حکومتی تجربات
02 May 2020 (12:43) 2020-05-02

سائنس وٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری کی وزارت تجربے کر رہی ہے یا نہیں مگر وفاقی حکومت مسلسل تجربات میں مصروف ہیں جس سے ایسا معلوم ہوتا ہے ساری حکومت ہی سائنسدان ہے جوایک ہی تجربے سے پُرسکون سیاسی منظر نامے کو ہلا کر رکھ دیتی ہے کرونا بحران نے سیاسی سرگرمیاں موقوف کیںمگر سکوت یا ٹھہرائو کی توقعات پوری نہیں ہو سکیں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو رگیدنے میں مصروف ہیں جو وقت امدادی سرگرمیوں کے لیے وقف ہونا چاہیے تھاوہ دشنام طرازی پر صرف کیا جارہا ہے خیر ہماری سیاست دنیا سے الگ قسم کی ہے جب شہزادیاں ہسپتالوں میں بھلائی کے کاموں میں شریک ہیں مملکتوں کے سربراہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مشکلات دورکرنے کے لیے سرگرم ہیں اپوزیشن تنقید چھوڑ کر تعاون کرنے اور عوام کی نظروں میں امیج بہتر بنانے کی تگ ودو میں ہے مگر ہماراکیونکہ طریقہ کار دنیا سے منفرد ہے اِس لیے حالات موافق ہوں یا ناموافق ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہمیں غلبے کی جبلت سے کنارہ کشی گوارہ نہیں فواد چوہدری نے وزارتِ اطلاعات کی ذمہ داریوں کے دوران اپنے تجربات سے تنقید کرنے والوں پر ہاتھ اُٹھانے کانتیجہ اخذکیا اب شاعراحمد فراز کے فرزند شبلی فراز اور معاون خصوصی اطلاعات عاصم باجوہ کے تجربات سے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں جلد نظارہ کریں گے اللہ کے رسولؐ کا فرمان ہے کہ دنیا سے جانے سے قبل ہر شخص کا باطن آشکار ہوجائے گا۔

حکومتی تجربات کے کچھ نتائج تاخیر کا شکار ہیں چینی وآٹا بحران کی رپورٹ آنے کے باجود ذمہ داران کا تعین نہیں ہورہا جس سے واقفانِ راز یہ پیغام لے رہے ہیں پچیس اپریل تک ذمہ داروں کے خلاف ایکشن کا عزم مزید تین ہفتے کے لیے التوا میں ڈالناظاہر کرتا ہے کہ تجربے کے مُضر اثرات میں کمی لانے کے نُکتے پر کام جاری ہے کیونکہ جہانگیر ترین تو اسمبلی اور کابینہ سے باہر ہیں مگررزاق دائود اور خسروبختیارجن پر اربوں کے الزامات ہیں اب بھی وزیر ہیں جنھیں قربان کرنے کی حکومت میں سکت نہیں اسی لیے تجربات پر مامور سیاسی سائنسدان حتمی نتائج پیش کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ نتائج میںمزید تاخیرپوری لیبارٹری کے لیے مشکلات میں اضافے کا موجب بن سکتی ہے ۔

وزارتِ اطلاعات کے تجربے کا نیا ایڈیشن مارکیٹ میں پیش کر دیا گیا ہے محترمہ فردوس عاشق اعوان کو مشیر بنانے کے تجربے سے یہ معلوم ہوگیا ہے کہ ایک عدد سویلین کے ساتھ عسکری شخصیت کا نتھی کیا جانا اشد ضروری ہے چاہے ریٹائرڈ ہی کیوں نہ ہو وہ تو حکومت کی خوش قسمتی کہ آپا فردوس کے مشورے پر عمل کیا اورمنجی تھلے ڈانگ پھیرنے سے مطلوبہ گوہرہاتھ آگیا خدا کی قدرت دیکھیے احمد فراز کے خلاف کوثر نیازی جس وزرات کے تحت اقدات اُٹھاتے تھے وہی وزارت کل کے معتوب احمد فراز کے بیٹے کے پاس آگئی ہے مگرکچھ لوگ شبلی فراز اور جنرل (ر) عاصم باجوہ کے بارے ایک پنجرے میں دوشیررہنے یا ایک میان میں دوتلواریں نہ سمانے کے مصداق ابتدا میں کچھ مشکلات کا اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کیونکہ نواز شریف دور میں بطور ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم باجوہ نے وزیرِ اعظم کو مسلسل دبائو میں رکھا اب شاعر کا صاحبزادہ کتنا آرام دہ رہتا ہے جلد معلوم ہوجائے گا مگر ایک حوالے سے کچھ حُسن ظن ہے وہ یہ کہ شبلی فراز حاکمانہ نہیں شاعرانہ خو رکھتے ہیں جبکہ عاصم باجوہ بھی حاضر سروس نہیں ریٹائرڈ ہیں اِس لیے ممکن ہے حالیہ تجربہ کامیاب ہوجائے ۔

