قسمت
02 نومبر 2019 2019-11-02

29 اور 30 اکتوبر کو پاکستان بھر کے تاجران کی کال پر کراچی سے پشاور تک کچھ جگہوں پر علامتی اور کچھ جگہوں پر مکمل شٹر ڈاو¿ن ہڑتال کی گئی۔ ہرقسم کی مارکیٹیں اور بازار بند رکھے گئے۔ عام لوگوں کی زندگی یقینامتاثر بھی ہوئی۔ لیکن بدھ کی دوپہر دو بجے کے بعد حکومت اور تاجر برادری کے درمیان کامیاب مذاکرات کی خوشخبری ملی اور عام آدمی کو سکھ کا سانس لینے کا موقع ملا۔ اصولی بات ہے احتجاج کی ہر صورتحال میں ایک سٹیج مذاکرات کی آتی ہے اور مذاکرات کرنے سے پہلے ہر فریق یہ تعین کر چکا ہوتاہے کہ وہ کس نقطے پر اپنے مطالبات میں لچک یا نرمی پیدا کرسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خرید و فروخت میں شناختی کارڈ کے کردار کو تین ماہ کے لیے موخر کردیا گیا۔ فکس سطح پر ٹیکسوں کی وصولی کا مطالبہ مان لیا گیا۔بہرحال بے چینی کی کیفیت ختم ہوگئی۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے 25 اگست کو اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا ارادہ رکھتی ہے جس کا مقصد اکتوبرمیں جعلی حکومت کو گھر بھیجنا ہے۔ اور ہم نے دیکھا کہ اکتوبر گزر گیا۔مولانا صاحب کہتے ہیں کہ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ مستعفی ہو کرگھر چلی جائے اور اگر یہ خود نہیں جاتے تو ہم انہیں گھر بھیجیں گے۔مولانا صاحب کا 'ایمان' ہے کہ حکمران ناجائز ہیں اور قوم پر جبری طور پرمسلط ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے جبر کی حکومت کو نہ تسلیم کیا ہے اور نہ کریں گے۔ شکر ہے طالبان خان اور یہودی ایجنٹ اور اسلام آباد میں اسرائیلی پرچم کے عنقریب لہرانے والے نعرے اب ختم ہوگئے۔ لیکن صرف مولانا فضل الرحمٰن کی ہی قیادت میں آزادی مارچ کے اہداف کیا ہیں۔ یقین جانیے سمجھ سے بالاتر ہے۔ بارہ جھنڈے مسلم لیگ نون کے، اٹھارہ جھنڈے پیپلز پارٹی کے، اسی طرح چند پرچم دیگر پارٹیوں کے اور کنٹینر پر تمام سیاسی اپوزیشن جماعتوں کی تصاویر لگا کر عدالت، پارلیمان اور کمیٹیوں کے سامنے اپنا'کیس' پیش کیے بغیر اگر کوئی اسلام آباد فتح کرنے کا خیال ذہن میں رکھتاہے تو اسے خام خیالی ہی تصور کیا جائے تو بہتر ہے۔ ایک غلط قدم اگر ایک جمہوری دور میں غلط تصور کیا گیا تو دوسرے جمہوری دور میں اسے درست کس طرح گردانا جاسکتا ہے۔

آزادی مارچ اپنے آغاز سے ہی اختلافات کا شکار رہی۔ اپوزیشن کی دیگرجماعتوں کی جانب سے بے دلی کے ساتھ دیے جانے والے بیانات بار بار اس عمل کی غمازی کررہے تھے کہ تمام اپوزیشن کا پورے مارچ اور اسلام آباد جلسے میں شرکت محض علامتی ہی نظر آئے گی۔ اور پورے مارچ میں ایسا ہی نظر آیا۔چند گھنٹوں کے لیے مولانا سے بغل گیر میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹوزرداری کی بے گناہ بے تکثیر زدہ الفاظ کے ساتھ تقاریر اپوزیشن کو متحدپیش نہیں کرسکیں۔رہی بات پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے آزادی مارچ کے موازنے کی تو اس کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عینی شاہد ہونے کی وجہ سے دونوں کے مارچ میں کسی ایک نقطے کی بھی مماثلت نہیں ہے۔ ماسوائے وقت کے وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کے۔ نہ پی ٹی آئی اس میں کامیاب ہوسکی اور نہ جے یو آئی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔

