دینی شعار اور عبادات کی اہمیت کم نہ ہو
02 May 2020 (12:47) 2020-05-02

رحمتوں اور برکتوں کے ماہ مبارک رمضان کریم کا پہلا عشرہ اختتام پذیر ہونے والا ہے، ہماری مجبوری بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ ہماری بدنصیبی اورمساجد میں پنجگانہ نمازوں کی باجماعت ادائیگی کی سعادت سے محرومی کہ کرونا وائرس کے پھیلائو کے خدشے کے پیش نظر مساجد میںنماز پنجگانہ اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لئے کھلے عام اجتماعات پر پابندی اور محدود تعداد میں نمازیوں کو حاضری کی اجازت دینے کے فیصلے پر پابندی اور محدود تعداد میں نمازیوں کو حاضری کی اجازت دینے کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے نماز تراویح کے اجتماعات پر بھی پابندی کے اسی فیصلے کو لاگو کیا گیا ہے۔ یقینا یہ ایک المیہ ہے کہ مجھ جیسے بدنصیب اور حیلہ جو پہلے بھی نماز پنجگانہ کی باجماعت ادائیگی کے لئے کم کم ہی مساجد کا رُخ کرتے تھے البتہ رمضان المبارک میں نماز عشاء اور نماز تراویح کی ادائیگی کے لئے مساجد کا رُخ ضرور کر لیا کرتے تھے اب حکومت (صدر مملکت)اور علمائے کرام کے مابین بیس نکاتی یادداشت پر اتفاق رائے کے نتیجے میں انہیں مساجد میں جا کر نمازیں ادا نہ کرنے کا ’’عذرلنگ‘‘ مل چکا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت پچاس سال سے زائد العمر افراد اور چھوٹی عمر کے بچوں کے مساجد میں جا کر باجماعت نمازیں ادا کرنے پر پابندی ہے۔ یہ کیا منظرنامہ ہے کہ پانچ وقت اذان کی آوازیں سنتے ہیں لیکن مسجد میں جا کرنمازیں اداکرنے کی بجائے گھر بیٹھے پابندی سے ’’مستفید‘‘ ہو رہے ہیں۔

کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا وقت آئے گا کہ مسجدیں کھلی ہوں گی۔ پانچ وقت کی اذانوں کی صدائیں بھی بلند ہو رہی ہوں گی لیکن مساجد میںنمازیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہو گی۔ جیسے میں نے کہا ذاتی طور پر مجھے یہ اعتراف ہے کہ مسجد میں جا کر باجماعت پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی میں کوتاہی کا مرتکب چلا آ رہا ہوں جس کے لئے ہمیشہ ندامت اور کوتاہی کا احساس دامن گیر رہا ہے تاہم اس سال میری عمر کے لوگوں کے لئے مسجد میں جا کر نماز پنجگانہ اور جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر پابندی کی وجہ سے ندامت اور محرومی کا احساس پہلے سے کچھ بڑھ کر رہے۔ مجھے یہ لکھتے ہوئے دکھ محسوس ہو رہا ہے کہ مسجد کے روایتی مقام اور مرتبے، اس کی حرمت، تقدس اور تکریم کی بنا پر مسجد کے ساتھ عقیدت، احترام اور لگن کا جو رشتہ فرزندان توحید کا خاصہ چلا آ رہا ہے اب مسجد میں نماز پنجگانہ اور دیگر عبادات کی ادائیگی پر پابندی (یقینا یہ پابندی مجبوری کی حالت میں لگائی گئی ہے لیکن پابندی بہرکیف پابندی ہی ہے) کی وجہ سے اس میں جو رختہ پڑا ہے وہ تکلیف دہ ہی نہیں باعث ندامت بھی ہے۔ یہاں میں رمضان المبارک کے ان دنوں کے ماضی کے معمولات کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ ذاتی حوالہ دوں تو یہ کچھ ایسا بے جا نہیں ہو گا۔ رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں مسجد حنفیہ لین 5 لالہ زار راولپنڈی میں (کم از کم) باجماعت نماز عشاء اور نماز تراویح کی باقاعدگی اور التزام سے ادائیگی میرے لئے جس لطف، سرور اور شکرگزاری کا باعث بنتی تھی اب مسجد میں جا کر نماز ادا کرنے پر پابندی کی وجہ سے اس سے محرومی جہاں زیاں کا احساس دلاتی ہے وہاں زیاں کا یہ احساس مزید بڑھ جاتا ہے کہ رمضان المبارک کے ان دنوں میں مسجد

