بحث اٹھارہویں ترمیم کی… پیچھے کون ہے
02 May 2020 (22:30) 2020-05-02

اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بارے میں معلوم نہیں اس وقت کیوں بحث چھیڑ دی گئی ہے… کون سی قوت اس کا انہدام چاہتی ہے… برسراقتدار جماعت تحریک انصاف کے انتخابی منشور میں کہیں بھی یہ لکھا ہوا نہیں ملے گا اگر اس کی حکومت وجود میںآ گئی تو ہمارے اولین فرائض میں آئین مملکت سے اٹھارہویں ترمیم کا خاتمہ ہو گا یا اس پر نظرثانی کی جائے گی یہاں تک کہ عمران خان نے قبل از انتخابات اٹھارہویں کسی ایک تقریر بیان یا پریس کانفرنس میں اشارہ نہ دیا وہ 2010ء میں اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے اتفاق رائے کے ساتھ شامل دستور میں کی جانے والی ترمیم کے فلاں اور فلاں حصے سے اتفاق نہیں کرتے لہٰذا اپنی عددی قوت کے زور پر یا دوسری جماعتوں کو ساتھ ملا کر اپنے نزدیک ترمیم کے ناپسندیدہ اجزاء کو درست کرنے کی کوشش کریں گے… تو پھر اچانک یہ بحث کیوں چھیڑ دی گئی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کا خاتمہ یا اس کی شقات کے اندر تبدیلی ازبس ضروری ہے… پارلیمنٹ کے اندر بھرپور عوامی نمائندگی رکھنے والی دو سب سے بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے گزشتہ دس برس کے عرصے میں بھی اس اہم ترمیم کو خیرباد کہنے یا ترمیم در ترمیم کا مطالبہ نہیں کیا… چھوٹے صوبوں کی نمائندگی کرنے والی جنہیں علاقائی جماعتیں بھی کہا جاتا ہے نے اٹھارہویں ترمیم کو حرز جان بنا کر رکھا ہوا ہے… جب عمومی اتفاق رائے کا یہ عالم ہے تو وہ کون سی پس پردہ طاقت یا قوت ہے جسے فیڈریشن کو مضبوط کرنے والی یہ ترمیم ایک آنکھ نہیں بھاتی… عمران خان حکومت کے بارے میں کہا جاتا ہے اس کا اقتدار پارلیمنٹ کے اندر منتخب عوامی نمائندوں کی اکثریت سے زیادہ کچھ طاقتور عناصر کی حمایت کے بل بوتے پر کھڑا ہے یہ قوتیں بوجوہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے جانے والے مالی اور دوسرے اختیارات کو پسند نہیں کرتیں اس لئے ان کے ایماء پر ہمارے موجودہ وزیراعظم صاحب اس ترمیم کے خاتمے کے در پے ہیں جس پر اگر صحیح معنوں میں عملدرآمد کیا جائے تو حقیقی معنوں میں وفاق پاکستان کی مضبوطی کا باعث بن سکتا ہے۔… لہٰذا اصل مسئلہ اٹھارہویں ترمیم کے تقاضوں کو الفاظ اور روح کے ساتھ رو بہ عمل لانے کا ہے نہ کہ ریاست پاکستان پر اپنے غیرآئینی غلبے کو ہر حال میں مستحکم رکھنے والی قوتوں کے ارادوں اور خواہشات کی تسکین و تکمیل کا… اٹھارہویں ترمیم پاکستان کے صوبوں کو جو کہ وفاق کی اکائیوں کا درجہ رکھتے ہیں زیادہ مالی داخلی خودمختاری اور دیگر اختیار دے کر مضبوط تر بناتی ہے… یہ اکائیاں جو وفاق کے لئے ستونوں کادرجہ رکھتی ہیں ان کے اندر جتنا سیمنٹ، لوہا اور کنکریٹ بھری جائے گی وفاق کی چھت کو اسی قدر زیادہ سہارا دیں گے… پھر اعتراض کیوں… یہ بات کہ ہر سال مرکزی حکومت کے پاس اکٹھے ہونے والے مالی وسائل یعنی ٹیکس اور دیگر محصولات وغیرہ جن کے ذخیرہ کو divisible pool کہا جاتا ہے میں اس ترمیم کے تحت بڑا حصہ 57.8 فیصد صوبوں کے پاس چلا جاتا ہے جبکہ نسبتاً قلیل تعداد 42.2 کے قریب مرکزی حکومت کے پاس رہ جاتی ہے جس سے وہ اپنے وسیع ریاستی و انتظامی اخراجات پورے نہیں کر سکتی تو اس کا حل دنیا کی تمام کامیاب وفاقی حکومتوں کے پاس یہ ہوتاہے وہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھے کر کے اپنی آمدنی میں اضافہ کرتی رہتی ہیں نہ کہ وفاقی اکائیوں سے ان کا جائز حصہ چھین کر انہیں لاغر بنا کر رکھتی ہیں… موجودہ حکومت نے برسراقتدار آتے ہی دعویٰ کیا وہ ٹیکس اکٹھا کرنے میں پچھلی حکومتوں کے تمام ریکارڈ توڑ کر رکھ دے گی… اس مقصد کی خاطر Federal Board of Revenue (FBR) بنیادی تبدیلیاں کی گئیں… جناب شبر زیدی جیسے ماہر امور ٹیکس کو سربراہ بنایا گیا اور سرکاری پروپیگنڈے کی پوری قوت کے ساتھ قوم کو باور کرایا گیا چنداں فکر مند ہونے کی بات نہیں ہم نے نئے مالی سال میں 5500 ارب کے ٹیکس اکٹھا کرنے کا تہیہ کر لیا ہے… تمام دلدّر دور ہو جائیں گے… کورونا وائرس کی مصیبت نے تو ہماری معیشت کے گلے کو آن پکڑا… شبر زیدی صاحب پہلے ہی اپنے مشن میں ناکامی کا منہ دیکھ کر بیماری کے بہانے رخصت پر چلے گئے…

