’’ ہندووں کے گھروں سے مصّلے تلاش کرنا ‘‘
02 May 2020 (12:47) 2020-05-02

میری پوسٹنگ بطور ڈپٹی سیکریٹری( ایڈمن )حکومت پنجاب کے لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ میں ہوگئی۔ غیاث الدین ( مرحوم )محکمہ لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری تھے۔وہ اندر باہر سے ایک خوبصورت انسان تھے۔میں جب جوائننگ کے لیے محکمہ میں پہنچا تو سٹاف نے بتایاکہ غیا ث الدین صاحب محترم ڈاکٹر ظفر الطاف سیکریٹری زراعت کے دفتر میں بیٹھے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنے بھی مہربان تھے اور مجسم شفیق انسان تھے ۔ میں فوراََان کے دفتر پہنچ گیا۔ سیکریٹری زراعت اور سیکریٹری لائیو سٹاک کے دفاترساتھ ساتھ تھے۔ حسب روایت ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں خوش گپیاں چل رہی تھیں اور کافی کا دور بھی۔ غیاث الدین صاحب کا ڈاکٹر ظفر الطاف کے ساتھ بہت قریبی اور پیار بھراتعلق تھا۔ وہ اکثر ڈاکٹر صاحب کے دفتر میں ہی پائے جاتے تھے ۔ میری بھی ان سے ڈاکٹر ظفر الطا ف کی وجہ سے خاصی شناسائی تھی۔ ڈاکٹرصاحب کو میرے محکمہ لائیو سٹاک میں پوسٹنگ آرڈر کا معلوم تھا۔ ڈاکٹر صاحب میرے لیے کافی کاسٹاف کو کہہ کر غیاث صاحب سے مخاطب ہوئے، غیاث ، افتخار شاہ بہت قابل اور تجربہ کار آفیسر ہیں۔اس پر غیاث صاحب کے ریمارکس تھے کہ میں انہیں جانتا ہوں، He is a nice man لیکن ہم نے اکٹھے کبھی کام نہیں کیا۔ اب اکٹھے کام کریں گے تو پتہ چلے گا کہ کیسے آفیسر ہیں۔ مجھے ان کے یہ ریمارکس کچھ عجیب سے لگے، لیکن جوں جوں عملی زندگی کا وقت گزرتا گیا مجھے غیاث صاحب کے ان ریمارکس کے معنی اجاگر ہوتے گئے۔تو بات یہ ہے کہ جب تک کسی کے ساتھ عملی طور پر واسطہ نہیں پڑتااس وقت تک اس کی قابلیت اور کارکردگی کے متعلق کسی رائے کی کوئی خاص footing نہیں ہوتی۔

پنجابی زبان میں بھی تو ایک محاورہ کافی مستعمل ہے کہ ’’ راہ پیا جانڑیں یا واہ پیا جانڑیں ‘‘۔ خیر غیاث صاحب کے ساتھ میں نے دو سال سے زیادہ کام کیا ۔ نہایت ہی مہذب انسان تھے ۔ ان کے ساتھ گزرا وقت ایک سہانی یاد ہو کر رہ گیا کیونکہ دوران سروس ہی وہ یہ دنیا چھوڑ کر چلے گئے۔ اس ساری تمہید کا مطلب صرف یہ تھا کہ ہم بحیثیت قوم بہت سادہ لوح ہیں۔ کبھی تو ہاوسنگ سوسائٹیوں والے خوبصور ت خوبصورت اشتہار دکھا کر ہماری ساری زندگی کی کمائی سے ہمیں محروم کر دیتے ہیں تو کبھی اس ملک کے چالاک سیاستدان ہمیں سہانے خواب دکھا دکھا کر ہمارے حکمران بن جاتے ہیںاور پھر پوری قوم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنی معاشی اور سماجی بربادی دیکھتی رہتی ہے ۔تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا را کسی پر بھروسہ کرنے سے پہلے اس میدان میں ان کی ماضی کی کار کردگی کا تنقیدی جائزہ ضرور لے لیا کریں۔ اب اپنے ملک کے موجودہ حکمران جناب عمران خان ہی کو دیکھ لیں ۔ ساری زندگی کرکٹ کھیلتے اور کرکٹ کی باتیں کرتے گزری۔کرکٹ کا دور گزرا تو اس ملک پر حکمرانی کا عشق لاحق ہوا ۔ ان کے پورے ماضی پر نظر ڈال لیں، کبھی ایک چھوٹے سے ادارے کی بھی گورننس

