یہ اندازِ مسلمانی ہے!
02 May 2020 (22:29) 2020-05-02

کورونا شروع ہوا تو تادیر دنیا کو سانپ سونگھا رہا۔ اچانک بڑھتی پھیلتی اموات نے ہوش گم کر دیے۔ آہستہ آہستہ ہوش ٹھکانے لگے۔ اپنی اپنی دنیا بچانے کی فکر شروع ہوئی۔ لاک ڈائون کے ہولناک نتائج معاشی اعداد و شمار اور مرے پڑے اسٹاک ایکس چینج کی صورت دن میں تارے دکھائی دینے لگے تو پالیسیاں بدلنے لگیں۔ رہا کورونا، تو اسے سمجھنے سے آج بھی قاصر ہی ہیں۔ طرح طرح کے اندازے، قیاس آرائیاں، ظن و تخمین کے گھوڑے دوڑا رہے ہیں۔ سرا ہاتھ نہیں آرہا۔ کورونا کی اقسام بھی چین، یورپی ممالک، امریکا میں مختلف ہیں۔ سمندروں میں کھڑے، دور دراز، قطبِ شمالی سے آنے والے بحری جہازوں میں کورونا کہاں سے آن وارد ہوا؟ امریکی جنگی بحری بیڑے روز ویلٹ کے بعد آخر فرانس کا مایہ ناز چارلس ڈیگال بحری بیڑہ کیونکر کرونا یاگیا۔ سمندر کے ایک طرف فرانس اور اسپین کا کلیجہ کورونا نے چبالیا، دوسری طرف موریطانیہ (بھری مساجد میں تراویح والا ملک!) کورونا سے بچا ہوا ہے۔ کورونا اسرائیل پر حملہ آور ہے۔ فلسطین محفوظ تر ہے۔ اسدی فوج اور روس کورونا کی زد میں ہے۔ مسلم شامی ادلب اللہ نے بچا رکھا ہے۔ پاکستان، آدھی آبادی خطِ غربت سے نیچے، تنگ و تاریک گنجان آباد بستیوں میں کچرے کے ڈھیروں پر پلنے والے عوام کا ملک ہے! اسے تو گورستان (نعوذ باللہ!) بن جانا تھا، اگر احتیاطی تدابیر کے گوشواروں پر انحصار ہوتا۔ جہاں ڈٹ کر کھلے منہ کھانسناچھینکنا، شرق تا غرب جراثیم کا پھیلائو قومی شعار رہا ہے، سدا سے۔ تھوکنے کی عادت اتنی پختہ ہے کہ اسے بھی قومی نشان ہمارا، قرار دیا جائے تو عجب نہیں۔ یہاں تو کورونا کا جنگل اگ آنا چاہیے تھا۔ مگر کوئی خاص ہی بات ہے کہ ہم نسبتاً محفوظ ہی رہے۔

بڑی محنت سے پاکستان میں کورونا در آمد کرکے حکومت نے بے درد خوف ناک طریقے سے ابتدائً پھیلنے دیا۔ تفتانی کہانی، جو بہت سی نئی کہانیاں کاشت کرکے دبادی گئی، نہ ہوتی تو شاید ہم امن ہی میں ہوتے۔ اب ہم دھڑا دھڑ فلائیٹس بھر بھر دنیا بھر سے کورونا کی ہر قسم لا رہے ہیں۔ مسجدوں پر پورے پاکستان میں پہرے لگے ہیں۔ جہازوں میں جہاں چار تا پندرہ بیس گھنٹے افزائشِ کورونا کے تمام لوازم موجود اور مہیا ہوتے ہیں، دھڑا دھڑ لائے جا رہے ہیں۔ اس پر سیکولروں کی آہ و ازاری نہیں ہوتی! خدا نخواستہ حالات بگڑے تو پہلے کی طرح خبریں گڈ مڈ کرکے مولویوں، مسجدوں کے کھاتے ڈال دیں گے۔ بازاروں میں ہجوم ہیں۔ منڈیوں میں کھوے سے کھو اچھل رہا ہے مگر غم صرف ایک کھائے جا رہاہے۔ خصوصاً صدر علوی اور سیکولر میڈیا تو بے چارے ہلکان ہو رہے ہیں تراویح اور نماز باجماعت پر حتی کہ ایک بے دین، عورت مارچ، غیر ملکی گرانٹوں والی این جی او نے باقاعدہ مساجد کا سروے کیا اپنے مخبر بھیج کر، (حتی کہ انہیں نمازیں پڑھوادیں!) کہ احتیاطی تدابیر کتنی برتی جا رہی ہیں۔ان کی مانیٹرنگ نے سارا پول کھول دیا۔ مسئلہ صحت عامہ کا نہیں۔ بیرونی ایجنڈوں اور ان کی تکمیل سے ان کی گرانٹوں اور خوشحالی کا ہے۔ ملکی آفات ہی میں تو ان کی چاندی ہوتی ہے۔ز لزلہ، سیلاب ہو یا اب وبا۔ مسجدیں ویران کریں گے تو ان کی کارکردگی صلہ پائے گی۔ پوش علاقوں میں بڑی بڑی کوٹھیوں میں قائم ان کے دفاتر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام دشمنی کایہ ناسور سیاپا کر کے سامانِ شکم کر رہا ہے۔ سرور باری کو موریطانیہ بھیج دیں مسجدیں بند کروانے، جہاں بھرپور تراویح جاری ہے۔ مسجد اور نمازی اب نیا نشانہ ہے ان کا۔ روزانہ خبریں اور تصاویر جاری ہوتی ہیں۔ ایک طرف انصافی وزیر مشیر