یعنی ناکام آپ ہوئے ہیں… ٹیکس دہندگان آپ پر اعتبار نہیں کر رہے سارا غصہ اٹھارہویں ترمیم پر اتار کر وفاق کو کمزور کرنے پر تلے ہوئے ہیں…

اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانے سے پہلے مندرجہ ذیل حقائق کو پیش نظر رکھناہو گا… بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کو ان کے مخالف بھی بیسویں صدی کے نصف آغاز کا سب سے بڑا ماہر آئین و قانون گردانتے تھے ان معاملات پر ان کے کہے ہوئے کو مخالف جماعت کانگریس کے لیڈر بھی حرف آخر کے طور پر قبول کرتے تھے اسی صلاحیت کی بنا پر انہوں نے کامیابی کے ساتھ قیام پاکستان کی جنگ جیتی… 1928ء میں جب ہندوستان کے لئے آئینی خاکے اور اس کے اجزائے ترکیبی کی بحث چھڑی ہوئی تھی تو بیرسٹر محمد علی جناحؒ نے پورے تحکم کے ساتھ اپنے چودہ نکات پیش کئے جن کی افادیت سے کوئی بھی انکار نہ کر سکا… ان میں پہلا اور اساسی نکتہ یہ تھا ہندوستان کا آئین وفاقی ہو گا… وفاق کے پاس دفاع، امور خارجہ اور مواصلاتی نظام کے اختیارات ہوں گے… بقیہ تمام محکمے وفاقی یونٹوں (صوبے یا ریاستیں) کی دسترس میں ہوں گے… یہ تھا وہ آئینی تصور یا جمہوری انتظام مملکت جو قائد کی نگاہ میں آزاد ہندوستان کے لئے موزوں مفید اور قابل عمل تھا… ظاہر ہے بعد میں جب وہ ہندوستان کو تقسیم کر کے مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کے قیام کے علمبردار بنے تو اپنی نئی مملکت کے لئے بھی انہوں نے اسی آئینی اور جمہوری نقشے کو قابل ترجیح سمجھا… چنانچہ 23 اور 24 مارچ 1940ء کو ان کی صدارت میں اسلامیان ہند کے عظیم اجتماع میں علیحدہ مملکت کے مطالبے کے طور پر قرارداد لاہور یا پاکستان پیش اور منظور کی گئی تو اس کا ایک ایک لفظ نکال کر جانچ پرکھ کر لیجئے مسلمانوں کی نئی اور آزاد ریاست کے نظام کے طور پر وفاقی نظام حکومت کا تصور پیش کیا گیا ہے جس میں صوبوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات تفویض کئے جاتے تھے… صوبائی خودمختاری کا پوری طرح پاس و لحاظ کئے جانے والا تھا… اسی لئے اس قرارداد کو لاہور کے عظیم جلسہ عام کے سامنے پڑھ کر سنانے والے بنگال کے وزیراعلیٰ مولوی فضل الحق تھے… باقی صوبوں کی نمائندگی کرنے والے سیاسی قائدین نے اس کی بعد میں تائید و توثیق کی… یہاں تک کہ 1945-46ء کے انتخابات کے نتیجے میں جب ہندوستان کے مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا تو قرارداد لاہور میں تھوڑی سی ترمیم کی ضرورت محسوس ہوئی… دہلی میں تمام منتخب نمائندوں کا اجتماع منعقد ہوا… قائداعظمؒ کی صدارت میں اس اجلاس کے اندر حسین شہید سہروردی نے جو قرارداد پیش کی اس میں بھی صوبائی خودمختاری کے حامل وفاقی نظام کے مجوزہ ڈھانچے کو چھیڑا نہیں گیا…