میں بعض نمازیوں جن میں بزرگ اور پکے نمازی محترم منشا صاحب جو کئی برسوں سے بطور مؤذن پانچ وقت کی اذان دینے کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں اور اتنے مسحور کن اور پُرتاثیر لہجے میں اذان دیتے ہیں کہ اذان کی آواز کانوں میں پڑے تو دل کے تار جھنجھلانے لگتے ہیں، ان کے ساتھی محترم مشتاق صاحب اور مسجد کے بالکل ہمسائے میں رہنے والے مجھ سے کم عمر کے نمازی (جن کا نام مجھے یاد نہیں آ رہا ہے) اور کچھ دیگر نمازی بھی شامل ہیں ان سے نماز عشاء اور نماز تراویح کے موقع پر جو خوشگوار رابطہ اور سلام دعا ہوتی تھی اب اس کا موقع نہیں مل رہا کہ کرونا وائرس کے پھیلائو کے خدشے کو سامنے رکھتے ہوئے میری عمر کے افراد کے مساجد میں جا کر عبادت کرنے پر پابندی نافذ ہے اور اس کی وجہ سے پچھلے ایک ماہ سے جمعتہ المبارک کی نماز اور پنجگانہ نمازیں (جو پہلے بھی زیادہ تر میں گھر میں ہی ادا کرتا تھا) گھر پر ادا ہو رہی ہیں۔ یہاں میں مسجد حنفیہ لائن 5 لالہ زار راولپنڈی کے قابل احترام خطیب اور امام حضرت مولانا قاری حافظ صلاح الدین مدظلہ عالی کے مختصر تذکرے کے بعد یہ ذاتی ذکر یا حوالہ ختم کرنا چاہوں گا۔ مسجد میں جا کر نماز ادا نہ کرنے کی وجہ سے محترم قاری صلاح الدین صاحب کی محبت اور شفقت سے دوری اور ان کی زبان سے نماز تراویح میں انتہائی خوبصورت اور پرُاثر آواز اور لحن میں قرآن پاک کی تلاوت اور قرأت کا نہ سن سکنا بھی یقینا میرے لئے کچھ نہ کچھ محرومی اور صدمے کا باعث ہے لیکن بات وہی پابندی سے مشروط مجبوری کی ہے۔

میں نے مساجدمیں نماز پنجگانہ اور جمعہ کی نماز پر پابندی کے حوالے سے جو ذاتی تذکرہ کیا ہے میں نہیں سمجھتا کہ وہ کس حد تک مناسب یا غیرمناسب ہے لیکن ایک پہلو ایسا ہے کہ جس کا ذکر میں اپنے کئی احباب سے بھی کر چکا ہوں کہ مساجد میں عبادات کے لئے اجتماعات پر پابدی کا فیصلہ بظاہر مجبوری کی حالت میں کیا گیا ہے اور اس کا مقصد یہی بتایا جاتا ہے کہ اس سے لوگوں کے باہم اکٹھے ہونے اور ملنے جلنے پر پابندی لگا کر کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنا مقصود ہے کہ دنیا میں لاک ڈائون اور ایک دوسرے سے دور رہنے (Social Distance) کے علاوہ ابھی تک کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کا اور کوئی مؤثر طریقہ یا علاج سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ منطق یا سوشل ڈسٹنس کا فلسفہ یقینا اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے اور اس کے مثبت اثرات سے بھی انکار کرنا زیادتی ہو گی لیکن ایک انتہائی نازک سی بات جو ہمارے لئے سب سے بڑھ کر اہم ہونی چاہئے وہ یہ ہے کہ کیا کہیں ان پابندیوں کی آڑ میں دینی شعار ، عبادت گاہوں اور دینی فرائض کی اہمیت کو کم کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش تو نہیں ہو رہی۔ کچھ مخصوص حلقے جن میں دین بیزار اور دینی تعلیمات سے خدا واسطے کا بغض رکھنے والے حلقے شامل ہو سکتے ہیں وہ اگر عبادت گاہوں بالخصوص مساجد میں نمازیوں کے اکٹھ پر پابندی کے فیصلے کو سب سے بڑھ کر اہمیت دیئے ہوئے ہیں تو کیا اس کی وجہ یہ نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنے مخصوص مقاصد کے لئے ایسا کچھ کر رہے ہیں۔

بدگمانی یقینا مناسب نہیں ہے لیکن کچھ پہلو بہرکیف ایسے ہیں جنہیں ضرور سامنے رکھنا ہو گا۔ مختلف مسالک کے جید علمائے کرام اور مفتیان عظام نے حکومت کے ساتھ بیس نکاتی مفاہمت پر اتفاق رائے کیا ہے تو یقینا مصلحت اور حکمت کا یہی تقاضا تھا لیکن اس کے بعد اسلامی عبادات بالخصوص نماز تراویح کی حیثیت، اہمیت فضیلت اور سنت رسولؐ کے طور پر ادائیگی کی جوبحث شروع ہوئی اس میں محترم جاوید غامدی جیسے عالم دین، جناب خورشید ندیم جیسے دانشوروں اور محترم مجیب الرحمن شامی سمیت بعض دیگر نامی گرامی قلمکاروں اور کالم نگاروں نے اپنی تحریروں اور ٹاک شوز میں جس طرح کے خیالات کا وقتاً فوقتاً اظہار کیا اور میڈیا بالخصوص الیکٹراک میڈیا کے بعض ٹاک شوز میں دینی شعار کا جس طرح مذاق اڑایا جاتا رہا یقینا یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہی نہیں بلکہ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ بچار کرنے کا مقام بھی ہے۔ میں نے ذاتی حوالے دے کربات کی ہے کہ عبادات کی ادائیگی میں کوتاہی ہوتی رہی ہے لیکن ندامت، شرمندگی اور محرومی کا احساس بھی جاگزیں رہا ہے وہ اس بنا پر کہ دل میں دینی شعار اور عبادات کی اہمیت اور تقدس جما رہا ہے۔ اب اگر پابندی کے نام پر ہم دینی شعار اورعبادات کی اہمیت اور تقدس کو ہی کم کرنے بیٹھ جائیں گے تو پھر کل کلاں نئی نسل دینی تعلیمات سے ہی دوری اختیار کر لیتی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا۔ دنیا کا خیال ضرور رہنا چاہئے لیکن دانستہ یا نادانستہ دنیا کو دین کے راستے میں دیوار بنانے سے اجتناب کرنا ہو گا۔


ای پیپر