اگلے 48گھنٹوں میں دما دم مست قلندر ,اپوزیشن جماعتوں نے خطرہ کی گھنٹی بجادی
02 نومبر 2019 (19:24) 2019-11-02

اسلام آباد : اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اگر وزیر اعظم کے استعفیٰ پر بات نہیں ہو سکتی تو پھر رابطہ کرنے کی کیا ضرورت ہے ،رہبر کمیٹی کے اجلاس میںاجتمائی استعفوں ، ملک گیر شٹر ڈاﺅن اور ہائی ویز کو بند کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا ۔

تفصیلات کے مطابق حکومتی کو ر کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپوزیشن کی رہبر کمیٹی میں اکرم درانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا وزیر اعظم کا استعفیٰ اور نئے انتخابات ہی ہمارا پہلا مطالبہ ہیں ،اگر حکومت وزیر اعظم کے استعفیٰ پر بات نہیں کر سکتی توپھر رابطہ کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟اکرم درانی نے کہا رہبر کمیٹی برقرار رہے گی ،اضلاع کی سطح پر احتجاج اور دیگر آپشنز پر بھی غور کیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا حکومت سے معاہدہ کیا تھا حکومت معاہدے سے بھاگ رہی ہے ،رہبر کمیٹی اور ہماری لیڈر شپ اپنے موقف پر قائم ہے ،وزیر اعظم اپنے لب و لہجہ کو در ست کر لیں ،کوئی بھی غیر آئینی اقدام اٹھایا گیا تو اس کیخلاف مزاحمت کی جائے گی ،فی الوقت حکومتی کمیٹی سے رابطہ کرنے میں کوئی عار نہیں ۔اکرم درانی کا کہنا تھا اس وقت استعفیٰ ،لاک ڈاﺅن اور ہڑتال کے آپشن پر بھی غور کیا گیا ہے ،حکومت ملک کی سلامتی سے کھیل رہی ہے ۔

رہبر کمیٹی کے اجلاس میں احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا حکومت کو معیشت کی الف ب کا بھی پتہ نہیں ،یہ حکومت ملکی معیشت کیلئے خطرہ بن چکی ہے ،اس حکومت نے پاکستان کو تماشہ بنا دیا ہے ۔


ای پیپر