حالانکہ 2014 میں کئی اداروں کا اعتماد تک اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف صاحب کھو چکے تھے۔ وقت کا آرمی چیف دھرنے اور جلسے والوں سے باضابطہ خودملاقاتیں کررہا تھا۔ پارلیمان کی لوہے کی جالیاں توڑنے والے عوامی تحریک کے کارکنان جو سولہ لاشوں کا وزن لیے اس مارچ اور دھرنے میں شریک تھے محض ہیڈ فون پر آنسو گیس کی شیلنگ کے دوران چند جملے سن کر ہی ساکت ہو کربیٹھ گئے۔

جب کرنل رینک کے ایک افسر نے میرے سامنے یہ کہا کہ مانا کے آپ اپنے پیاروں کے غم لیے عقلوں کو بالائے طاق لیکن جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے محض اپنی مرضی کی ایک ایف آئی آر کٹوانے کے لیے اس جگہ موجود ہیں۔ آپ کاجتنا عرصہ دل چاہے اپنا قیام اس جگہ پر رکھیے۔ یہ پاکستان آپ کا ہے اورآپ عوام ہیں۔

لیکن خبردار! سپریم کورٹ، پارلیمان، ایوان صدر، ایوان وزیراعظم میں داخل ہونے کی کوشش مت کیجیے گا۔ کیوں کہ یہ حکومت کی نہیں ریاست کی نشانیاںہیں اور ریاست پاکستان کی حفاظت کرنے کے لیے پاک فوج کے جوان ایک ایک عمارت کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔اسی طرح پاکستان تحریک انصاف شہر شہر جلسے، پارلیمان، کمیٹیاں، کمیشن اورعدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے کے بعد اپنی حجت تمام کرچکی تھی۔ جس کی بناپر اگست میں مارچ کا خیال لے کر عمل پیرا ہونے اسلام آباد کی جانب گامزن ہوئی۔ لاکھوں کے مجمعے کی دعوے دار جماعت ایک سو چھبیس دنوں میں صرف درجنوں کی گنتی پر پہنچ گئی۔ نہیں ملا تو پارلیمان سے وزیراعظم کا استعفیٰ نہیں ملا۔

لیکن آج جمعیت علمائے اسلام اور دیگر جماعتوں میں سے کسی ایک کے پاس بھی ایسا ایک جواز بھی موجود نہیں ہے جس کی بنا پر وہ کہہ سکیں کہ عدلیہ ہویا ادارے، کمیٹیاں ہوں یا کمیشن ان کی شنوائی کہیں نہیں ہورہی۔دو ہزار چودہ میں ایک سو چھبیس دن کا دھرنا دینے کے بعد جب پاکستان تحریک انصاف کو یہ معلوم پڑگیا کہ معاملات ان کی امیدوں کے برعکس جارہے ہیں توسانحہ اے پی ایس ہی تھا جس کی اوٹ لیتے ہوئے face-saving کی گئی۔ لیکن اپنی استقامت کی دھاک بٹھانے میں ان کا سربراہ کامیاب رہا۔لیکن سانحہ خانیوال کی شکل میں وہی موقع اپوزیشن کو قدرت نے پہلے دن ہی فراہم کیا۔ جب پوری قوم رنجیدہ اور غمگین ہے تو شاید اسلام آباد کے جلسے کو مو¿خر کیا جاسکتا تھا۔ ؟لیکن قسمت موقع بار بار کب دیتی ہے۔


ای پیپر