”کن فیکون کون کہتاہے“
02 May 2020 2020-05-02

جنگ اُحدسے لے کر 6ستمبر 1965ءتک جذبہ جواں، مسلسل جواں رہا اور ان شاءاللہ قیامت تک جواں ہی رہے گا، کیونکہ غازی یا شہید کا اعزاز ایسا ہے، جو کسی اور قوم میں مفقود ہے، کیونکہ تصور آخرت کا تصور اور دائمی زندگی پہ ایمان محض اور محض مسلمانوں کا خاصہ ہے، ہزاروں سال تک پاکستانیوں کا، ہندوﺅں کے ساتھ رہنے کا یہ نتیجہ نکلا کہ اب بھارتی ہندو بھی مسلمانوں اور خصوصاً پاکستانیوں سے جنگ کرتے ہوئے، اور مرنے والوں کوہماری دیکھا دیکھی ”شہید“ کہنا شروع ہوگئے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ کیا کافر یا ہندو بھی اپنے مرنے والوں کے ساتھ ”شہید “ لگا کر مطلوبہ نتائج حاصل کرسکتے ہیں؟

میری دانست میں اللہ تعالیٰ چونکہ انسان کی صرف نیت دیکھتا ہے، لہٰذا یہ عمل پہ دارومدار ہے کہ نوعیت عمل کیا ہے ؟ یعنی اس کا کام ہی اس کی شخصیت کی چغلی کھاتا ہے، نیت مسلمان اور کافر کی ایک جیسی نہیں ہوسکتی جہاں تک مسلمانوں کی جنگوں میں کیفیات شعوری ، اور جذبہ جہاد کا تعلق ہے، اس کا جواب بھی قرآن پاک میں بڑا واضح ہے کہ حق اور باطل کبھی ایک نہیں ہوسکتے ، اور نہ کبھی بنیا اور نابنیا ایک جیسے ہوسکتے ہیں؟ ایک کی شان بے نیازی اس قدر کمال اوج وعروج پہ ہو کہ جلیل المرتبت نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام ، آزمائش غیبی کی فرمائش پہ اپنے لخت جگر، اور جاں پسر کو آزمانے پہ آمادہ ہوگئے اور فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی آداب فرزندی اس قدر دلیری سے بجالائے، کہ حضرت علامہ اقبال ؒبے ساختہ بول اُٹھے کہ یہ فیضان نظر تھایا کہ مکتب کی کرامت تھی۔

سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی؟

اب دوسری طرف نگاہ دوڑائیں، دور قبل مسیح سے دورجدید میں اب بھی ہندوستان میں، لات، ومنات کی ہندو یدذات ابھی تک پوجا کرتے ہیں، میں نے سابقہ تحریر میں بھی یہی عرض کی تھی، کہ جانور بھی اپنے مالک کو پہچانتے ہیں، مگر ہم کیسے انسان ہیں، کہ اپنے مالک سے واقفیت تو دور کی بات ہے، ہم تو اسے پہچانتے ہی نہیں، اور اسے گورکھ دھندا سمجھ لیتے ہیں۔

ایک طرف یہ صورت حال ہے، اور دوسری طرف منوں اور ٹنوں میں ڈھالے ہوئے سومنات کے بتوں کو محمود غزنوی کے ڈھائے جانے کے بعد کروڑوں بت تراش کر پڑھے لکھے مگر ان پڑھ ہندو صنم کدوں میں ہاتھ باندھے اپنی مرادیں برلانے کے لیے چڑھاوے چڑھارہے ہوتے ہیں، بقول مظفر شاہ

