یوم مئی ا و ر ہم
02 May 2019 2019-05-02

ا ٓ ج سے دو روز قبل یوم ِ یکم مئی ا ٓ یا اور چھٹی کا مز ہ دیتا ہو ا گزر گیا۔ جا نتا ہو ں کہ بہت سے قا رئین کو اعتر اض ہو گا کہ یکم مئی کا روز تومحنت کشو ں کی مشقت سے منسو ب ہے، لہذا اسے چھٹی کے مز ے سے تعبیر کر نا محنت کشو ں سے ز یا دتی وا لی با ت ہے۔اس ا عتراض کا جو ا ب دینے کی غر ض سے ا ٓ ئیے تھوڑا ما ضی میں چلتے ہیں۔تو قا ر ئین کرا م، یورپ اور امریکہ میں جہاں صنعتی انقلاب نے روزگار کے مواقع پیدا کیے، وہاں نت نئی مشینوں کی ایجاد نے مزدوروں اور ہنرمندوں کے ساتھ ہونی والی زیادتیوں کو بڑھاوا دیا۔ نتیجتاً انیسویں صدی کے درمیانی عرصے میںمحنت کشوں نے اپنے حقوق کے لیے ا ٓواز اٹھانا شروع کردی۔ ا ٓٹھ گھنٹے کی بجائے دس سے بارہ گھنٹے اور بسااوقات اس سے بھی کئی گھنٹے زیادہ بغیر کسی اضافی معاوضے کے کام لینا ایک عام سی بات تھی۔ بچوں سے نہ صرف مزدوری کرائی جاتی، بلکہ اضافی گھنٹوں میں ان سے بھی کام لیا جاتا۔ کام کے دوران زخمی ہوجانے یا یہاں تک کہ موت کی صورت میں کسی قسم کا معاوضہ نہ دیا جاتا۔ بیماری کی صورت میں یا تو کام سے نکال دیا جاتا یا تنخواہ کاٹ لی جاتی۔ میڈیکل الائونس وغیرہ کا کوئی تصور نہ تھا۔ 1860ء کی دہائی سے شروع ہونے والی حقوق کی ا ٓگاہی نے بالآخر 1880ء کی دہائی میں باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی۔ اب یہ بات ہے چار مئی 1886ء کی جب ھے مارکیٹ شکاگو یو ایس اے میں تیس ہزار کے قریب محنت کش جمع ہونے تھے ، لیکن موسم کی شدید خرابی کی بنا پر تعداد تین ہزار تک رہی۔ ایک لیڈر کی تقریر کے دوران مجمعے میں سے کسی نے پولیس کی جانب دستی بم پھینک دیا، جس سے ایک پولیس مین ہلاک ہوگیا۔ طیش میں ا ٓکر پولیس نے مجمعے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ جس کے نتیجے میں ا ٓٹھ محنت کش جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔ اس سے پہلے پانچ ستمبر 1882ء کو دس ہزار محنت کشوں نے مظاہرہ کر کے اس دن کو لیبر ڈے کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم 1887ء میں حکومت نے پانچ ستمبر کے دن کو لیبر ڈے کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ لیکن یورپ اور دوسرے ملکوں نے یکم مئی کو لیبر ڈے کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت کے امریکن صدر نے لیبر ڈے مئی میں منانے کی بجائے ستمبر میں منانے کا فیصلہ امریکی ذہن سے چار مئی 1886ء کو ہونے والے بے گناہ انسانوں کے قتل کو بھلانے دیئے جانے کی سعی تھی۔ اور وہ اس میں کافی سے زیادہ کامیاب بھی رہے۔ لیبر ڈے کی تحریک کوآٹھ گھنٹے کی تحریک بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی محنت کشوں کا مطالبہ تھا کہ دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے ا ٓٹھ گھنٹے کام کے لیے، ا ٓٹھ گھنٹے تفریح کے لیے اور ا ٓٹھ گھنٹے ا ٓرام کے لیے مختص ہونے چاہئیں۔ امریکہ میں چونکہ لانگ ویک اینڈ کا رواج ہے، سو وہاں پانچ ستمبر کی بجائے ہر ستمبر کے پہلے سوموار کو چھٹی ہوتی ہے۔

