Ata Sb, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
02 May 2021 (11:37) 2021-05-02

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے اگر وزیراعظم عمران خان کو کام نہ کرنے دیا گیا… ان کا مقصد پورا نہ ہوا تو وہ اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں… جی ہاں یہ یقینا ان کا آئینی اختیار ہے… مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے انہیں کام کون نہیں کرنے دے رہا اور کون سا مقصد ہے جس کی کامیابی میں انہوں نے پہلے پونے تین سال صرف کر دیئے لیکن راستے میں اٹکا ہوا ہے… ہر دوسرے ہفتے موصوف اپنے عظیم الشان لیکن نہ نظر آنے والے مقصد کی خاطر یوٹرن لیتے ہیں… بار بار وزارتیں تبدیل کرتے ہیں… افسروں کا کوئی پرسان حال نہیں… ہمہ طاقت ور اسٹیبلشمنٹ کا سایہ ان کے سر پر قائم ہے… قومی اسمبلی میں اتحادی جماعتوں کو ملا کر اکثریت رکھتے ہیں… سینٹ میں بھی حالیہ جزوقتی انتخابات کے بعد ان کی تحریک انصاف سب سے بڑی پارٹی بن گئی… چیئرمین ان کی مرضی کا ہے… یہاں تک کہ ایوان بالا کے قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی صاحب کا جس طریقے سے چنائو کیا گیا اس پر وہ ایوان کی پوری جماعت اسٹیبلشمنٹ سمیت بہت مسرور ہوئے… پنجاب کا وزیراعلیٰ ہر دم ان کے اشارہ ابرو کا منتظر رہتا ہے… کم و بیش ایسی ہی اطاعت گزاری کا رویہ صوبہ خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ اختیار کیے ہوئے ہے… صوبہ بلوچستان میں ’باپ‘ پارٹی کی حکومت ہے جسے روز اوّل سے ان کی تائیدو حمایت حاصل ہے… باپ والے بھی حق دوستی ادا کرتے ہوئے اپنی گاڈ فادر اسٹیبلشمنٹ کے بعد ان کی پالیسیوں کا اتباع کرتے ہیں… صوبہ سندھ میں البتہ مخالف جماعت پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن حالیہ ہفتوں میں ان کے بعد سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان جو رومانس وجود میں آیا ہے وہ اگرچہ غیرعلانیہ ہے لیکن زبان عمل میں اس کا اظہار اس طرح ہوا ہے کہ جمعرات 29 اپریل کو کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ 249 کے ضمنی انتخابات میں اگرچہ ان کی جماعت شکست فاش سے دوچار ہوئی اور ایک سے پانچویں نمبر پر جا گری… لیکن پونے سات سو ووٹوں کے معمولی فرق کے ساتھ پیپلز پارٹی نے جناب عمران کی سب سے بڑی اور حقیقی مخالف جماعت مسلم لیگ (ن) پر برتری حاصل کر لی ہے… اس لیے وزیراعظم صاحب اپنی جماعت کی اتنی بڑی شکست پر زیادہ رنجیدہ خاطر نظر نہیں آئے… افسر شاہی کو ویسے ہی اپنے ’مقصد‘ کی خاطر اکھاڑ کر پھینکا ہوا ہے… ہر بیوروکریٹ کو اپنے کیئریئر اور عزت کے بارے میں خدشات لاحق رہتے ہیں… پارلیمانی جمہوریت کے اندر جس وزیراعظم کو کارحکومت چلانے کے لیے اس حد تک آرام دہ ماحول میسر ہو اسے تو اپنی قسمت پر ناز ہونا چاہئے چہ جائیکہ وفاقی کابینہ میں سے ان کو ایک قریب ترین اور بااعتماد ساتھی یہ پکار اٹھے کہ ہمارے وزیراعظم بہادر کو اگر کام نہ کرنے دیا گیا تو وہ اسمبلیاں توڑ دیںگے… جی سو بسم اللہ یہ کام کر گزریے قوم اس لمحے کے انتظار میں بیٹھی ہے… جو کام حزب اختلاف کی گیارہ جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم کا اتحاد نہ کر سکا اور حکومت ان کی باوجود تمام تر عوامی حمایت اور جلسوں جلوسوں کے نہ کر سکا وہ عمران خان بہادر اپنے ہاتھوں سے سرانجام دے دیں گے… ظاہر ہے اسمبلیاں توڑنے کے بعد آئین مملکت کے تحت انہیں خود بھی اپنی حکومت کے خاتمے کا اعلان کرنا ہو گا اور قائد حزب اختلاف کے مشورے کے ساتھ عبوری انتظامیہ قائم کرنا ہو گی… جو نوّے دن کے اندر نئے انتخابات کرائے گی… حزب مخالف کی تمام جماعتوں کا مشترکہ مطالبے پر ان کی اپنی جدوجہد کو کسی منزل تک پہنچائے بغیر عملدرآمد ہو جائے گا… اندھے کو اور کیا چاہیے دو آنکھیں…