مساجد چیک فرما رہے ہیں دھونس دھمکی مزاج کے ساتھ۔ دوسری طرف سڑکوں پر ٹائیگر گاڑیوں میں افطاریاں، بھرے ہجوموں میں تقسیم کرتے ہیں جہاں ایک چھینک پندرہ بندوں کو لپیٹ میں لینے کا (سماجی فاصلہ روند کر) سماں ہوتا ہے۔ مساجد بندش کا جو گناہ عظیم اپنے سر لے رہے ہیں اللہ کو کیا منہ دکھائیںگے؟ حالاں کہ ان کے واویلے پر بلا ضرورت بلاسبب لاکھوں کے سینٹی ٹائزر گیٹ مساجد نے لگائے۔ کمشنر حضرات کے ذریعے، پولیس مامور کرکے اہتمام چیک کیے جاتے رہے۔ (باوجودیکہ ڈیٹول و دیگر جراثیم محلول کمپنیوں نے خبردار کیا کہ جلد پر ان کا اسپرے باعث

نقصان ہے، تاہم یہ بزنس بھی خوب چلا۔ مساجد کو اس کی آڑ میں تالا بند بھی کیا گیا۔)

متوجہ ہم حسبِ سابق یہی کرنا چاہ رہے ہیں کہ کورونا اور احتیاطیں اپنی جگہ! تاہم یہ جو خصوصی ہدف رمضان میں بھی مساجد ہی کو بنایا جا رہا ہے ،اس کی حقیقی وجوہات کون نہیں جانتا۔ فتنۂ دجال آگے بڑھ رہا ہے۔ چاروں طرف سے ایٹمی پاکستان کو مدد کے پیکج کی لالی پاپ دکھائی گئی ہے تاہم ہمراہ اس کی اسلامیت کو لگام دینا، اہلِ دین کو دیوار سے لگائے رکھنا مقصود ہے۔ سوئٹزر لینڈ سے ہماری کیا خاص عزیز داری ہے کہ اٹلی کی سرحد کے قریب ’امید کے پہاڑ‘ کو پاکستانی اور سعودی عرب کے پرچموں سے رنگ کر روشن کیا ہے، اظہارِ یک جہتی کے لیے؟ دونوں ممالک اسلامی شناخت کے اعتبار سے کفر کے لیے کس درجے حساسیت رکھتے ہیں، ہم خوب جانتے ہیں، حرمین شریفین سے پاکستان تک نماز باجماعت کا معطل کیا جانا، کورونے کے تھپیڑے کھاتے مغرب کا آج بھی ہدفِ اول ہے۔ کیا امریکا یورپ چین کی آبادیاں شاندار حفظانِ صحت، معاشرتی شعور اور تہذیبی سماجی فاصلوں (کے مارے ہوئے) ہونے کے باوجود بے موت ماری گئی یا نہیں ؟ سبب کچھ اور ہے تو جس کو خود سمجھتا ہے! اور بہت سی بستیوں کے رہنے والوں نے اپنے پروردگار (جس کا عہد ہر انسان کی روح میں پیوست ہے) اور اس کے پیغمبروں کے احکام کی سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت عذاب میںپکڑلیا۔ اور ان پر ایسا عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا۔ سو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزا چکھ لیا اور ان کا انجام نقصان ہی تو تھا۔ اللہ نے (آخرت میں) ان کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔ (الطلاق: 8-10) گلوبل ولیج نے فطرت انسانی کو مسخ کرکے سرکشیوں کا جو ہمہ نوع طوفان اٹھا رکھا تھا، یہ عین اسی کا نتیجہ ہے۔ جن جنگی بیڑوں نے موت بانٹنی تھی، پھر وہ ان پر قہر بن کر یوں ٹوٹی کہ ہک دک رہ گئے۔ ربِ کائنات کے انکار کا بھگتان ہے جو یہ دے رہے ہیں۔ پچھلی امتوں کی نافرمانیوں پر گرج دار طوفانی عذاب آئے۔ ہائی ٹیک دنیا، مِنی مائیکرو چپ پر نازاں دنیا پر عذاب بھی چھکے چھڑا دینے والا غیر مرئی، بے آواز ہائی ٹیک ہے۔