(Governance ) نہیں کی ۔معصوم ( بیوقوف نہیں کہتا، آخر اپنی ہے) قوم کو سہانے خواب دکھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ بڑے بڑے دعوے کرنے والے نے حکمرا نی حاصل کرنے کے لیے کیا کیا compromises نہیں کیے ۔ گجرات کے چودھریوں ، جنہیں وہ کرپشن کا منبع کہا کرتا تھاسے لیکر ایم کیو ایم تک سب سے حکومتی اشتراک میں کوئی عار نہ سمجھی۔ بڑے بڑے سرمایہ داروں کی دولت کا سہار ا لیا اور اس پسماندہ اور بد حال قوم کے حکمران بن گئے۔ آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ حکمرانی کیا ہوتی ہے: گورننس(Governance ) ۔ گور ننس کیا ہوتی ہے: ملک کی خوشحالی اور عوام کی بہتری کے لیے اپنی پالیسیاں دینا اور پھر ان پالیسیوں کو اپنی مستعد ، تجربہ کار اور قابل ٹیم کے ذریعے عملی جامہ پہنانا۔ اپنی ٹیم کی کارکردگی پر مسلسل احتسابی اور عقابی نظر رکھنا۔ آپ نے خدا کو جان دینی ہے ، خدا را سچ بولیں ۔ آپ کو ان میں سے کوئی ایک چیز اپنے ملک میں نظر آتی ہے ۔ کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے حصول کے لیے حکومتی پالیسیوں کی کلیدی اہمیت ہوتی ہے۔یہاں تو کسی پالیسی کا وجود ہی ناپید ہے۔