تاہم یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے عمران خان بہادر کو کون سی رکاوٹ درپیش ہے جس کی بنا پر ان کا مقصد پورا نہیں ہو رہا اور ان کا نہایت قابل اعتماد ساتھی یہ کہنے پر مجبور ہوا ہے کہ ہمارے محبوب قائد کو کام نہ کر دیا گیا تو اسمبلیاں توڑ دیں گے… کیا خود 

ان کی اپنی ذات تو آڑے نہیں آ رہی جس پر تیزی سے یہ بات منکشف ہو رہی ہے وہ حکومت چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے… اگلے روز موصوف نے خود اعتراف کیا ہے ان سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں… اگرچہ نہیں بتایا کون کون سی چہارالجہتی بڑی غلطیاں ہیں جنہوں نے انہیں یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے تاہم ایف آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے اپنے حالیہ ٹی وی انٹرویو میں جو تہکہ خیز انکشافات کیے ہیں اور جن کا مسکت جواب خود جناب وزیراعظم اور ان کے حکومتی ترجمانوں سے بن نہیں پا رہا انہوں نے پوری قوم کے باشعور طبقوں اور ذمہ دار عناصر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے… اگر وزیراعظم کا دفتر سیاسی مخالفین اور ناپسندیدہ ججوں کے خلاف بغیر کسی ثبوت دہشت گردی کے مقدمات قائم کرنے کے لیے آئین اور جملہ قواعد ضوابط کی پرواہ کیے بغیر اس عاقبت نااندیشانہ طریقے اور بے دردی کے ساتھ استعمال کیے جا رہے ہیں جس کی خاطر عمران بہادر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ملوکیت پر مبنی طرز حکومت کو مثال بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں تو اس ملک کا اللہ ہی حافظ… اگر اسی سوچ اور طرز حکمرانی کو پاکستان میں رواج مل گیا تو ہماری ہر آئینی اور جمہوری روایت پامال ہو کر رہ جائے گی… وہ انتشار اور سرکاری سطح پر فروغ دیے جانے والی لاقانونیت جنم لے گی کہ ملک خداداد میں جنگل کا راج قائم ہو جائے گا… اسی لیے پیشتر قومی حلقوں کی جانب سے بشیر میمن کے الزامات کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے… الزامات کی نوعیت شدت کے ساتھ متقاضی ہے کہ اس مطالبے پر عمل کیا جائے تاکہ آئندہ کے لیے مثال بن جائے اور کوئی شتر بے مہار حکمران آئندہ ایسے اقدامات کا سوچ بھی نہ سکے… ہمارے خان بہادر وزیراعظم کو ایک خوف یہ بھی لاحق ہو سکتا ہے اگر ان کے ہمدم دیرینہ اور ماضی قریب میں قدم قدم پر دولت نچھاور کرنے اور ہوائی جہازوں کی سیاست روشناس کرانے والے جہانگیر ترین جن کے خلاف چینی سکینڈل کی تحقیقات ہو رہی ہے اپنے ساتھ ہونے والی بے وفائی پر بدلہ چکانے کے لیے تیس سے زائد اراکین اسمبلی کو پارلیمانی حمایت واپس لینے کا ارادہ کر لیا تو ان کی حکومت دھڑام سے نیچے گر سکتی ہے… یوں شاید وہ سوچ رہے ہوں قبل اس کے کہ اس آفت کا عملاً سامنا کرنا پڑے وہ خود ہی اسمبلیاں توڑ کر اپنی حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیں…

