مڈ ٹرم انتخاب یا قومی حکومت؟
02 May 2019 2019-05-02

پاکستانی شہریوں کے لیے حکومت کی جانب سے اس ہفتے کی سب سے بڑی خوش خبری یہ ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں چار پیسے کمی کا اعلان کر دیا گیاہے۔اب شہری دل کھول کر بجلی کا استعمال کریں کیوں کہ ریاست مدینہ ماڈل قائم ہو چکا ہے ۔اس کے بعد رمضان کا مہینہ شروع ہونے والا ہے او ر کپتان کی سونامی ابھی سے پورے زروں سے چل پڑی ہے ،یعنی مہنگائی کی سونامی ۔ تحریک انصاف اپنی عمر کے تئیس مکمل کر چکی ہے تحریک انصاف اس وقت قائم ہوئی تھی جب جنرل حمید گل ماڈل ناکام ہوا تھا۔اس ماڈل میں کپتان نے ایک پریشر گروپ بنانا تھا جس نے اپنے مطالبات اس انداز سے ترتیب دینے تھے کہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ نے اس کا بھر پور ساتھ دینا تھا اس چور دروازے سے پریشر گروپ کے لیے اقتدار میں سپیس پیدا کی جانی تھی ۔عبدالستار ایدھی نے پہلے تو حمید گل ماڈل سے اتفاق کیا تھا ۔ مگر ایدھی کو محسوس ہوا کہ یہ تو ایک خاص شخص کو اقتدار میں لانے کی کوشس ہے۔ ادھر دبائو کا حربہ کپتان کی طرف سے تھا ایدھی نے اچانک لندن کا ٹکٹ کٹوایا جب عیدی صاحب ہیتھرو ائرپورٹ پر اترے تو ان کے استقبال کے لیے غیر ملکی میڈیا موجود تھا۔عیدی نے صاف صاف بتا دیا کہ وہ جموریت کے خلاف آلہ کار نہیں بن سکتا۔ ان کی جان کو خطرہ تھا اس لیے ملک چھوڑا ۔ جب اس انقلاب کے بارے میں کپتان سے بار بار پوچھا گیا تو وہ گول مول جواب دے کر ٹالتے رہے۔ پھر جا کر ایک پارٹی بنی جو اب تئیس سال کی ہو چکی ہے یوم مئی کے موقع پر کپتان نے اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں اپنی پارٹی کی سال گرہ کا جشن منایا۔اس میں بھی کپتان کی جانب سے پرانی تقریر اور کہانی دہرائی گئی۔ تقریب سے خطاب میں عمران خان نے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام ف کی قیادت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور ساتھ ہی 10 نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔عمران خان نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو صاحب کہہ کر مخاطب کیا اور ساتھ ہی وضاحت کی کہ کبھی کبھی غلطی ہوجاتی ہے،وہ کہتے ہیں مہنگائی بڑھ گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مانتا ہوں مہنگائی ہے،مشکل حالات ہیں اور عوام پریشان ہیں،اگرہم پاکستان کا قرضہ 30 ہزار ارب سے کم کرکے 20ہزار ارب پر لے آئے،اس سے کامیاب حکومت ہوہی نہیں سکتی۔ اہم بات تو یہ ہے کیا کپتان کو دو دہائیوں سے دو سال اوپر تک معلوم ہی نہیں ہو سکا کہ جو پاکستان انہیں ملے گا تو اس کی اقتصادی حالت کیسی ہے؟۔