What is the sixth sense? Scientists have come up with new research
کیپشن:   فائل فوٹو
02 May 2021 (10:27) 2021-05-02

لاہور: انسان کے دماغ کے اندر مستقبل کے بارے میں جو تاثرات یا خدشات پیدا ہوتے ہیں انھیں چھٹی حس کہا جاتا ہے۔ اب امریکا سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے یہ بات جاننے کی کوشش کی ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے اور اہم انسان ایسا کیوں سوچتے ہیں؟

امریکی سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں جو بات سب سے پہلے نوٹ کی وہ یہ ہے کہ انسان کے اندر چھٹی حس خطرے کے وقت متحرک ہوتی ہے اس کا مرکز ہمارے دماغ کا اندرونی حصہ ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق میں یہ دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ چھٹی حس کے احساسات مردوں کے مقابلے میں خواتین کے اندر زیادہ موجود ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ انسان کے اندر پانچ حواس پائے جاتے ہیں جن میں دیکھنے، سننے، بولنے، چکھنے اور محسوس کرنے کی حس شامل ہے۔ چھٹی حس دراصل نہ پیش آنے والے واقعات کو محسوس کرنا ہے۔ یہ حس ہمیں بعض چیزوں سے خبردار بھی کرتی ہے۔

مثال کے طور پر ہم میں سے ہر شخص کو کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہونے سے پہلے عجیب احساس ہونا شروع ہو جاتا ہے اس کے علاوہ ہم کسی شخص کے اچھا یا برا ہونے کا تاثر اپنے دماغ میں ڈال لیتے ہیں، یہ سب کچھ بھی چھٹی حس کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چھٹی حس کے ذریعے ہم آئندہ پیش آنے والے واقعات سے متنبہ ہو جاتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کسی کی چھٹی حس زیادہ اور کسی کی کم ہوتی ہے لیکن ہم اس کو بڑھا بھی سکتے ہیں۔

اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے احساسات، خیالات اور خوابوں کو یاد رکھنے کی کوشش کریں کیونکہ چھٹی حس میں ان تینوں چیزوں کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے اور یہ ہمارے لاشعور کا حصہ ہوتے ہیں۔


ای پیپر