بہرصورت ملک کے جیسے اور جو بھی حالات ہیں وہ نئے اور آخری حد تک آزادانہ و شفاف انتخابات کے انعقاد کا تقاضا کرتے ہیں… عمران خان کی حکمران جماعت تیزی کے ساتھ اپنا مینڈیٹ (اگر فی الواقع کوئی تھا) کھوتی جا رہی ہے… نوشہرہ کے ضمنی انتخابات میں شکست ہوئی… وزیرآباد اور ڈسکہ بری طرح مار پڑی ہے… کراچی کے حلقہ 249 میں تو یوں کہئے ان پر چھترول ہوا ہے… 2018 میں فیصل واوڈا کو شہباز شریف کے مقابلے میں صرف سات سو ووٹوں سے کامیاب کرایا گیا… اسی طرح پاکستانی سیاست کے فیصلہ ساز لیکن غیرآئینی اختیارات کی مالک قوتوں نے اپنے اس لاڈلے کو شہر قائد میں قومی اسمبلی کی 14 نشستیں دلوائیں… فیصل واوڈا اپنی دوہری شہریت کی وجہ سے نااہلی کے دھانے پر کھڑے تھے تو انہیں سینٹ کا ٹکٹ دلوا کر نااہلی کے شکنجے سے آزاد کرایا گیا… اب وہاں ضمنی انتخاب ہو رہا تھا تو تحریک انصاف مقابلے میں کہیں کھڑی نہ تھی… اس کا امیدوار بمشکل پانچویں نمبر پر آیا… مسلم لیگ (ن) کے مفتاح اسماعیل معلوم نہیں کس کی کاریگری کے نتیجے میں پھر محض پونے سات سو ووٹوں سے ہار گئے… انہوں نے اور ان کی جماعت کی قیادت نے پوری آئینی طاقت اور عوامی و اخلاقی قوت کے ساتھ دوبارہ گنتی کا چیف الیکشن کمشنر سے آئینی حق منوا لیا ہے… جس کی شروعات پرسوں 4 مئی کو ہوں گی… آخری نتیجہ مفتاح اسماعیل کے حق میں آتا ہے یا پی پی پی کے قادر مندوخیل صاحب دوبارہ کامیاب ٹھہرا دیئے جاتے ہیں… اس سے قطع نظر شفاف و آزادانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک اصول کو پذیرائی ملی ہے جو سب سے اہم بات ہے مسلم لیگ (ن) نے یہی حق ڈسکہ کے ضمنی انتخابات کا ازسرنو انعقاد کرا کے کرایا جس میں خوب سرخ رو ہوئی… حالانکہ اس جماعت کے پاس ملک کے کسی حصے میں کوئی حکومت یا اقتدار میں حصہ نہیں… مقتدر قوتیں اس کو ایک آنکھ نہیں دیکھ پاتیں… اسے ہرانے کی ہی خاطر میں تحریک لبیک کو انتخابی میدان میں لے آئی ہیں تاکہ سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے اس کے ووٹ بینک کو کاٹ کر رکھ دیا جائے… انہیں اور عمرانی حکومت کو اسی سوچ اور طرز عمل کا خمیازہ یورپی یونین کی پاکستان پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے والی قرارداد پر بھگتنا پڑ رہا ہے… یہ قرارداد ایک جانب موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی ہر طرح ناکامی پر دلالت کرتی ہے… دوسری ہمارے اصل اور غیرآئینی اختیارات کے مالک بزعم خود والیان ریاست کی گھٹیا سوچ کی بھی غمازی کرتی ہے جس نے پاکستانی سیاست کے اندر انتشار اور تفرقہ بازی کا زہر گھولنے کی خاطر اسی طرح کی تنظیموں کو جنم دیا…  پرورش کی اور پروان چڑھایا اور اب بھی سب کچھ ہو جانے کے باوجود وہ اسے اپنا اثاثہ سمجھتی ہیں… لہٰذا لازم ہے تمام پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے بااختیار نمائندے عمل کر بیٹھیں… آئندہ انتخابات کو ہر لحاظ سے آزادانہ و شفاف بنانے اور خاص طور پر پاکستان کے انتخابی عمل کو سیاسی انجینئرنگ کے ناگ سے دور اور پاک رکھنے کی خاطر عملی اقدامات پر اتفاق کریں… اس کے بغیر انتخاب ہو بھی گئے تو عمران خان جیسا ایک شتر بے مہار، مقتدر قوتوں کے اشاروں پر ناچنے والا نام نہاد وزیراعظم ہمارے سروں پر مسلط کر دیا جائے گا… اس سے توبہ ہی بھلی…


ای پیپر