کازا ینڈ ایفیکٹ تھیوری
02 نومبر 2018 2018-11-02

میں بنیادی طور پر سیاست میں مکافات عمل کے فلسفے کا قائل نہیں ہوں۔ پیپلزپارٹی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ میاںنواز شریف کو اپنی اہلیہ کلثوم نواز شریف کی علالت کے دوران اپنی بیٹی مریم نواز شریف کے ہمراہ جو کچھ بھگتنا پڑا یا اس سے بھی بہت پہلے پرویز مشرف نے جو کچھ ان کے ساتھ کیا وہ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو سے روا رکھے سلوک کانتیجہ تھا۔ اب یہ بحث کون کرے کہ کیا نواز شریف دونوں خواتین کے ساتھ ظالمانہ روئیے کے خالق او رمالک تھے یا وہ کوئی اور ہستیاں تھیں جن کے نام ضیاءالحق، حمید گل، عبدالرحمان یا اس جیسے بہت سارے دوسرے ہو سکتے ہیں تو کیا انہیں بھی مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کو دی گئی مظلومانہ موت کے نتیجے میں جو کچھ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھگتنا پڑا وہ کس عمل کی مکافات تھی،مکافات کے ترجمے میں جائیں تو یہ کسی عمل کی سزا، واپسی یا عذاب کے طور پر ملتا ہے،بہرحال، بات سے بات بڑھتی چلی جاتی ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ ذوالفقا علی بھٹو آمریت کے آٹھ برس تک وزیر رہے اور اس دور میں جو کچھ مادر ملت فاطمہ جناح کے ساتھ ہوا، جس طرح انہیں الیکشن ہرایا گیا جس طرح انہیں غدار قرار دیا گیا اور جس طرح مشکوک ترین حالات میں وہ موت کا شکار ہوئیں، ذوالفقا رعلی بھٹو کا خاندان اس کے مکافات عمل کا شکار ہوا تو نواز شریف والا سوال ماضی میں لے جا کر دہرایا جا سکتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو تو اس وقت محض ایک وزیر تھے ، فیصلہ ساز تو جنرل ایوب خان تھے توکیا ایوب خان بھی مکافات عمل کا شکار ہوئے۔ وہ تو اب بھی ایک سنہرے دور کے حوالے کے ساتھ یاد کئے جاتے ہیں اور ان کی اولاد اتنی خوش قسمت ہے کہ ہر دور کی کامیاب سیاسی جماعت انہیں گود میں لے کر اقتدار سے ہمکنار کئے رکھتی ہے۔

بات ابتدائی طور پر یہ ٹھہری کہ مکافات عمل کا شکار صرف اور صرف سیاستدان ہوتے ہیں جبکہ جج، جرنیل، جرنلسٹ اور بیوروکریٹوں کو بہ حیثیت مجموعی اس سے استثنیٰ حاصل ہے لہذا عمران خان صاحب نے بطور اپوزیشن لیڈر جو کچھ کیا، جس طرح دھرنے دئیے، جس طرح شہروں کو بند کرنے کی کوششیں کیں، جو زبان اس وقت کے حکمرانوں کے خلاف استعمال کی وہ سب لوٹ کے انہی کی طرف آ رہی ہے۔آج وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اس طرح کی زبان استعمال کرنے سے ریاست چلتی ہے تو اس پر قہقہے بلند ہوتے ہیں۔ عمران خان صاحب کو شائد چین جانے کی جلدی تھی وہ یا انہیں مشورے دینے والے سمجھ رہے تھے کہ وہ ایک خطاب کریں گے جس کے بعدسب لوگ ان کی بات ایسے مانتے ہوئے گھروں کو واپس لوٹ جائیں گے جیسے وہ تحریک انصاف ہی کے کارکن ہوں۔ نجانے وہ کون سے لوگ ہیں جو ایک سیاسی رہنما کو مسیحا سمجھتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے ایک خطا ب سے مظاہرین ہپناٹائز ہوجائیں گے، جو یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان اتنے قادرالکلام ہیں کہ ان کی ٹی وی آٹھ منٹ تک دی ہوئی دلیلیں لوگوں کے ذہن بدل دیں گی ، وہ ذہن جن کی بنیادیں بھی آپ نے خود ہی رکھی ہوئی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ متعلقہ حلقوں کو وزیراعظم عمران خان کی تقریر کے تجزیہ کسی صاحب علم وعقل سے کروانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ وہ باتیں جو کسی میڈیا ہاوس میں براڈ کاسٹ یا ٹیلی کاسٹ کرنے کی ہمت اور جرات نہیں تھی وہ خود عمران خان نے پورے قوم کے سامنے کھول کر بیان کر دیں کہ دھرنے والے فیصلہ کرنے والے ججوں کے بارے کیا فتویٰ دے رہے ہیں یا وہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ کے بارے کن خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ہمارے بہت سارے دوست خوش قسمتی اور بدقسمتی کی تھیوری کو نہیں مانتے، ان کا کہنا ہے کہ تمام افراد مجموعی طور پرمل کر ایک فرد کی زندگی پر اثرانداز ہوتے ہیں اور ایک فرد اپنے اعما ل سے معاشرے کے لئے اچھا یا برا ماحول پیدا کرتا ہے یعنی یہ عمران خان کی بدقسمتی نہیں ہے کہ اقتدار کے تین ماہ بھی پورے نہیں ہوئے اور انہیں وہ گانٹھیں دانتوں سے کھولنا پڑ رہی ہیں جو انہوں نے بطور اپوزیشن لیڈر ہاتھوں سے لگائی تھیں، یہ سب ” کاز اینڈ ایفیکٹ چین“ کی وجہ سے ہے۔ وجوہات اور اثرات کی زنجیریہ ہے کہ ہرعمل کسی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور وہ وجہ خود کسی عمل کی پیداوار ہوتی ہے اس طرح جو عمل کسی وجہ سے پیدا ہوتا ہے وہ خود کسی دوسرے عمل کی وجہ بن جاتا ہے۔ خوش قسمتی اور بدقسمتی کی نفی کرتی ہوئی یہ کوئی بہت زیادہ مشکل تھیوری نہیں ہے جیسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ موٹر وے پر کارسوار بدقسمتی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہو گئے لیکن اگر آپ تلاش کریں گے تو اس حادثے کی وجہ بدقسمتی نہیں ہو گی بلکہ کسی ایک فرد کا ذاتی یا معاشرے اور ریاست کا کوئی اجتماعی عمل ہو گا یعنی کارڈرائیور نے گاڑی کو چیک نہیں کیا یا ریاست نے موٹروے پر سفر کرنے والی گاڑیوںکے معیارکو چیک کرنے کا کوئی نظام ہی نہیں بنایا۔ اس کو مزید یوں واضح کیا جاسکتا ہے کہ بدقسمتی سے لاہور اسلام آباد موٹر وے پر مہینے میں ایک ہزارگاڑیاں حادثوں کاشکار ہوتی ہیں اور اگر یہ واقعی بدقسمتی ہے تو پھر استنبول قاہرہ موٹروے پر بھی ایسا ہی ہونا چاہئے مگر وہاں موثر کنٹرول اور پرفارمنس کی وجہ سے یہ بدقسمتی نہیں ہوتی بلکہ لوگ خوش قسمتی سے اپنا سفر سمندر کنارے انجوائے کرتے ہیں۔