اور اس جماعت کا لیڈر پچاس سال میں حکومت چلانے کے لیے 50آدمی پیدا نہیں کر سکا۔عمران خان کابینہ کے ارکان کی تعداد 47 ہو گئی ہے جس میں غیر منتخب ارکان کی تعداد16 ہو گئی ہے کابینہ میں 4منتخب ارکان کی جگہ مزید غیرمنتخب نے لے لی ہے۔ قومی اسمبلی کے رکن اسد عمر کی جگہ ٹیکنو کریٹ عبدالحفیظ شیخ آگئے ہیں عبدالحفیظ شیخ جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔ وزیر صحت عامر کیانی اور وزیر پٹرولیم غلام سرور کی جگہ ٹیکنو کریٹس ظفر اللہ اور ندیم بابر نے لے لی ہے۔وفاقی کابینہ میں وزرا کی تعداد 25 ہو گئی۔ معاونین خصوصی کی تعداد 13 ہوگئی، غیر منتخب معاونین میں فردوس عاشق اعوان، ندیم بابر اور ظفر اللہ،شہزاد اکبر، افتخار درانی، نعیم الحق، زلفی بخاری، شہزاد قاسم، عثمان ڈار، ندیم افضل چن شامل ہیں۔عبدالحفیظ شیخ کی شمولیت کے بعد وزیراعظم کے مشیروں کی تعداد 5ہوگئی، دیگر غیر منتخب مشیروں میں ملک امین اسلم، عبدالرزاق دائود‘ شہزاد ارباب اور ڈاکٹر عشرت حسین شامل ہیں۔سینیٹ میں پیپلز پارٹی نے معاون خصوصی اور مشیروں کی آئینی حیثیت سے متعلق سوال اٹھایا ہے یہ سوال اٹھایا ہے ،سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہ جتنی بھی اہم وزارتیں ہیں،ساری کی ساری غیر منتخب لوگوں کو دے دی گئیں ہیں،جس سے شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں ہم صدارتی نظام کی طرف تو نہیں جا رہے حکمرانوں کے نزدیک عوام بے چارے کیڑے مکوڑے ہیں ۔ اقتدار کے آٹھ ماہ میں حکومت نے اپنا اعتبار کھو دیا ہے اور اب یہ حکومت پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ حاصل لینے جا رہی ہے۔ اب گیس اور بجلی کے بلوں کا بوجھ عوام پر ڈالنا ہے۔عوام کے منہ سے نوالہ چھین کے 600ارب کے ٹیکس اکٹھے کرنے ہیں ۔ عوام پر ٹیکسوں کا یہ حملہ ناقابل برداشت ہے۔اسکے بعد تو کائونٹ ڈائون شروع ہو جائے گا۔ایک رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ طے ہوگیا ہے کہ ڈالر کی قیمت کا تعین سٹیٹ بینک کے بجائے مارکیٹ کرے گی،حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں اگلے سال مہنگائی دہرے اعداد میں چلی جائے گی، مہنگائی بڑھنے کے ساتھ شرح سود بڑھتی جائے گی جس پر اتفا ق ہوگیا ہے، گردشی قرضوں اور گیس و بجلی کی قیمتوں سے متعلق پلان بن رہا ہے، بجلی کی قیمتوں میں دو اقساط میں سہ ماہی بنیاد پر اضافہ کرنا پڑے گا، آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان معیشت کے حجم کے 1.7فیصد کے برابر نئے ٹیکسز لگائے، حکومت کا موقف ہے کہ ہم 600ارب روپے کے ٹیکس لگاسکتے ہیں۔

