ایم کیو ایم پھر سیاسی تنہائی کا شکار
02 May 2019 2019-05-02

’’سندھ کی تقسیم کے خلاف جو لوگ ہوں اٹھ کھڑے ہوں‘‘، سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی اپیل پر جی ڈی اے اور پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اٹھ کھڑے ہوئے۔ جس پر وزیراعلیٰ نے ان کا شکریہ ادا کیا، جب کہ ایم کیو ایم کے اراکین اپنی نشستوں پربیٹھے رہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ متحدہ ختم ہوگئی مگر یہ تو بڑھتی جارہی ہے، پہلے ایک متحدہ تھی لیکن اب 4ہوگئیں۔

پہلے سے اعلان کردہ ایم کیو ایم کا جلسہ سنیچر کے روز ہوا، اسی روز وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کی، دونوں عہدیداروں نے ورکنگ ریلیشن شپ پر اتفاق رائے کیا۔ یوں تحریک انصاف نے ایم کیو ایم کی پالیسی سے دوری کا اظہار کردیا۔نتیجے میں ایم کیو ایم ایک بار پھر سیاسی تنہائی میں چلی گئی۔ اس سے قبل وفاقی حکومت سندھ حکومت پر دبائو ڈالنے کے لئے ایم کیو ایم کو شہ دیتی رہی۔وفاق میں تحریک انصاف اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے۔ ایسے میں سندھ حکومت کے درمیان تنازعات اور جھگڑے چلتے رہے۔ گزشتہ نو ماہ کے دوران کئی بار ایسے مرحلے آئے کہ وفاق نے اپنے گورنر عمران اسماعیل کے ذریعے سندھ حکومت کو دھمکایا، یا پھر کبھی اپنے وزیر سے بیان دلوایا کہ کراچی کو نظرانداز کیا جارہا ہے، وفاق کوئی راست اقدام کرے۔ پھر وزیراعظم نے بھی یہ فرما یاکہ ایم کیو ایم والے نفیس لوگ ہیں، ان نفیس لوگوں نے ایک بار پھر سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کی۔ تب تحریک انصاف کو احساس ہوا کہ وہ جس پارٹی کو آگے بڑھا رہی ہے وہ کراچی کو ایک بار پھر عدم استحکام کی طرف لے جائے گی۔

خالد مقبول صدیقی جو کہ وفاقی وزیر بھی ہیں ،کہتے ہیں کہ سندھ کی تقسیم ہو چکی، اب صرف اعلان کرنا باقی ہے۔ صوبائی مختاری کے نام پر عوام کے وسائل چھینے گئے ہیں۔ کوٹا سسٹم نافذ کر کے سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ وہ اٹھارویں ترمیم کے بھی مخالف ہیں ، کہتے ہیں اس ترمیم میں عوام سے دھوکہ کیا گیا ہے۔ انہوںنے دھمکی دی کہ کراچی میں فساد بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ دھمکی آمیز رویہ ہے، یہ وہی رویہ ہے جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کی ساکھ متاثر ہوئی۔ ایم کیو ایم کو پتہ ہے کہ سندھ اس معاملے پر کتنا حساس ہے۔ سیاسی اسکورنگ کے لئے یہ بیانات دیئے جارہے ہیں۔ آج ایم کیو ایم کراچی کی نمائندہ پارٹی نہیں ہے۔ کراچی کے لوگ ہینگ اوورسے نکل رہے تھے کہ یہ بیان پھر سامنے آیا ہے۔

ایم کیو ایم اپنے قیام سے لیکرہر دور میں حکومت کی اتحادی رہی ہے۔ مشرف دور میں اس تنظیم کو خصوصی پشت پناہی حاصل رہی، اس کو مزید طاقتور بنایا گیا۔انتہا پسندی اور کراچی میں امن وامان کی بدترین صورتحال کے پیش نظر جب آپریشن ہوا تو اس کا سورج غروب ہونے لگا۔ ایم کیو ایم ایک خاص وقت پر انتہا پسندی کے مطالبات کرنے لگتی ہے، جو وال چاکنگ، بیانوں اور پوسٹرز کی شکل میں سامنے آتی رہی ہے۔ 27 اپریل کے جلسے میں ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اس معاملے کو اور بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔ سندھ کے لوگ ابھی کسی لسانی منافرت وغیرہ کا شکار نہیں ہونا چاہتے، آخر ایم کیو ایم کے رہنما نے کس کی آشیرباد سے اس حساس مسئلے کو جگانے کی کوشش کی ہے؟ اس کا خیال تھا کہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی (یا وفاق اور صوبہ سندھ کی حکومتوں) کے درمیان حالیہ کشیدگی سے وہ سیاسی فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