پھوڑ ڈالیں گے جنوں میں تیری دیواروں سے سر

ایسے دیوانوں کے آنے کی خبر زندوں کو دے

اپنے مالک کو پہنچاننے کے حوالے سے برادر بزرگ یحییٰ خان بھی فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں کوئی صوفی، فقیر ہو درویش، اور ہندوﺅں، سکھوں، عیسائیوں، یہودیوں ، بدھوں میں کوئی رشی ،کوئی منی، یا بیراگی، جوگی، گیانی دھیانی یا کوئی بھکشو ،لاما، پنڈت، پرویت یا کوئی سینٹ، پادری، ان میں ہرایک اپنے مالک کو پہچانتا ہے، اور اس کی طرف رجوع کرتا ہے، کوئی اسے اللہ رب، مالک، خدااور مواد کہہ لیتاہے، کوئی الشہود، پرماتما، بھگوان، پربھوپکار لیتا ہے، کوئی گاڈ، نور، خوشبو، روشنی، فطرت، قدر، قدرت ، حقیقت ، ازل اور ابدکہتا ہے، جس کو جس رنگ اور روپ میں نظر آیا وہ وہی کہلایا۔ کسی کو کوہ طورپر تجلی میں نظر آیا، اور کسی کو مورت میں دکھائی دیا کہیں وہ غار حرا میں وحی میں نظر آیا، کہیں وہ معراج میں، عرش کی خلوت میں جلوہ افروز ہوا، کسی کو برگد کے نیچے، کسی کو سولی کے اوپر، کسی کو سورج میں نظر آیا، ”کسی کو مورت میں دکھائی دیا“ کہیں وہ آگ میں چمکا، کہیں وہ راگ میں لپکا، کسی کی صورت دیکھ کروہ یاد آیا، اور کسی کی سیرت میں اس کا پرتو نظر آیا، کسی کی تخلیق میں وہ اُبھرا، اور کسی کی تحقیق میں وہ سامنے آیا، کسی کے طریق ووصف سے وہ جھانکا، اور کسی کے ہنروکسب سے وہ ہویدا ہوا۔

قارئین کرام، یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے، کہ متذکرہ بالا سطور کی ہر سطر محض مسلمان ہی بہتر جانتا ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو ایک ماننے میں جو مزہ، جو سرود، جو کیف ہے، وہ 32کروڑ خود تراشیدہ بھگوان ، جو بعث محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھے، اب تو ہندوﺅں کی آبادی ہندوستان میں ہے، وہ تو ارب سے بھی کہیں تجاوزکر گئی ہے، اس آبادی کے تناسب سے تو یوں دکھائی دیتا ہے، کہ ہندواستھان میں اربوں بت ہوں گے۔ کروڑوں بتوں کی بت شکنی کے رسم ”افتتاح“ کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ نے بھیج دیئے تھے، اور پھر خطہ عرب سے اس کا خاتمہ ہمارے پیارے نبی کے ہاتھوں ہوا، سعودیہ میں ڈانس کلبوں کا کھلنا، اور مخلوط تقریبات وتعلیمات، اور عرب امارات میں، جو مسلمان پیغمبر بھیجے گئے تھے ان کو کروڑوں ڈالرز دے کر دوبئی کے مسلمان حاکم نے مندر بنادیئے اب کچھ دن پہلے میں ایک خاتون میزبان کے منہ سے یہ الفاظ سن کر سرپیٹکررہ گیا، کنول شارب کہہ رہی تھی، کہ کرونا مارنے کے لیے ہمیں خود کچھ کرنا پڑے گا، کیونکہ اب یہ کن فیکون کا دورنہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی غیرت کو کیسے گورا ہوتا، کہ وہ مسلمانوں، سمیت، پنڈتوں، اور ہنود ویہود کو یوں ہی جانے دیتا، اور ”کرونا“ کو قدرت کی کاری گری بناکر نہ دکھاتا، حفیظ تائبؒ فرماتے ہیں، کہ

حمد کب آدمی کے بس میں ہے

ایک حسرت نفس نفس میں ہے

دوجہاں جس کے تابع فرماں

کب کسی کی وہ دسترس میں ہے

ہے بقا اس کی ذات کو شایاں

جلوہ فرما وہ پیش وپس میں ہے


ای پیپر