آخر کب تک کپتان دوسروں کے کندھوں پر بندوق چلائیں گے۔ کپتان تو چاہتا ہی یہی ہے گلیاں ہو جان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے۔ خواہش اور آرزو یہی تھی۔ نواز شریف، حمزہ شہباز، شہباز شریف، آصف زرداری اور بلاول ان کے اقتدار کے راستے سے ہٹ جائیں تو ان کی حکمرانی آسان ہو جائے گی۔ جاوید ہاشمی کے مطابق جن لوگوں نے کپتان کو اقتدار میں لانے کا وعدہ کیاتھا۔یہ ایک سازش تھی وہ مکمل ہو چکی۔اس میں ایک ہمارا چیف جسٹس بھی تھا ۔اس نے نواز اور شاہد خاقان عباسی کی حکومت کے دوران جوڈیشل ایکٹیوازم کی جو کہانیاںچھوڑی ہیں۔اس کی وجہ سے ہی نواز شریف اور عباسی کی جائز حکومت بدنام ہوئی اس کا اشارہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی ہے۔ یہاں سے نوازشریف اور شاہد عباسی کی جائز حکومت بدنام ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کے لیے کپتان پر سلیکٹ وزیر اعظم کا لفظ خوب جچتا ہے۔اب پنجاب اسمبلی سے ایک قانون کی آڑ میں بلدیاتی اداروں پر اپنے آدمی بٹھانے کا منصوبہ بن چکا ہے۔ پنجاب میں جس طرح کی حکمرانی چل رہی ہے۔ایسی تو پاکستان کی تاریخ میں ملی نہیں۔پنجاب میں تو ڈانوں ڈول والا معاملہ ہے۔ کپتان کوئی پارٹی تقریب ہو تو ان کے پاس ایک ہی چورن ہے ۔یہ چور اور وہ چور۔جب تک زندہ ہوں این آراو نہیں ملے گا،مریم اورنگ زیب نے تو یہ کہہ دیا ہے ملکی مفاد کو سب سے زیادہ خطرہ کو خود کپتان سے ہے۔ جب نواز شریف کو تاحیات نااہل کیا گیا۔ یہ ایک بڑے اعتراض والا معاملہ ہے چیف جسٹس نے اس فیصلے سے ایک قومی جماعت کو اقتدار سے نکالنے کی کس طرح کوشش کی۔ یہ تو صدیوں پرانی اقتدار کی کہانی ہے۔ سقراط نے جب زہر کا پیالہ پیا تو ایتھنز کے حکمرانوں نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ ان کی حکومت کو چیلنج کرنے اور حکومت کے خلاف گراہی پھیلانے والا ان کے راستے سے ہٹ گیا ہے۔ اگر سقراط کی سچائی کا پرچار کرنے کے لیے اس عہد میں سقراط کو بلاول اور مریم اورنگ زیب یا فواد چودھری جیسے پرچارک مل جاتے تو سقراط ڈٹ جاتا،۔ جمہوری عہد میں آمریت نہیں چل سکتی یہ کپتان کو لانے والوں کی پتہ ہے ۔جب کپتان کو لایا گیا ان کے سارے مطالبے جھوٹ پر مبنی تھے ایک سو چھبیس دن کا دھرنا بھی جھوٹ پر مبنی تھا ،پالیمنٹ کو چوروں کی آماج گاہ بتایا۔ ایک کینڈا کا شہری بھی تھا ان کے جھوٹ اور مطالبے سب سے آگے تھے۔یہ بات ثابت ہوئی کپتان کے مطالبے پر بننے والے کمشن پر،نہ کرپشن نہ ثبوت تھے۔ جھوٹ بولنے کی پٹی کس نے پڑھائی تھی۔ نواز شریف کو ہٹانے والی اشرافیہ سقراط سے زیادہ طاقت ور تھی مگر تاریخ تو یہ بتاتی ہے سقراط کا سچ زیادہ طاقت ور تھا۔ کپتان بھول گئے کہ ا ینکروں نے کس طرح نواز شریف کے خلاف عدالتیں لگائیں۔نواز شریف کو تو منیر نیازی کے اس شعر کی طرح کا سامنا تھی

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

کپتان کی حکومت اب کتنا عرصہ چلے گی۔کیا اب انتخاب کا عمل شروع ہو گا اگر نہ ہوا تو ایک تحریک شروع ہو سکتی ہے جو مہنگائی کے نام پر عوام کو ساتھ ملائے گی اس کے لیے بجٹ کا انتظار ہے۔ اس کے باوجود اگر کپتان ناکام ہو گیا تو قومی حکومت بننے کے امکانات ہیں ،کپتان ایوب دور کے گن گاتا ہے۔ اس دور میں عمر ایوب کے والد اور نانا نے جیسے گندھارا انڈسٹری پر قبضہ کیا یہ ہی نہیں اسی دور میں بائیس خاندان پیدا ہوئے جو غریبوں کا خون پی کر پلے تھے۔


ای پیپر