سندھ کے لوگ صوبے کی جغرافیائی وحدت پر نہ سودے بازی کریں گے اور نہ خاموش بیٹھیں گے۔ اس کا اظہار سندھ اسمبلی میں گزشتہ روز کیا گیا۔ سندھ کے لوگ صرف اردو بولنے والوں کو ہی نہیں ملک کی دوسری زبانیں بولنے اور رہنے والوں سے بھی نفرت نہیں کرتے، ملک کے بالائی علاقوں سے لاکھوں لوگ صرف کراچی میں ہی نہیں، صوبے کے دیگر شہروں اور دیہات میں مقیم ہیں۔ وہاں کاروبار یا ملازمتیں کر رہے ہیں۔لیکن کراچی میں اردو کی لسانیت کی بنیاد پر مسئلہ کھڑا کیا جارہا ہے۔ یہ حقیقت قبول کرنی چاہئے کہ آبادی کے لحاظ سے کراچی کا نقشہ تبدیل ہو چکا ہے۔ اب دوسری زبان بولنے اور دوسرے علاقوں کے رہنے والے لوگ یہاں آکر آباد ہوئے ہیں ان کی آبادی اردو بولنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ یہ کسی طور پر ممکن نہیں کہ سب کو یہاں سے نکال کر اردو بولنے والوں کی اکثریت قائم کی جائے۔ شہری علاقے کی اصطلاح جب استعمال کی جاتی ہے تو سوچنا چاہئے کہ تیزی کے ساتھ اور بڑے پیمانے پر اربنائزیشن کے نتیجے میں سندھ میں دیگر علاقے بھی اس تعریف کے زمرے میں آتے ہیں۔اب لے دے کر ایم کیو ایم کے پاس صرف لسانی شناخت رہ جاتی ہے جس کی بنیاد پر وہ سیاست کرے۔

اس صورت میںکراچی کی سیاسی ٹرین میں وہ مسافر سفر کرنا چاہیں گے جونئے زمینی حقائق کوتسلیم نہیں کرتے۔جو گزشتہ سات عشروں سندھ کی زمین کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑ نہیں پائے ہیں۔ اب جب ایم کیوا یم سیاسی تنہائی کا شکار ہو گئی ہے تو وہ اپنی کھوئی ہوئی حیثیت بحال کرنے کے لئے خالد مقبول صدیقی کے ذریعے یہ بیان بازی کر رہی ہے۔ سندھ کا میدان ایم کیو ایم کے لئے اور پیپلزپارٹی کے لئے ووٹ کا ذریعہ ضرور ہے۔ لیکن بقول ایک سندھی دانشور کے سندھ ایک رومانس ہے۔ سندھ کے علاوہ باقی تینوں صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ سندھ میں منتخب حکومت ہے، یہ الگ بات ہے کہ سندھ کے لوگوں نے پیپلزپارٹی کو مینڈیٹ دیا ہے، اور وہی حکومت میں ہے۔ ایم کیو ایم اس حکومت میں شامل نہیں۔ لہٰذا وہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ سندھ میں مداخلت کر کے معاملات کو درست کرے۔ کیا آج اگر ایم کیو ایم صوبائی حکومت میں شامل ہوتی تو کسی طور پر بھی وفاقی حکومت کو مداخلت کے لئے کہتی؟ جہاں تک معاشی ترقی اورترقیاتی کاموں وغیرہ میں نابرابری کاسوال ہے، وہ سندھ کے باقی علاقوں میں بھی نظر آتی ہے۔کیا سندھ کے وہ علاقے بھی اپنے لئے الگ صوبے کا مطالبہ کردیں؟ اس معاملے کو جمہوری طریقوں سے حل کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اچھی پیشکش کی ہے کہ معاملات کے حل کیلئے ہم ایم کیوایم کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہیں جب چاہیں ہمارے ساتھ اجلاس کرلیں۔

کراچی کے اردو بولنے والوں کی کسی طور پر بھی خواہش نہیں کہ اس شہر میں فسادات ہوں۔ فسادات یا پرانی ایم کیو ایم کو زندہ کرنے کے بھی حق میں نہیں۔ کیونکہ اس سے نقصان اردو بولنے والوں کا ہی ہوگا، اور بدنامی عمران خان حکومت کی ہوگی۔ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ ایم کیو ایم کے اس رویہ پر غور کرے اورایسے رجحان اور گروہ کو غیرضروری طور پر آگے لانے کی کوشش سے گریز کرے۔


ای پیپر