آئیڈیل ازم کے اسیر عوام اور تھانہ کلچر
02 نومبر 2018 2018-11-02

آئیڈیل ازم کے اسیر ہم ایسے لوگوں کو ہر چیز کا مثبت پہلو دیکھنے کی عادت ہوتی ہے ۔ ممکن ہے حالات موافق نہ ہوں لیکن یہ بات دل کو تسکین پہنچاتی ہے کہ برے سے برے منظر نامے میں بھی خواب دیکھنے اور سوچنے کی آزادی بہرحال میسر رہے گی ۔ ہم خواب دیکھنے والے عموما اس کی تعبیر کے انتظار میں زندگی کے قید خانے میں گنگناتے رہتے ہیں ۔ زہر کا پیالہ پینے والا سقراط بھی یہ سوچ کر خوش تھا کہ وہ بیگناہ مارا جا رہا ہے ۔ بے گناہ مارے جانا بھی تو ایک نعمت ہے ورنہ کون چاہتا ہے کہ وہ گناہ کرے اور پھر اس گناہ کی پاداش میں مارا جائے ۔ یہی صورت حال ہمارے ساتھ ہے کہ ہم چاہتے ہیں اگر تصویر کے دو رخ دیکھنے کی سہولت میسر ہو تو مثبت رخ کو دیکھا جائے ۔ امید قائم کی جائے کہ حالات بہتر ہوں گے اوربہتر سے بہتر کی جانب سفر جاری رہے گا۔ مایوسی پھیلانے سے شاید’’ ریٹنگ گیم ‘‘ ایک درجہ اوپرلیجانے میں کامیابی مل جائے لیکن اس کے ردعمل کے طور پر بحثیت قوم ایک درجہ تنزلی بھی ہونے لگتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ہم ملکی ترقی اور ایک بہتر پاکستان کی جانب سفر جاری رکھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں منفی سوچوں سے چھٹکارہ پا کر مثبت پہلوؤں پر غور کرنا ہو گا۔ بدقسمتی سے ہماری سیاسی تاریخ نئے طالب علم کے لئے ایسے کئی انکشافات سے بھری پڑی ہے جو مایوسی کی جانب دھکیلتے ہیں لیکن آئیڈیل ازم کے اسیر ہم ایسے لوگ اس کے باوجود یہی سوچتے ہیں کہ پاکستان جن برے حالات کا سامنا کر چکا ہے اس کے بعد اب یقیناًترقی اور بہتری کا سفر طے ہو گا۔ 

اگلے روز ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ضیا شاہد کی نئی کتاب ’’ میرا دوست ، نواز شریف ‘‘ کے حوالے سے نشست تھی ۔ ضیا شاہد نے اس کتاب میں ایک عہد سمٹ دیا ہے ۔ صحافت اور سیاست کے طالب علم کی حیثیت سے میری دلچسپی اس کتاب میں اس وقت سے تھی جب ضیا شاہد پاکستانی سیاست اورصحافت کا یہ عہد اپنے اخبار کے صفحات میں محفوظ کرتے ہوئے تاریخ کے سپرد کر رہے تھے۔ اب علامہ عبد الستار کی کوششوں سے تاریخ کا یہ اہم باب کتابی صورت میں ہمیں میسر ہے ۔ ضیا شاید نواز شریف کے قریبی دوست تھے اور وہ بتاتے ہیں کہ نواز شریف کو سیاست میں آگے لانے کے لئے گورنر ہاؤس لاہور میں ایک میٹنگ ہوئی اور انہیں کہا گیا کہ اب نواز شریف کو نمایاں طور پرکوریج دی جائے ۔ یہاں سے ضیا شاہد اور نواز شریف کی دوستی کا آغاز ہوا اور پھر ایک وقت آیا جب نواز شریف نے انہیں گلے مل کر کہا کہ ضیا صاحب آج کے بعد ہم دوست نہیں ہیں ۔ ضیا شاہد نے لگی لپٹی رکھے بنا سیاست کی غلام گردشوں میں سینہ بہ سینہ سنائی جانے والی کہانیوں کو قرطاس پر محفوظ کیا ہے ۔ 

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ایک عرصہ تک ہم ملکی ترقی کی بجائے انتقامی سیاست کے اسیر رہے ۔ زمانہ جاہلیت کی طرح ہر فاتح اپنے مخالفین کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔ ضیا شاہد کی یہ کتاب بھی ایسی ہی کئی داستانیں سناتی ہے ۔یہ طے ہے کہ جب بھی کوئی حکومت عوام کی فلاح کی بجائے مخالفین سے بدلہ لینے کا سوچنے لگے تو اس کا خمیازہ ملک کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان ایک عرصہ تک ایسی سیاست کا شکار رہا ہے ۔ اب امید ہے کہ صورت حال بہتر ہو گی کیونکہ پنجاب پولیس کے نئے سربراہ کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں سسٹم کو لاحق اصل مرض کا ادراک ہے ۔ نئے آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی سب سے پہلے انسپکٹرز ، ڈی ایس پیز اور اے ایس پیز کے دربار منعقد کئے اور پنجاب بھر کے پولیس افسران کے مسائل سننے کے ساتھ ساتھ انہیں واضح طور پر سروس ڈیلیوری سے متعلق ہدایات دیں ۔ میڈیا کی موجودگی میں انہوں نے کہا ہمارا یہ کام ہرگز نہیں کہ ہم نئی حکومت کے کہنے پر پرانی حکومت کے خلاف انتقامی کاروائیاں کریں بلکہ ہمارا کام عوام کو بہترین سروس ڈیلیوری ہے ۔ یہاں اچھی بات یہ ہے کہ پنجاب پولیس کے سربراہ میڈیا کو خاص اہمیت دیتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے افسران کو بھی کہا ہے کہ جرائم کنٹرول کرنے کے لئے مقامی تاجروں اور معززین علاقہ کے ساتھ ساتھ میڈیا سے بھی مدد لیں کیونکہ میڈیا کی بروقت نشاندہی کی بدولت جرائم پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ تھانہ کی سطح پر ریفارمز لائیں گے جبکہ ایف آئی آر ، تفتیش اور پٹرولنگ کے عمل کومزید بہتر بنائیں گے ۔

