چوروں کو این آر او دے کر ملک سے غداری نہیں کروں گا : وزیر اعظم
02 May 2019 (19:31) 2019-05-02

مہمند: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نئے پاکستان میں چوروں کو این آر او دے کر اس ملک سے غداری نہیں کروں گا،عدلیہ کا کام ڈیم بنانے کی فکر کرنا نہیں تھا لیکن حکومت فیل ہوئی اس لئے مجبوری میں چیف جسٹس نے ڈیم کا معاملہ اٹھایا، ڈیم بنانے کیلئے چیئرمین واپڈا کو ہر ممکن معاونت فراہم کریں گے۔

مہمند ڈیم کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ منافق کا درجہ کافر سے بھی کم ہے، منافق کہتا ہے کہ جمہوریت بچا رہا ہوں لیکن وہ اپنا چوری کا پیسہ بچا رہا ہوتا ہے، عدلیہ کا کام ڈیم بنانے کی فکر کرنا نہیں تھا لیکن حکومت فیل ہوئی اس لئے مجبوری میں چیف جسٹس نے ڈیم کا معاملہ اٹھایا اس پر ثاقب نثار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پاک فوج نے قبائلی علاقوں میں قربانی دے کر امن قائم کیا ہے، امن کے بغیر خوشحالی نہیں آسکتی، پر امن ملک میں سرمایہ کاری آتی ہے، آج لوگ پاکستان میں پیسہ لگانا چاہ رہے ہیں، بے روزگاری ختم ہو گی جب سرمایہ کاری آئے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ  میں سارا پاکستان پھرا ہوں اس پر فخر ہے، میں قبائلی لوگوں کے مسائل سمجھتا ہوں ان کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا، قبائلی علاقے تعلیم میں پیچھے رہ گئے ہیں اور صحت کی سہولیات موجود نہیں ہیں، آج ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، چین کی ترقی دنیا کیلئے مثال ہے، چین کی قیادت الیکشن کا نہیں سوچتی بلکہ دور کی سوچ رکھتے ہیں، ڈیم بنانے کیلئے دور کی سوچ چاہیے، ایوب خان نے تربیلا اور منگلا ڈیم بنایا، لاہور میں ایک انسان پر سالانہ 70ہزار روپے خرچ ہوئے جبکہ راجن پور میں 2.5ہزار خرچ ہوا، جس سے کچھ علاقے پیچھے رہ گئے اور تھوڑے علاقے ترقی کر گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چین کے ماڈل پر عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستان کے کم ترقی یافتہ علاقوں کو اٹھانا ہے، چین نے 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا جس سے ترقی ہوئی، مدینہ کی ریاست میں ریاست غریب عوام کی ترقی کیلئے اقدامات کئے، مہمند ایجنسی میں ساڑھے 4ارب روپے خرچ کیا جائے گا، پوری کوشش ہے کہ افغانستان میں امن آئے اور ہم افغانستان سے تجارت شروع کریں گے، اس سے قبائلی علاقے ترقی کریں گے، افغانستان کے ساتھ تجارت کے راستے کھولے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں سارے صوبے اپنے حصے میں سے قبائلی علاقوں کو 3فیصد فنڈ دیں گے، قبائلی علاقوں کو اکسانے کیلئے بیرونی سازش کی جا رہی ہے، اس انتشار کو روکنے کیلئے قبائلی علاقوں کو ترقی دینا ہو گی، ڈیم بنانے کیلئے چیئرمین واپڈا کو ہر ممکن معاونت فراہم کریں گے، چینی ٹیکنالوجی سے ایک ہفتے میں گھر کی ایک منزل بنائی جا سکتی ہے، اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور غریبوں کیلئے گھر بنائیں گے جو اپنی کرسی بچانے کی فکر میں رہے وہ کبھی اچھا لیڈر نہیں بن سکتا،ہم پاکستان میں قانون کی بالادستی اور عدل و انصاف کی بات کرتے ہیں، نئے پاکستان میں چوروں کو این آر او دے کر اس ملک سے غداری نہیں کروں گا۔


ای پیپر