قادیانی، کافر، غیر مسلم اقلیت
02 May 2020 (22:28) 2020-05-02

عوامی دبائو کے پیش نظر بظاہر حکومت نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ لیکن ہم ایک جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کر لیا جاتا تو کیا نتائج برآمد ہوسکتے تھے.قادیانی 1973 آئین پاکستان کے تحت غیر مسلم اقلیت ہیں۔ ان کے شناختی کارڈ پر بھی غیر مسلم اقلیت لکھا جاتا ہے اور ووٹ کا اندراج بھی غیر مسلم اقلیت کے طور پر ہوتا ہے۔ لیکن انھوں نے کبھی خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کیا۔ اسی لئے وہ کبھی ووٹ ڈالنے بھی نہیں گئے۔ جو قادیانی پاکستان میں ووٹ ڈالتا ہے اسے قادیانی اپنی جماعت سے فورا نکال دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر قادیانیوں نے ووٹ ڈالا تو وہ ایک طرح کا اقرار ہو گا کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں۔ لہذا وہ اس پراسس میں شامل نہیں ہوتے۔آئیے اب بات کر لیتے ہیں اقلیتی کمیشن میں ان کا نام ڈالنے کی۔ یہ کمیشن 2013 میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس تصدق جیلانی کی سربراہی میں قائم ہوا تھا۔ اس کی وجہ 2013 میں پاکستان کے شہر پشاور میں عیسائیوں کے چرچ پر ہونے والا حملہ تھا۔ اس کمیشن میں قادیانیوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ کیونکہ قادیانیوں نے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا دعوی تھا کہ وہ غیر مسلم اقلیت نہیں ہیں۔

وزیراعظم عمران خان اگر انھیں غیر مسلم اقلیتی کمیشن میں شامل کر لیتے تو سوال یہ ہے کیا قادیانی اس کمیشن میں آکر بطور غیر مسلم اقلیت بیٹھ جاتے ہیں۔ جبکہ ماضی میں وہ اس سے انکار کرتے رہے ہیں۔ بظاہر اس بات امکانات زیادہ ہیں کہ قادیانی اسے مسترد کر دیتے۔ کیونکہ اسے تسلیم کرنا یہ اقرار ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں۔ یہ اقرار قادیانی فتنے کی موت ہے۔ جو کہ تحریک انصاف

کی جیت ہوتی۔ اگر وہ اسے ایسے ہی مسترد کردیتے جیسے انھوں نے 1973 کے آئین کو مسترد کیا تھا تو بھی اس کا فائدہ عمران خان کو ہی ہوتا کیونکہ قادیانیوں کی سپورٹ کا داغ کافی حد تک مدھم پڑ جاتا۔ کہا جا رہا ہے کہ قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کے بعد انھیں اقلیتوں کے تمام حقوق مل جاتے جس میں سب سے بڑا حق الیکشن لڑنے کا ہے۔ یہ دلیل بالکل درست ہے کہ انھیں الیکشن لڑنے کا حق مل جاتا لیکن یہ حق بطور کافر، بطور غیر مسلم اقلیت ملتا۔ اگر قادیانی خود کو کافر اور غیر مسلم اقلیت مان کر الیکشن لڑتے ہیں تو یہ مسلمانوں کی فتح ہوتی یا شکست ہوتی۔ یہ ختم نبوت کی جیت ہوتی یا ہار ہوتی۔ جو اقرار قادیانی اپنے ابتدا سے لے کر آج تک کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اگر آج وہ اقرار کر لیتے ہیں اور خود کو کافر اور غیر مسلم اقلیت مان لیتے ہیں تو ختم نبوت کے مجاہدوں کی فتح ہے۔ ایسا ہونا یقینا معجزہ ہوتا اور عمران خان مبارکباد کے مستحق ٹھہرتے۔

اگر قادیانی خود کو کافر اور غیر مسلم اقلیت تسلیم کر لیتے ہیں تو بین الاقوامی سطح پر بھی مسلمانوں کے لیے کسی فتح سے کم نہیں ہوتا۔ قادیانی فتنہ آج پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ خود کو مسلمان کہتے ہیں اور دھڑا دھڑ غیر مسلموں کو اسلام کے نام پر احمدی مسلم بنا رہے ہیں۔ الحمدللّٰہ پاکستان میں اس فرقے کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے یہاں ان کی تعداد میں اس طرح اضافہ نہیں ہو رہا۔ لیکن بحیثیت مسلمان اس فتنہ کو ختم کرنے کے لیے تمام مسلمانوں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیتی کمیشن میں شامل کر کے ان کی تنظیم کمزور کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔ یہ تو آپ سب جانتے ہیں کہ احمدی پاکستان کے علاوہ پوری دنیا میں خود کو مسلمان کہلواتے ہیں۔ اگر وہ خود کو غیر مسلم مان کر اقلیتی کمیشن میں بیٹھ جاتے ہیں تو پاکستان پوری دنیا میں یہ کہہ سکتا ہے کہ احمدی تو مسلمان نہیں ہیں۔ پاکستان میں یہ غیر مسلم اقلیت کے طور پر رجسٹرڈ ہیں اور ان کے خلیفہ سمیت دیگر لوگ خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کر کے اس کمیشن میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ جب پاکستان میں یہ خود کو غیر مسلم مانتے ہیں تو باقی دنیا خصوصا سعودی عرب بھی انھیں غیر مسلم قرار دے۔ اس کے علاوہ مذہبی کمیشن بنا کر پوری دنیا میں بھیجا جاسکتا جو دنیا کو یہ باور کرواتا کہ قادیانی خود تسلیم کرتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں ہیں بلکہ غیر مسلم اقلیت ہیں۔ لہذا انھیں دیگر ممالک میں بھی غیر مسلم لکھا اور پڑھا جائے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انھیں اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے سے سرکاری دفاتر میں رسائی مل جائے گی۔ یہ دلیل کمزور ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ کیا پہلے سرکاری دفاتر ان کی پہنچ سے دور ہیں۔ کیا ابھی ان پر ایسی کوئی پابندی ہے کہ وہ سرکاری دفاتر میں نہیں جا سکتے۔ یہاں ایک اور پہلو نظر انداز کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے پاکستان میں بھی تقریباً ہر سرکاری یا پرائیوٹ دفتر میں قادیانی موجود ہیں۔ لیکن وہ خود کو ظاہر نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے قادیانی فتنے کی نشاندہی نہیں ہو پارہی۔ یہ لوگ کمزور ایمان والے لوگوں کی تلاش کرتے ہیں اوردفاتر میں انھیں غلط تفسیروں اور معنوں میں الجھا کر احمدی مسلم بننے کی ترغیب دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ان کے جھانسے میں آکر اپنا مذہب تبدیل کر چکی ہے۔ غیر مسلم اقلیتی کمیشن میں ان کی شمولیت سے چھپے ہوئے قادیانی بھی سامنے آ سکتے تھے اور ان کی نشاندہی کے بعد ہم کمزور ایمان والے مسلمانوں کو موثر انداز میں قادیانیوں سے دور رکھ کر ان کے ایمان کو بچانے کی کوشش کر سکتے تھے۔ لیکن ہمارے ملک میں اکثر فیصلے جذبات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ معاملے کو تمام پہلووں سے دیکھنے کا رواج کم ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ پاکستان اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو قادیانی شر سے بچا کر رکھے۔ آمین


ای پیپر