آپا فردوس پر الزام ہے کہ بطور مشیروہ حکومت اور میڈیا کے مراسم بہتر نہیں بنا سکیں کیونکہ وزارتِ اطلاعات کا قلمدان سونپ کرسب اچھا سُننے کی خواہش کی جاتی ہے حالانکہ اچھا سُننے کے لیے لازم ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے لوگ سُکھ کا سانس لیں جب حکومت کے کھاتے میں کوئی نیک نامی ہی نہ ہو تو وزارتِ اطلاعات بھی وکالت میں ناکام ہوجاتی ہے یہی کچھ آپا فردوس کے ساتھ ہوا وہ ناکامیاں بھی کامیابیاں بنا کر پیش کرتی رہیں لیکن حکومت اور میڈیا میںبہتر تعلقات اُستوار نہ ہو سکے اِس میں کوئی دورائے نہیں کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سخت بحران کا شکار ہے کمرشل اشتہارات میں پچاس فیصد جبکہ سرکاری اشتہارت میں اسی فیصد کمی واقع ہو چکی ہے بات یہاں تک ہی محدود نہیں وفاقی اور صوبائی حکومتیں طویل عرصہ سے واجبات ادا کرنے میں

لیت ولعل سے کام لے رہی ہیں جس کی بنا پر ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی مشکل ہوگئی ہے پچیس مارچ کو متاثرہ اِداروں کی بحالی کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیاگیا لیکن میڈیا کی طرف کسی نے وزیرِ اعظم کی توجہ مبذول نہ کرائی اِن حالات میں حکومت اور اخباری مالکان کے درمیان موجود کشیدگی میںکمی کیسے آتی؟ لیکن آپا فردوس کو تجربے کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرا کر رخصت کردیا گیا حکمران جماعت کی دھڑے بندیاں الگ دردِ سر ہے اب سائنسدان حکومت نے نیا تجربہ شروع کیاہے حالانکہ بہتر نتائج کے لیے لازم ہے کہ چہرے بدلنے کی بجائے ایسا تجربہ کیا جائے جس سے میڈیا کی مشکلات میں کمی واقع ہو اے پی این ایس نے وزیرِ اعظم کو خط لکھ کر چند اچھی تجاویز پیش کی ہیں اور اخباری صنعت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کرنے اوربجلی کی قیمت کم کرنے کے ساتھ اشتہارات کے نرخ بڑھانے کا مشورہ دیا ہے جس سے اخباری صنعت کے کچھ مسائل حل ہو سکتے ہیں فرودس عاشق اعوان کو رخصت کرنے اور نئے چہرے لانے کا موجودہ تجربہ کامیاب بنانا ہے توحکومت کو اچھی تجاویز پر عمل کرنا ہوگا اخباری صنعت کو مسائل کے گرداب میں بے یارومددگار چھوڑ کر توقع رکھنا کہ تعلقات بہتر ہو جائیں گے ممکن نہیں ۔

عاصم باجوہ جب ڈی جی آئی ایس پی آرتھے تب سے اُن کے میڈیا کے ستونوں سے اچھے مراسم ہیں دوران ملازمت اورپھر سی پیک کی سربراہی سے ملک کو درپیش خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں اُن کی تعیناتی سے توقع ہے کہ مسلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف میں مزید سختی آئے گی مگر ذہن نشین رکھنے والی بات یہ ہے کہ تعلقات میں بہتری مسائل سے دوچار اخباری صنعت کو عزت دینے اور واجب الادا واجبات کی ادائیگی سے ممکن ہے کچھ لوگ فردوس عاشق اعوان کی رخصتگی کو،اب مجھ پر نزع کا عالم ہے اپنی وفائیں واپس لو،جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اُتارا کرتے ہیں،سے تعبیر کر تے ہیں اِس خیال کو کچھ حکومتی اقدامات سے بھی تقویت ملتی ہے اٹھارویں ترمیم کا غلغلہ اور پھر قادیانیوں کو اچانک اقلیتی کمیشن میں نمائندگی دینے کا فیصلہ اپوزیشن کے وسیع تراتحاد کا باعث بن سکتا ہے لہذا تحریک ِ انصاف نے اپنے نظریاتی کارکن کو وزیر بناکر اور ساتھ ایک ہُنرمند کو مشیر کا عہدہ دینے کے تجربے سے کیا کھویا اورکیاپایا ہے؟ اِ س سوال کا جواب جاننے کے لیے طویل انتظار کی ضرورت نہیں۔


ای پیپر