وزارت اطلاعات میں بھونچال کی اطلاع
02 May 2020 (12:36) 2020-05-02

مشیر اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان جن کا درجہ وفاقی وزیر کے برابر تھا چند دن پہلے ان کی یہ ’’ وزارت‘‘ اس وقت چکنا چور ہو گئی جب وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے انہیں الزامات سے آگاہ کر کے ان سے استعفیٰ طلب کیا۔ محترمہ نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا اور الزامات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا اس دوران ان کی اعظم خان کے ساتھ مبینہ طور پر خاصی تلخ کلامی بھی ہوئی آگے کچھ متضاد اطلاعات ہیں کہ فردوس عاشق نے وزیراعظم سے ملنے کی خواہش ظاہر کی مگر وزیراعظم نے وقت نہیں دیا گویا ملنے سے انکار کر دیا کچھ ذرائع کہتے ہیں کہ ملاقات ہوئی مگر معاملات حل نہ ہوئے۔ چونکہ انہوںنے استعفیٰ دینے سے انکار کیا تھا لہٰذا وزیراعظم نے ایک حکم ذریعے ڈی نوٹیفائی کر دیا۔

وزیراطلاعات عوام میڈیا اور دنیا کے سامنے اپنی حکومت کا چہرہ ہوتا ہے کیونکہ اس نے بتانا ہوتا ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے۔ ہمارے جمہوری سیٹ اپ میں وزیر اطلاعات کے 2 اہم فرائض ہیں ۔ ایک تو یہ ہے کہ حکومتی ایجنڈے کی مناسب اور مؤثر انداز میں عوام اور میڈیا کے سامنے presentation دی جائے۔ اس میں ماضی میں اس عہدے پر براجمان شخصیات سے غلطیاں ہوتی ہیں کیونکہ انہیں ناقابل دفاع معاملات کا دفاع کرنا ہوتا ہے۔ اور اکثر اوقات وزیراعظم یا کابینہ کے ساتھ مشورہ کرنے کا وقت نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اس وزارت کو اپوزیشن اور عوام وزارت غلط بیانی کہتے ہیں۔ وزیر اطلاعات کا دوسرا اہم کام اپوزیشن کی سیاسی یلغار کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے جو ہر وزیر کرتا ہے۔ اس نازک ذمہ داری کی انجام دہی میں وزیر اطلاعات کی سیاسی بصیرت کا پتہ چلتا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ کس طرح کا سلوک کر رہی ہے یہ کس طرح کی روایات متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ فردوس عاشق اعوان کا ان دونوں میں وزارتی کردار غیر تسلی بخش تھا جس پر ہر لیول پر تنقید ہوتی تھی۔

تحریک انصاف کی حکومت میں طبقاتی تقسیم 2 طرح کی ہے ایک وہ لوگ ہیں جو 2011 کے مینار پاکستان والے جلسے سے پہلے ہی پارٹی کا حصہ تھے باقی ساری پارٹی وہ ہے جو پی ٹی آئی کی ریٹنگ دیکھ کر پارٹی میں شامل ہوئے۔ ان دونوں کے اندر شروع سے ہی ایک سرد جنگ جا ری ہے۔ مرحوم نعیم الحق کے دور میں یہ چپقلش عروج پر تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ پارٹی کے اصل مالک اور عہدوں کے حقدار وہ لوگ ہیں جو پارٹی کے وفادار ہیں مگر دوسرے گروپ کا کہنا تھا کہ پارٹی کو اقتدار انہوں نے دلایا ہے وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب

ہو کر آئے ہیں لہٰذا اقتدار اور مراعات میں حصہ ان کا حق ہے۔ اسی بناء پر فواد چوہدری کو وزارت اطلاعات سے ہٹایا گیا تھا۔ نعیم الحق کی وفات کے بعد وزیراعظم کے سارے فیصلے جو پہلے نعیم الحق کرتے تھے اب اطاعلات کے مطابق ان کے پرنسپل سیکرٹری کو وزیراعظم کے Eyes & Ears کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ جہانگیر ترین کے خلاف جو اقدامات ہوئے انہوں نے اس کی وجہ اعظم خان کو قرار دیا تھا فردوس عاشق کا تاثر بھی وہی ہے۔