اللہ نے ماہِ مبارک میں ہدیً للناس(تمام انسانوں کے لیے ہدایت، راستہ دکھانے والی) کتاب ہم پر اتاری تھی اور ہمیں اخرجت للناس، تمام انسانوں میں سے چن کر دنیا تک اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے اٹھایا تھا۔ ہماری خطا ہے کہ تمام انسان بے ہدف بے جہت تشنہ زندگیاں گزار کر خوار و زار ہو رہے ہیں۔ کتابِ الٰہی کے وارث نزولِ قرآن کے مہینے میں ساری قوت مساجد میں قرآن کی سماعتِ محدود یا ختم کرنے میں لگا کھپا رہے ہیں۔ اسی پر بس نہیں مقابلے پر ٹیلی وژن پر ڈرامے چلا کر قوم کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ رحمت و مغفرت کی راتیں اس طویل تماشے میں گزارو۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیر اعظم اپنی دینی لاعلمی کی بنا پر مکہ (دور نبویؐ) کے کافر وزیر ثقافت و نشریات نضر بن حارث کی زبان ماہِ عظیم میں بولے؟ یٰحسرتنا!پاکستان پر یہ دن بھی آنا تھا کہ سماعت قرآن کی راتوں میں مساجد پر پولیس کھڑی کردی اور سورۃ النور، الاحزاب، لقمٰن کی تمام تر تصریحات، احکامات، تنبیہات کے باوجود چوری اور سینہ زوری کے طورپر اسے اسلامی ڈرامہ قرار دیا گیا۔ جہاد کی عظیم فرضیت برسر زمین تو دہشت گردی اور لائق پھانسی ہو۔ ڈرامے کے ذریعے جہاد مقدس راتوں میں فرض نماز کی جگہ اور امت کی طے شدہ سنت موکدہ کے مقابل موسیقی، مرد و زن اداکاروں کے روپ میں ذہنی عیاشی کا سامان بنے! روح کا کورونا، جسمانی کورونا سے خوف ناک تر ہے۔ ایمان پر حملہ آور کورونے کی کیفیت بھی ویسی ہی علامات رکھتی ہے: ’اس کا سینہ ایسا بھینچتا ہے کہ (اسلام کا تصور کرتے ہی) اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے۔ اس طرح اللہ (حق سے فرار اور نفرت کی) ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔‘ (الانعام: 125) سنت کے اعتبار سے دیکھیے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں 9 مرتبہ رمضان آیا۔ مقاصدِ قرآن، یعنی دنیا میں اللہ کی حکمرانی اور کبریائی قائم کرنے کی تکمیل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے ہمراہ صرف 2 رمضان مدینہ میں امن و سکون سے گزارا۔ باقی 7 رمضان یا میدانِ جنگ میں (بدر، فتحِ مکہ) یا اس کی تیاری میں (احد، خندق) یا جہاد کے لیے حالتِ سفر میں (تبوک) یا ایک رمضان واقعۂ افک کی اذیت میں گزرا۔ ہمارے والے جہاد کی اداکاری، موسیقی کی سنگت میں دیکھ کر آمدِ دجال کی تیاری کریں گے! تم مسلماں ہو! یہ انداز مسلمانی ہے!


ای پیپر