خان صاحب آج کل غریبوں کو غربت کی لائن سے اوپر اٹھانے کی بات کثرت سے کرتے ہیں۔غریبوں کی قسمت بدلنے کے لیے انھوں نے کراچی کے ایک خاندانی سرمایہ دار اور صنعتکار کو ایک بہت اہم وزارت کا مشیر بنا رکھا ہے۔ پہلے تو ان کے پاس چار پانچ وزارتیں تھیں ۔لیکن شوگر اور آٹا سکینڈل کی وجہ سے ایک رہ گئی ہے۔وہ کوئی منتخب نمائندہ نہیں ہیں لیکن خانصاحب نے انہیں غریبوں کی قسمت سنوارنے کیلیے حکومت میں شامل کیا ہوا ہے تاکہ وہ غریبوں کو اوپر اٹھانے کے لیے پالیساں بنائیں ۔ کہنے کو تو وہ ا یک وزارت کے مشیرہیں لیکن انکی سہولت کی خاطر خان صاحب نے وہ وزارت اپنے پاس رکھی ہوئی ہے، جیسے وزارت اوورسیز پاکستانیوں کی بھی انھوںنے زلفی بخاری کی سہولت اور وزارت صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی سہولت کے لیے اپنے پاس رکھی ہوئی ہیں۔خانصاحب نے غریب پاکستا نیوں کو اوپر اٹھانے کے لیے باہر کے ملکوں سے بھی بڑے بڑے لائق فائق پا کستا نیوں کو پاکستان بلا کر بڑی بڑی اہم سیٹوں پر بٹھایا ہو ا ہے حالانکہ وہ سب مستقلاََ باہر کے ملکوں میں اپنی فیملیز کے ساتھ رہتے ہیں ۔ ان کے باہر کے ملکوں میں کاروبار اور نوکریاں ہیں ، وہیں ان کے بچے پڑھتے ہیں۔ لیکن پاکستا نیوں کے مسائل کا ادراک تو انھیں دور بیٹھ کر بھی ہے۔ دانشمندی کی راہ اپناتے ہوئے اور احتیاطاً انھوں نے باہر کی ائر ٹکٹ بھی بک کروا رکھی ہوتی ہیں تاکہ اگر کسی وقت بھی پاکستان سے اپنے گھروں کو جانا پڑے تو وقت ضائع کیے بغیر وہ اڑنچھو ہو جائیں ۔اب گورننس کے دوسرے اہم ترین فیکٹر (factor) یعنی حکومتی ٹیم کا جائزہ لیتے ہیں۔کسی بھی صوبہ میں حکومتی ٹیم کا سربراہ اس کا وزیراعلیٰ ہوتا ہے جسے اس صوبہ کا Chief executive کہتے ہیں۔ صوبہ کے تمام انتظامی اور فنانشل اختیارات اس کے پاس ہوتے ہیں۔ خانصاحب نے اپنے ملک کے سب سے بڑے صوبہ یعنی پنجاب جو دنیا کے کئی ممالک سے بھی بڑا ہے کے لیے ایسے وزیراعلیٰ چنے ہیں جس پر پورے ملک کو تو چھوڑیں ان کی اپنی پارٹی حیران و پریشان ہے ۔آپ کویاد ہو گا مشہور سائنسدان نیوٹن کا فارمولا ہے کہ ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے۔عمل اور رد عمل برابر ہوتے ہیں لیکن سمت ان کی opposite ہوتی ہے۔ یاد رکھیں خانصاحب کو اس عمل کو سیاسی طور پر بھگتنا پڑے گا۔ یہ نوشتہ دیوار ہے ۔جو انھوں اپنی حکمرانی میں پنجاب کے ساتھ کیا ہے پنجاب انہیں اس کا جواب ضرور لوٹائے گا۔آپ ان کی گورننس کا مظاہرہ صرف صوبہ پنجاب پر ایک نظر ڈال کر دیکھ لیں۔ ان کی حکومت کے پونے دو سال میںجواد رفیق ملک چوتھے چیف سیکریٹری ہیں۔ تقریباََ ہر محکمے کے چار چار سیکریٹری تبدیل ہو چکے ہیں۔آپ کو یقین نہیں تو آپ کے سامنے محکمے رکھ دیتے ہیں ۔ محکمہ ہائرایجوکیشن پر نظر ڈال لیں ۔لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹریز کو گن لیں ۔ میری زندگی کا تجربہ ہے کہ کسی نئے محکمہ کو سمجھنے کے لیے کم از کم تین مہینے چاہیے ہوتے ہیں ۔ ابھی آفیسر محکمہ کو سمجھنا شروع کرتا ہے تو ساتھ ہی اس کی ٹرانسفر ہوجاتی ہے۔ اس نے کام کیا کرناہے ، اور سب سے بڑی بات یہ کہ آفیسر بے یقینی کا شکار رہتا ہے ۔اس نے محکمہ کے حالات خاک سنوارنے ہیں۔ میجر اعظم سلیمان ایک تجربہ کار اور سمجھدار آفیسر تھے، صوبہ پنجاب کو وہ بخوبی جانتے تھے ۔ صرف پانچ ما ہ بعد روانگی ہو گئی۔عثمان بزدار سے بہترین گورننس کی توقع رکھنا، سیٹھ رزاق داود اورشیخ حفیظ اور ندیم بابر سے غریبوں کو اوپر اٹھانے کی پالیسیوں کی توقع رکھنا ــ ’’ ہندووں کے گھروں سے مصلے تلاش کرنا نہیں تو اور کیا ہے ‘‘ ۔


ای پیپر