اب آپ کو سمجھ آجانی چاہئے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ نہ تو مکافات عمل ہے کہ اگر مکافات عمل ہے تو اس کانشانہ بے چارے سیاستدان ہی کیوں بنتے ہیں اور نہ ہی یہ بدقسمتی ہے کہ اگر دنیا کے باقی ممالک نے کہیں سے خوش قسمتی ٹنوں کے حوالے سے خرید نہیں رکھی، مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ہم افراد نے اپنی ریاست کے ساتھ کیا ہے یہ اسی کا منطقی نتیجہ ہے جو ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ یہ کوئی ناقابل فہم نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر جانچا جانے کے قابل ایک سائنسی عمل ہے۔مخالف کواصول کی بجائے طاقت سے دباو میں لانے کے لئے عمران خان نے جو کچھ کیا وہ ایک عمل تھا اور یہ عمل عمران خان سے پہلے بھی جاری و ساری تھا ۔ موصوف کا عمل ایک نظرئیے کی وجہ بنااور وہ نظریہ اپنے دھرنے پیدا کر رہا ہے،یہ دھرنے پھر کسی مزید عمل کی وجہ بنیں گے اور وہ نیا پیدا ہونے والا عمل کسی نئی صورتحال کی وجہ بن جائے گا۔ یہ نظریہ ہمارے سامنے کھل کرآ چکا ہے کہ حکومتوں کو دباو میں لانے کے لئے کوئی بھی گروہ چند ہزار جذباتی اذہان کو اپنا تابع کر کے سڑکیں اور شہر بند کر سکتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جو کام عمران خان خود کوتاہی اور نااہلی کے ساتھ کرتے رہے وہی کام ان کی حکومت میں کہیں زیادہ بہتر کارکردگی اور نتیجے کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور مان لیجئے کہ یہاں پرفیکشن بھی ایک مکمل طور پر سوچا سمجھا سائنسی عمل ہے جو عمران خان کے تابعین کو مل گئی ہے۔جب تک ہم اس طرح کے ’ کاز‘ پیدا کرتے رہیں گے تب تک ہمیںان کے ’ افیکٹس ‘ کا بھی سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔

ذہن کو کنٹرول کرنے اور مسائل حل کرنے سے متعلق سینکڑوں کتابوں اور ویب سائٹس پر ہمیں یہ لیکچر مل جائے گا کہ جب ہمیںکسی مسئلے کا سامنا ہو تو اس کے حل کے بارے میں سوچنے سے پہلے ان باتوں اور چیزوں کے بارے میں سوچنا چاہئے جو اس مسئلے کو پیدا کرنے کا باعث بنی ہیں ۔ ہمیں ان تمام وجوہات کو کاغذ کی ایک سمت میں لکھتے ہوئے ’ کاز اینڈ ایفیکٹ ڈایا گرام‘ بنا لینی چاہیے۔میرا اور میرے جیسے بہت سارے دوسروں کامسئلہ یہ ہے جو سیانے تو بہت بنتے ہیں مگر ہم کاغذ پر مسئلے اصل وجوہات نہیں لکھ سکتے اور اس نہ لکھنے کی بھی بہت ساری وجوہات ہیں۔ اگر ہم ان وجوہات کو نظراندازکریں گے تو ہمیں بہت سارے اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا اوریوں ہمیں کاز اینڈ ایفیکٹ تھیوری کی عملی طور پر سمجھ آجائے گی جیسے ہم سے پہلے بہت ساروں کو آچکی ہے۔


ای پیپر