بانی پاکستان کو اپنی تخلیق کردہ مملکت کے لئے آئینی جمہوری نظام کے نفاذ کی مہلت نہ ملی… اگر ایسا ہو جاتا تو صوبائی خودمختاری کا مکمل پاس و لحاظ ہوتا… کہا جاتا ہے اگر پاکستان کے ابتدائی سالوں میں اٹھارہویں ترمیم جیسے آئینی نظام کو جاری و ساری کر دیا جاتا تو انتہاپسندی کا طوفان سر نہ اٹھاتا… شیخ مجیب الرحمن کو اپنے چھ نکات سامنے لانے کی جرأت نہ ہوتی… مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی نوبت نہ ہوتی کیونکہ عوامی لیگ کی پاکستان کی وحدت کے خلاف ساری مہم کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ مشرقی صوبے کو اس کے جائز اور خودمختارانہ اختیارات سے محروم رکھا گیا ہے جو اس کا بنیادی حق تھا… ملک کے دولخت ہو جانے کے تلخ ترین تجربے اور المیے کے بعد بقیہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے اراکین نئے آئین کی تشکیل کے لئے سر جوڑ کر بیٹھے تو اس ضرورت کا شدت کے ساتھ احساس تھا… مگر مسئلہ بیچ میں یہ آن پڑا کہ وفاق کے یونٹ صوبائی خودمختاری کے حامل اتنے زیادہ انتظامی اور مالی اختیارات سے ہم آہنگ نہیں چنانچہ طے پایا دس سال کے لئے ایک Concurrent List لائی جائے… اور اس مدت میں اختیارات کو تدبر کے ساتھ صوبوں کو منتقل کر دیا جائے… لیکن جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے طویل مارشل لائوں نے ساری سکیم کا تیاپانچا کر کے رکھ دیا… خدا خدا کر کے 2010ء میں وہ نوبت آئی جب قائداعظمؒ کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی سبیل پیدا ہوئی… اٹھارہویں ترمیم اتفاق رائے کے ساتھ منظور ہوئی… چاہئے یہ کہ وفاق کے نظام کو مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لئے صوبائی حکومتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے… ہر قدم پر ان کی جانب دست تعاون بڑھایا جائے… اس میدان میں ان کی تربیت کے مواقع فراہم کئے جائیں نہ کہ سرے سے اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے یا اس کاحلیہ بگاڑ کر رکھ دینے کے لئے مہمیں چلائی جائیں… بے کار بحثیں چھیڑ کر قومی اتحاد کی فضائوں کو مسموم کیا جائے… چودھری شجاعت حسین کہ اوپر والی سرکار کے اشارے کے بغیر کوئی بڑی بات نہیں کرتے کہا ہے اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے ملک کے تعلیمی نظام میں کوئی بڑی اور مثبت تبدیلی نہیںلائی جا سکی نہ صحت عامہ (ہسپتالوں کا انتظام و انصرام وغیرہ) کے نظام میں پایا جانے والا بگاڑ درست ہوا ہے… چودھری صاحب ازراہ کرم بتائیں اٹھارہویں ترمیم کا نفاذ تو 2010ء میں ممکن ہوا ہے… اس سے قبل 63 برسوں میں آپ نے ان شعبوں میں کون سا پہاڑ ڈھا لیا جو گزشتہ دس برس کے عرصے میں ممکن نہ ہوا… اٹھارہویں ترمیم کے سایہ تلے اگر وفاقی یا کسی بھی صوبے کو کسی قسم کے مالی یا انتظامی اختیارات کے حوالے سے مشکل کا سامنا ہے تو اس کا بہتر حل یہ ہے آئینی امور مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس باقاعدگی کے ساتھ منعقد کئے جائیں… ان کے اندر درپیش عملی مسائل زیربحث آئیں… وفاق اور صوبوں کی حکومتیں مل کر اس کے مناسب حل کا راستہ نکالیں… نہ کہ میڈیا کے اندر شور برپا کیا جائے اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے ہمیں بے دست و پا بنا کر رکھ دیا گیا ہے… اگر کوئی تبدیلی لانا مقصود ہے تو تمام پارلیمانی لیڈروں کے ساتھ مذاکرات کر کے کسی نقطہ اتفاق پر پہنچا جائے اس کے بعد شوق کے ساتھ ترمیمی مسودہ لے آیئے… نہ کہ آپ کسی بات کو اوپر سے ٹھونسنے کی سعی نامطلوب کریں… یہ معلوم حقیقت ہے پارلیمنٹ کے دوتہائی ارکان کی حمایت کے بغیر آئین مملکت کا قومہ یا فل سٹاپ بھی تبدیل نہیں کیاجا سکتا… اٹھارہویں ترمیم کو کیونکر چھیڑا جائے گا…


ای پیپر