومت سے نجات تک ہم میدان میں رہیں گے ۔

مولانا کا کہنا تھا کہ ڈی چوک جانا ایک تجویز ہے ،مودی عمران خان کے وزیر اعظم بننے پر بہت خوش ہے ، ہمیں کہا جاتا ہے بھارتی میڈیا کوریج دے رہا ہے اب صرف بھارت ہی نہیں ، بین الاقوامی میڈیا بھی کوریج دے رہا ہے،خان صاحب اب آپ کی رٹ ختم ہوگئی ہے ،کرسی پر بیٹھنے سے کوئی حکمران نہیں بنتا،نکمے حکمران پاکستان کے لیے رسک بن چکے ہیں،اپنے آپ کو وزیر اعظم کہتے ہو تو زبان بھی وزیر اعظم والی استعمال کرو ،تمام سیاسی جماعتیں وزیر اعظم عمران خان کے استعفے کے مطالبے پر متفق ہیں،آئندہ آنے والے دنوں میں حکومت بنائیں گے ، اس ملک کو ترقی دلائیں گے اورمعیشت کو سنبھالیں گے۔

ہفتہ کو آزادی مارچ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آزادی مارچ کے شرکاءنے سفر کی صعوبتیں برداشت کی،تمام شرکاءکی استقامت کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ جعلی حکومت نے کمیٹی بنائی ہے اور کہا ہے کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں،ہر طرف کنٹینر لگائے گئے ہیں، حکومت کس راستے سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے،وزیراعظم ہاو¿س، صدر ہاو¿س اور بنی گالا کے راستے بند کر دئیے گئے ہیں، حکومت کہتی ہے ہم آئین اور قانون کے مطابق مذاکرات کرینگے ،حکومت اپنی آئینی اور قانونی حیثیت سے متعلق تو وضاحت دے،رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوا ہم سب اکٹھے ہیں،رہبر کمیٹی نے ڈی چوک جانے کی تجویز دی ہے۔

انہوںنے کہاکہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے معاہدہ توڑ دیا گیا ہے،ہم ہیں کہ معاہدے کی پاسداری کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ کہتے ہیں خواتین کی عزت نہیں کی ،جتنی خواتین کو عزت ہم دیتے ہیں اتنی کسی کی طرف سے نہیں جاتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جتنی بھی خواتین اینکرز پرسن اور صحافی حضرات آئی ہیں ہم نے ان کو عزت دی ہے اور خود ان اینکرز اور صحافیوں نے اعتراف کیا ہے کہ ہمیں پہلے والے دھرنوں سے زیادہ عزت ملی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے خواتین کو احترام دیا ہے اور انہوںنے اپنے فرائض انتہائی عزت و آبرو کے ساتھ سر انجام دیئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہم پہلے بھی عزت والے لوگ تھے دوسروں کو بھی عزت دینا جانتے ہیں اور خاتون کو بھی عزت دینا جانتے ہیں ،کبھی کہا جاتا ہے آپ کی باتیں ایسی ہیں کہ ہندوستان کا میڈیا بہت چلا رہا ہے ہندوستان کا میڈیا نہیں چلا رہاہے بلکہ پوری دنیا کامیڈیا چلا رہا ہے ،پوری دنیا کامیڈیا ہمارے آزادی مارچ کو دکھانے پر مجبور ہے ۔

انہوں نے کہاکہ دنیا پاکستان کے آزادی مارچ کو کورکررہی ہے ،صرف انڈیا کی بات مت کرو ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پھر کہتے ہیں مودی فضل الرحمن سے بڑا خوش ہے میں کہتا ہوں مودی کشمیر کو عمران سے چھینے میں کامیاب ہوگیا اس نے عمران خان کے ہوتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کر دیا ہے ، آپ کے ہوتے ہوئے جو رعایتیں مل رہی ہیں جس طرح وہ کشمیریوں کا خون پی رہاہے وہ آپ کے سامنے ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مودی کشمیر میں اپنی گرفت مضبوط کررہا ہے آپ سے بڑھ کر اس کےلئے اور کوئی خوش قسمت نہیں ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اسلام آباد میں ایسی قوت آئی ہے اب اسرائیل کو تسلیم کر نے کی بات نہیں ہو سکے گی ۔

انہوںنے کہاکہ اپوزیشن جماعتوں سے مسلسل رابطے میں ہیں ، ہمارے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ آپ کے ساتھ مسلم لیگ نواز نہیں ہے آپ کے ساتھ پیپلز پارٹی نہیں ہے آپ کے ساتھ فلاں جماعت نہیں ہے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آپ نے دیکھا کہ یہاں مسلم لیگ (ن)کی قیادت بھی آئی اور پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹوزر داری دو بار آئے ہیں یہاں پر تمام سیاسی جماعتیں موجود ہیں ،ہم سب ایک ہیں اور حصول مقصد تک ایک ساتھ رہیں گے ۔


ای پیپر