آئیے اس دور کے ولی بن جائیے!
02 May 2020 (12:35) 2020-05-02

رمضان المبارک، نیکیوں کا موسم بہار اپنے جوبن پر ہے لیکن اس بار سب کچھ الگ نظر آرہا ہے۔ کیونکہ کرونا وبا کی وجہ سے پوری دنیا کا منظر ہی تبدیل ہوگیا ہے، بڑے بڑے برج الٹ گئے ہیں، ایک معمولی سے وائرس نے بڑی بڑی طاقتوں کو الٹا دیا ہے اور اس کے آگے امیر،غریب سب ہی بے بس نظر آتے ہیں۔ مارچ سے شروع ہونے والے لاک ڈائون کا سلسلہ ابھی ۹ مئی تک جاری رہے گا جس میں سماجی لاتعلقی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اسی لیے مساجد میں تراویح کی وہ رونقیں نظر نہیں آرہی اور نہ ہی اجتماعی سحری اور افطاری کی کوئی روایت نظر آرہی ہے۔

ہاں البتہ ایک چیز ہے جو تکلیف دہ ہے کہ اس بار غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہوگیا ہے جبکہ دو ماہ کے لاک ڈائون کی وجہ سے بہت مضبوط کاروبار والوں کو بھی اچھا خاصہ دھچکا پہنچا ہے۔بھلا ہو کچھ نیک، صاحب استطاعت لوگوں اور الخدمت جیسی تنظیموں کا جنہوں نے کئی گھروں کا چولہا بجھنے نہیں دیا۔

اس موقع پر میں حکومت کے کچھ اچھے اقدامات کا تذکرہ کرنا چاہوں گی۔ حکومت کی جانب سے تیس فیصد مستحقین تک کچھ رقوم پہنچائی گئی ہیں جو اس بحران سے نمٹنے کے لیے اگرچہ بہت کم ہیں لیکن پھر بھی اسے سراہا جانا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور گورنر چوہدری محمد سرور بھی کرونا کے خلاف جنگ میں اپنا موثر کردار ادا کرتے نظر آرہے ہیں۔

پنجاب کی وزیر صحت، دیگر مشینری، پولیس حکام، ٹریفک پولیس، ڈاکٹر، پیرا میڈیکل سٹاف الغرض ہر کوئی اس سے نمٹنے کے لئے کوشاں ہے۔ کرونا کے مریضوں کے لیے مختلف ہسپتالوں میں وارڈز کے قیام، اور کئی جگہ پر قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ساتھ ساتھ لوگوں کی سہولت کے لیے آن لائن ڈاکٹرز کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ سب سے بڑھ کر ٹیلی سکول کا قیام اور ای لرننگ ایپ بلاشبہ حکومت کا ایسا اقدام ہے جس پر میں دل سے ان کی شکر گزار ہوں یقین مانیں انہوں نے گھر بیٹھے بچوں کی تعلیم کے لیے اتنا اچھا اہتمام کیا ہے کہ اس سے پرائیویٹ سکولوں کے بچے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس موقع پروہ پرائیویٹ سکول مالکان جو صرف فیس وصولی کے لیے بار بار دھمکی

آمیز نوٹس دے رہے ہیں اور عملی طور پر بچوں کی تعلیمی عمل کو جاری رکھنے کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا۔ ان کے لئے شرم کا مقام ہے کہ انہوں نے والدین کا ذرا بھر بھی لحاظ نہیں کیا اور نہ صرف ان سے دھڑلے سے فیسیں وصول کیں بلکہ اپنے اساتذہ کو بیس فیصد کم تنخواہیں ادا کیں، مجھے ذاتی طور پر بڑا دکھ ہوا کہ ہم ایک تاریخی المیے سے گزر رہے ہیں، اس موقع پر دکھاوے کے لیے راشن بانٹنے کے بجائے اگر یہ پرائیویٹ سکول مالکان اپنے اساتذہ کا ہی خیال رکھ لیتے،ان کوتو بیس صد اضافی تنخواہ دینی چاہیے تھی۔ یقین مانیں راشن بانٹنے سے زیادہ ثواب ملتا، اگر ان سفید پوش اساتذہ کی کوئی مالی مدد کر دیتے۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ ایسے اداروں کے خلاف نوٹس لیں جنہوں نے بیس فیصد فیس کم نہیں کی یا پھر اپنے اساتذہ کی تنخواہوں میں کمی کی ہے۔ اتنے سالوں سے کما رہے ہیں اگر زندگی میں ایک بار ایسا موقع آگیا تو ان کی جان پر بن گئی ان کا مکروہ چہرہ سامنے آگیا۔ کون سا سکول کھلے ہیں یا بجلی کے بل آرہے تھے ان کو جو انہوں نے اساتذہ اورسٹاف کی تنخواہیں کاٹیں؟ فرعونیت کی مثال قائم کی ہے ان تعلیمی اداروں نے۔ اسی طرح دوسرے نمبر پر آتے ہیں ذخیرہ اندوز تاجر، بڑے بڑے سٹورز کے مالکان اور خاص طور پر میڈیکل سٹور مالکان، انہوں نے جس طرح بیس والا ماسک سو کا اور سو والا سینی ٹائزر ۵ سو کا بیچا ہے، ان کو اللہ پوچھے۔

