پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس،مولا نا فضل الرحمن کیخلاف کاروائی کا اعلان کر دیا
02 نومبر 2019 (18:35) 2019-11-02

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کی کور کمیٹی نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آزادی مارچ میں وزیر اعظم عمران خان کے استعفی اور نئے انتخابات کے مطالبہ کر مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان مستعفی نہیں ہوں گے اور نہ دوبارہ انتخابات ہوں گے، استعفی دیوانے کی بڑھکیں ہیں۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ و وزیردفاع پرویز خٹک کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعظم کے استعفیٰ پر کوئی بات نہیں ہوگی جب کہ حکومت مولانا فضل الرحمان کے بیان کے خلاف عدالت جائے گی۔

انہوں نے کہا آزادی مارچ کے شرکا جب تک چاہیں بیٹھے رہیں،معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی توقانون حرکت میں آئے گا، افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا سلامتی،دفاع کے ساتھ جڑے ادارے کو اپوزیشن کا ٹارگٹ نہیں بننے دیا جائے گا اوراداروں کی تضحیک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعظم کو گرفتار کرنے کا بیان شرمناک اورقابل مذمت ہے، ہفتہ کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی کور کمیٹی میں موجودہ صورتحال اور مولانا فضل الرحمان کے مطالبات زیر غور آئے اور مولانامارچ سے نمٹنے کی حکمت عملی پر مشاورت مکمل کرکے اہم فیصلے کر لئے گئے۔

اجلاس میں سیاسی اور انتظامی بیانیہ مشترکہ طور پر چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ، کورکمیٹی نے کہا استعفی دیوانے کی بڑھکیں ہیں، وزیراعظم نے جمہوری رویے کا اظہار کرتے ہوئے بڑے دل کا مظاہرہ کیا۔ اجلاس میں افواج پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی مذمت کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا سلامتی،دفاع کے ساتھ جڑے ادارے کو اپوزیشن کا ٹارگٹ نہیں بننے دیا جائے جبکہ اداروں کی تضحیک کسی صورت برداشت نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

کور کمیٹی کے اجلاس میں حکومت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کی تقریر میں وزیر اعظم کیخلاف بیان بغاوت کے زمرے میں آتا ہے لہذا اب کیخلاف بغاوت کا مقدمہ لے کر عدالت میں جائینگے ۔

پی ٹی آئی کورکمیٹی نے کہا ادارے پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کے ضامن ہیں، اداروں کی لازوال قربانیوں کے باعث پاکستان آگے بڑھا، سیاسی بیانے میں زیرو ٹالیرنس ہے، فوج نے قربانیاں نہ دی ہوتیں توملک میں امن نہ ہوتا، سیاسی، جمہوری حکومتیں آئین سے بغاوت نہیں کرتیں۔کورکمیٹی کا کہنا تھا کہ جمہوری حکومتیں نہ ہی عوام کے ہجوم میں بغاوت کادرس دیتی ہیں، وزیراعظم کو گرفتار کرنے کا بیان شرمناک اورقابل مذمت ہے، وزیراعظم کے باعث ملک کودنیابھرمیں پذیرائی مل رہی ہے،وہ اپنے نہیں قوم کے بچوں کے بہترمستقبل کےلئے کوشاں ہیں۔

ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ور وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے اجلاس کے دوران کور کمیٹی کو اپوزیشن سے رابطوں سے متعلق آگاہ کیا۔وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کے حقوق متاثر نہیں ہونے دیں گے۔کور کمیٹی کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکاء جہاں بیٹھے ہیں وہیں رہیں گے تو حکومت کوئی کارروائی نہیں کرے گی، اگر معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی تو قانون حرکت میں آئے گا۔

پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے ارکان کا مزید کہناتھا کہ سیاسی اور جمہوری حکومتیں آئین سے بغاوت کرتی ہیں اور نہ عوام کے ہجوم میں بغاوت کا درس دیتی ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے اجلاس کے دوران سیاسی بیانیہ بہترانداز میں پیش کرنے پر مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی تعریف بھی کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کور کمیٹی کو ہدایت کی گئی کہ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پارٹی بیانیہ کو آگے بڑھایا جائے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومتی بیانیہ کو عوام تک پہنچانا معاون اطلاعات کی ذمہ داری ہے, اٹارنی جنرل اور مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان فردوس عاشق اعوان کو قانونی رہنمائی فراہم کریں۔ وزیر قانون فروغ نسیم کو بھی عدالت میں پیشی سے متعلق قانونی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔


ای پیپر