اس میں دو رائے نہیں کہ آئی جی پنجاب نے حقیقی معنوں میں ان مسائل کی از خود نشاندہی کی ہے جن کی وجہ سے کسی شہری کو تھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اگر تھانوں کا ماحول بہتر ہو اور شہری کی ایف آئی آر درج ہونے سے لے کر میرٹ پر تیز تر شفاف تفتیش یقینی بنا دی جائے تو کم از کم قانون پسند شہری کو تھانوں کے حوالے سے شکایت نہ رہے گی ۔ اسی طرح پٹرولنگ کا عمل جتنا بہتر ہو گا اتنا ہی شہری محفوظ ہوں گے ۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ آئی جی پنجاب نے روایتی طور پر’’ سب اچھا‘‘ کہنے کی بجائے یہ واضح کیا کہ انہیں بخوبی علم ہے کہ کہا ں کیا مسائل ہیں ۔ وہ سسٹم کو بہتر کرنے کے لئے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے پرامید نظر آتے ہیں ۔ 

ایک عرصہ سے کرائم آبزور کے طور پر یہ بات محسوس کرتا ہوں کہ پولیس میں سیاسی عمل دخل اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک پولیس افسروں اور اہلکاروں کے ٹرانسفر پوسٹنگ کے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ عام طور پر پولیس ملازمین دور دراز کی ٹرانسفر سے بچنے کے لئے سیاسی اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے سفارشیں کرواتے ہیں اور پھر بعد میں یہی سفارشی ان پر اپنے کام کے لئے دباؤ ڈالتے ہیں ۔ کرائم رپورٹرز کے پاس سب سے زیادہ سفارشیں ٹرانسفر پوسٹنگ کی ہی آتی ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی جی پنجاب نے اپنے دربار میں یہ مسئلہ سرے سے ختم کر دیا ۔ اس موقع پر درجنوں نہیں بلکہ سیکٹروں انسپکٹرزاور ڈی ایس پیز نے اپنے اضلاع یا ریجنز میں تبادلے کے لئے درخواستیں دیں جن پر فوری طور پر عمل ہو گیا جس کے بعد سیکٹروں لوگوں کو پردیس کے عذاب سے رہائی ملی ۔ کرائم بیٹ کرنے والے صحافی بخوبی جانتے ہیں کہ اس عمل سے آئی جی پنجاب نے کتنی مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ پولیس کو سیاسی دباؤ اور سیاسی عمل دخل سے آزاد کروا لیا ہے ۔ انہوں نے صحافیوں سے کھل کر باتیں کیں اور پولیس کی ویلفئر کے حوالے سے بھی کسی بات کو انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے فورس کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کا حکم جاری کیا ۔ ان کے حکم پر تھانوں کا ماحول جاذب نظر بنانے کے لئے بھی کئی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ تھانوں میں پریڈ کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ پودے لگا کر نیٹ اینڈ گرین پاکستان مہم بھی شروع کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس پر اگلے روز ڈی آئی جی ٹریننگ مرزا فاران بیگ نے دیگر پولیس افسران کے ہمراہ پولیس ٹریننگ کالج چوہنگ میں لگ بھگ ڈھائی سو پودے لگا کر اس مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ۔ میرے لئے یہ سب خوشی کے ساتھ ساتھ حیرت کا بھی باعث ہے کہ پنجاب پولیس کے نئے سربراہ بند کمروں کی میٹنگز کی بجائے عملی اقدامات پر زور دیتے نظر آتے ہیں اور فیلڈ کے حقیقی مسائل پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔ پولیس اہلکاروں کی ویلفئر اور تھانوں کے فنڈز میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایف آئی آر ، تفتیش اور پٹرولنگ کے جن مسائل کو خود آئی جی پنجاب نے اجاگر کیا ہے ، ان پر بھرپور توجہ دینے کی پالیسی ہمارے تھانے کلچر کو یکسر بدل دے گی ۔ آئیڈیل ازم کے اسیر ہم ایسے لوگوں کے لئے حبس کے موسم میں آئی جی پنجاب کی پالیسی سٹیٹمنٹ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے کم نہیں ہے ۔ پاکستان کی ترقی کا خواب دیکھنے والے ایک بار پھر امید کا دامن تھامنے لگے ہیں ۔


ای پیپر