یہ جو حکومت کو میڈیا پر آکر دس دس لاکھ کا چیک پیش کرتے ہیں اس کے بجائے اگر یہ جائز منافع ہی کمائیں، دس والی چیز پندرہ کی بیچ دیں سو کی نہ بیچیں ، تو یقین مانیں ان کو زیادہ ثوا ب ملے گا جتنا ان کو راشن کے لاکھ پیکٹ دے کر بھی نہیں ملے گا۔ دوسری جانب وہ پیشہ ور فقیر جو جگہ جگہ سے راشن لے کر دوسری جگہ بیچ دیتے ہیں اور جو پہلے ہی کچھ کرنے کے عادی نہیں اس کرونا کی آڑ میں وہ ہر جگہ لائن لگا کر کھڑے ہوتے ہیں ان عادی مجرموں کو دینے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔

اگر دینا ہے تو اپنے آس پاس کسی سفید پوش کو دیکھیے جس کا چھوٹا سا کھوکھا بند ہوا ہے، آج ہی مجھے ایک قاری صاحب سے بات کرنے کا اتفاق ہوا جو بچوں کو قرآن پڑھا کر اچھا بھلا گزارہ کر رہے تھے مگر لاک ڈائون کے دوران لوگوں نے ان کو بلانا بند کر دیا اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ ان کو تنخواہ بھی ادا نہیں کی، ان کی حالت بہت ناگفتہ بہ ہوگئی ہے یقین مانیں دل اداس ہوگیا۔ اگر کسی نے مدد کرنی ہے تو بہت سے ایسے نیک لوگ جو اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھ رہے ہیں رات کی تاریکی میں ان کی مدد کردیجیئے تاکہ کسی کو پتہ نہ چل سکے کسی فوٹو کے بغیر ہی! صرف اللہ کی رضا کے لیے۔

کرونا بحران نے معاشرے کے ہرطبقے کو متاثر کیا ہے اور اگر کسی کو متاثر نہیں کیا تو اس نے اس معاشرے کو بہت بری طرح متاثر کیا ہے۔

لوگوں کو بڑا شوق ہوتا ہے ولی بننے کا یا دور حاضر کے ولی سے ملنے کا تو ان کے لیے تو یہ ایک واقعہ ہی کافی ہے۔

سید ابولاعلی مودودیؒ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے کبھی کسی ولی اللہ کو دیکھا ہے؟ سید مودودیؒ نے جواب دیا ہاں ابھی دو دن پہلے ہی لاہور اسٹیشن پر دیکھا ہے۔

ہماری گاڑی جیسے ہی رکی تو قلیوں نے دھاوا بول دیا اور ہر کسی کا سامان اٹھانے اور اٹھا اٹھا کر بھاگنے لگے لیکن میں نے ایک قلی کو دیکھا کہ وہ اطمینان سے نماز میں مشغول ہے۔ جب اس نے سلام پھیرا تو میں نے اسے سامان اٹھانے کو کہا اس نے سامان اٹھایا اور میری مطلوبہ جگہ پر پہنچا دیا۔ میں نے اسے ایک روپیہ کرایہ ادا کردیا۔ اس نے چار آنے اپنے پاس رکھے اور باقی مجھے واپس کردئیے۔ میں نے اس سے عرض کی کہ ایک روپیہ پورا رکھ لو لیکن اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا‘‘نہیں صاحب میری مزدوری چار آنے ہی بنتی ہے’’۔

ہم سب ولی اللہ بننے اور ولیوں کو ڈھونڈنے میں دربدر خوار ہوتے ہیں، یاد رکھیں ہاتھ میں ہر وقت تسبیح لیے پھرنا یا غریبوں میں راشن بانٹ دینا ولی ہونے کی نشانی نہیں بلکہ یہ ریاکاری ہے۔

اللہ کا دوست یا ولی بننے کے لئے تو اپنی انا کو مارکرقربانی کو اپنی ذات کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔ یہی کام سکول مالکان بھی کرسکتے ہیں والدین اور اساتذہ میں آسانی بانٹ کر،کاروباری حضرات،بڑے بڑے گروسری سٹور یا میڈیکل سٹور والے بھی کرسکتے تھے ادویات میں ناجائز منافع نہ کما کر۔

یا وہ صاحب استطاعت لوگ، جنہوں نے کوئی قاری صاحب یا کوئی بھی استاد یا بندہ اجرت پر رکھا ہے ان کو بنا خدمات لیے ہی معاوضہ ادا کر کے!

تو پھر آئیں، فرائض کی پابندی کریں ، کبائر سے اجتناب کریں اور لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کریں اور سب اس دور کے ولی بن جائیں۔

آئیے اس دور کے ولی بن جائیے!


ای پیپر