محترم فردوس عاشق کی وزارت سے برخاستگی پر بات کرنے سے پہلے ان کو یہ قلمدان عطا ہونے پر بات ہونی چاہیے حالیہ دہائیوں کی سیاست میں فردوس عاشق ایک علامتی Turncoat کی حیثیت رکھتی ہیں وہ اب تک پارٹیاں بدل چکی ہیں اور ہر دور میں وزارت سے لطف اندوز ہوتی رہی ہیں مگر اس دفعہ کا معاملہ کافی مختلف تھا۔ وہ انتخابات میں اپنی سیٹ ہار گئی تھیں۔ وہ 2017ء میں پی ٹی آئی میں آئیں سیالکوٹ سے پارٹی رہنما عثمان ڈار کی مخالفت کے باوجود انہیں ٹکٹ دیا گیا۔ عثمان ڈار اور فردوس دونوں الیکشن ہار گئے مگر دونوں قسمت نہیں ہارے اور دونوں کو الیکشن ہارنے کے باوجود وزیر کے برابر عہدہ مل گیا۔ وزارت اطلاعات جیسے اہم ترین منصب پر پارٹی کے پاس فردوس عاشق سے موزوں امیدوار نہ ہونا تحریک انصاف میںBrain Drain یا قحط الرجال کا عکاس ہے۔ ان کے بیانات سن کر ایک عام ٹی وی ناظر سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا کہ کیا یہ پارٹی کا چہرہ ہے۔ البتہ ان کی سب سے بڑی کوالٹی اپوزیشن کو بے عزت اور بے توقیر کرنے کی تھی جس میں وہ کامیاب رہیں انہیں اپنی زبان پر مکمل کنٹرول نہیں تھا اکثر اوقات وہ حدود سے تجاوز کر جاتی تھیںَ مثال کے طور پر 8 بچوں کی پرورش کرنے والی ایک ماں کو امدادی چیک دینے کے ٹائم یہ کہنا کہ آپ کے میاں اس کام کے علاوہ کیا کرتے ہیں۔ ایک تازہ ترین مثال اور بھی ہے مگر اسے دہرانا اخلاقی طور پر قطعی ناممکن ہے۔ پی ٹی آئی نے انہیں وزارت دینے اور پھر واپس لینے کے سارے عمل کو پنجابی کے اس محاورے میں سمو دیا ہے کہ نانی نے نکاح ثانی کیا تو غلط کیا اور اگر کر کے چھوڑ دیا تو پہلے سے زیادہ بڑی غلطی کی۔ پی ٹی آئی کی فیصلہ سازی اس نانی سے مختلف نہیں کیونکہ اس سے اپوزیشن کو موقع مل گیا ہے کہ وہ حکومت پر زیادہ شدت سے تیر اندازی کرے۔

یہاں ایک آئینی سوال بھی اٹھتا ہے کہ پی ٹی آئی نے اتنی زیادہ تعداد میں مشیر اور معاون خصوصی مقرر کر رکھے ہیں جو پارلیمنٹ کے ممبر نہیں ہیں ان ڈیڑھ دو درجن افراد کو وزیر کا درجہ دیا گیا ہے جو کہ آئین اور جمہوریت سے متصادم ہے جمہوریت کی تعریف ہے کہ "Govenment of the people by the people for the people" اس تعریف کی رو کو دیکھا جائے تو غیر نمائندہ افراد کو وزیر کادرجہ دنیا آئین کی روح کے خلاف ہے دوسرا یہ کہ اگر حکومت کے پاس کسی ایک آدھ وزارت کے لیے کوئی انتہائی غیر معمولی قابلیت کا بندہ لانا ہے تو چلیں اس کو مان لیتے ہیں مگر تھوک کے حساب سے پارلیمنٹ کو بائی پاس کر کے حکومت بنانا پارٹی کی جمہوری ساکھ کے برعکس سوچ کی عکاسی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اپوزیشن اور آئینی ماہرین نے اس رویے کو آج تک کسی عدالت میں چیلنج کیوں نہیں کیا۔ اس پر سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی عدالتی نظیر موجود ہے کہ غیر منتخب افراد کو وزیر نہ بنایا جائے اور کسی کو آرڈر میں یہ لکھ دنیا کہ اس کا درجہ وزیر کے برابر ہے یہ غلط ہے۔

جہاں تک فردوس عاشق اعوان کے سیاسی مستقبل کا سوال ہے تو وہ اپنے زہر آلودہ بیانات سے (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں کو ناراض کر چکی ہیں لہٰذا ان دونوں پارٹیوں میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں وہ چونکہ پارٹیاں بدلنے میں ایک اتھارٹی کا درجہ رکھتی ہیں گمان یہ ہے کہ ق لیگ کے دل میں ان کے لیے نرم گوشہ موجود ہے اور جب بھی ق لیگ اور حکومت کا اتحاد ختم ہوا۔ فردوس عاشق ق میں تشریف لے جائیں گی اس سارے معاملے کا انحصار اگلے الیکشن میں ان کی کامیابی پر ہے جو کہ بہت دور کی بات ہے۔ البتہ پی ٹی آئی کے خلاف بیان بازی کر کے وہ اس پارٹی کو خاصا نقصان پہنچا سکتی ہیں اور امکان ہے کہ وہ یہ کر گزریں گی۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ایسے سیاستدانوں کو پارٹی میں شامل کرنا جن کی اہلیت کا معیار وفاداری کی بجائے شراکت اقتدار ہو یہ کتنا بڑا رسک ہے۔ فردوس عاشق نے اگر پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دیا تو ایسی صورت میں انہیں بدعنوانی کے الزامات کے پس منظر میں نیب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستانی سیاست کے بارے میں پیش گوئی اس لیے ناممکن ہے کہ یہاں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا۔ ان کے جانشین سینٹر شبلی فراز کو وزارت کے اسرار و رموز سمجھنے میں اور اپنی صلاحیت کے جوہر دکھانے میں وقت لگے گا۔ امید ہے کہ ان کے عہد میں اس وزارت میں رواداری واپس آئے گی۔ آخری بات یہ ہے کہ ہمارے قومی میڈیا کا زلزلہ پیماء مرکز قطعی طور پر وزارت اطاعلات سے اٹھنے والے اس بھونچال کی پیش گوئی نہیں کر سکا بلکہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔


ای پیپر