پاکستان 1947ء یعنی اپنی ا ٓزادی کے وقت سے انٹرنیشنل لیبر ا ٓرگنائزیشن کا ممبر ہے، تاہم یہ 1972ء تھا جب پاکستان میں پہلی مرتبہ لیبر پالیسی وضع کی گئی۔ اس پالیسی کے مطابق سوشل سیکورٹی نیٹ ورک تشکیل دیا گیا۔ نیز ورکر ویلفیئر فنڈ اور اولڈ ایج بینیفٹ (EOBI) جیسی سکیموں کا اجراء کیا گیا۔ اور یہ کہ یکم مئی کو لیبر ڈے کے طو رپر پبلک ہالی ڈے ڈیکلیئر کیا گیا۔

کیا لیبر ڈے کے نام پر وہ مقاصد پورے ہورہے ہیں، جس کے لیے چار مئی 1886ء کو شکاگو میں محنت کشوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیئے تھے؟ یہ ہے وہ سوال جس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے پہلے ہم وطنِ عزیز کی بجائے ا ٓج کی ماڈرن دنیا یعنی امریکہ اور یورپ کا رخ کرتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سبھی کمپنیوں اور اداروں میں روزانہ کی بنیاد پر کم از کم دس گھنٹے کام کرنے کا رواج عام ہے اور اس کے لیے کوئی اضافی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ بظاہر وہاں ا ٓٹھ گھنٹے سے کام لیتے وقت مالکان قانون شکنی کے مرتکب نہیں ہوتے ۔ و ہ اس طرح ہے کہ مالکان پہلے تو لیبر یونین جیسے اداروں سے پیچھا چھڑانے کے لے اپنے ملازمین کے عہدے کے ساتھ ا ٓفیسر کا دم چھلا لگا دیتے ہیں اور ا ٓفیسرز لیبر یونین کے ممبر نہیں ہوسکتے۔ 1860ء کی دہائی ، جس میں محنت کشوں کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں سے ا ٓگاہی ہونا شروع ہوئی، وہ خاصی حد تک سوشلزم کے نظریئے کی مرہون منت ہے۔ دراصل یہی وہ وقت تھا جب سوشلزم ایک نئے معاشی نظام کے طور پر نیا نیا سامنے ا ٓیا تھا۔ سوشلزم میں معاشی مساوات کے ذکر کو کثرت سے پاتے ہوئے محنت کشوں نے اسے اپنی خوش ا ٓئند تقدیر کے طور پر دیکھا۔ چار مئی 1886ء کے اندوہناک سانحے کے نتیجے میں محنت کشوں کے حقوق کو تسلیم تو کرلیا گیا لیکن سرمایہ دارانہ نظام نے غیر محسوس انداز میں ان کے استحصال کا عمل جاری رکھا۔ ا ٓئیے اب وطنِ عزیز میں جہاںمحنت کشوں کے لیے قوانین تو موجود ہیں، ان کی عمومی حالت کا جائزہ لیتے ہیں۔یہاں یکم مئی کو چھٹی اور ریلیاں نکالنے کے علاوہ لیبر ڈے کوئی مقصد حل کرتا نظر نہیں ا ٓتا۔ خبر چھپتی ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نے قلیوں کی سرخ پگڑی پہن کر ان کے ساتھ کھانا کھایا۔ مان لیتے ہیں اس جماعت نے قلیوں کو کھانا کھلایا ہوگا۔ تو یہ ہے طریقہ جتلانے کا کہ ہم قلیوں کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں۔ اگر ان کے دکھ کو حقیقت میں محسوس کرنا ہے تو سر پہ ان کی طرح بوجھ اٹھا کر کچھ پھیرے تو لگاتے۔ یہ کیا کہ میڈیا کو بلالیا، چند بیانات داغ دیئے اور تصویریں نشر کروادیں۔ اس عمل میں تو ہمارے سربراہ سربراہی کرتے نظر ا ٓتے ہیں۔ ہر سال اس موقع پر ملک کے وزیر اعظم ٹی وی پر مزدوروں سے وعدے کرتے نظر ا ٓئیں گے کہ اب مزدوروں کی مجبوریوں بھری زندگی ختم ہونے کا وقت ا ٓپہنچا ہے۔ قا ر ئین کرا م، ا ٓ پ ذرا صبح نکلئے اور دورہ کیجئے مزدوروں کے اڈوں کا۔ ان اڈوں پہ محنت کش اور مختلف طرح کے ہنر مند جمع ہوجاتے ہیں اس امید پہ کہ ا ٓج ان کی دہاڑی لگ جائے گی۔ ان کے چہرے پڑھنے کی کوشش کیجئے۔ پچکے گال، ابھری ہوئی رخسار کی ہڈیاں، کئی کئی وقت بھوکا رہنے کی وجہ سے کمر سے لگے ہوئے پیٹ، ا ٓنکھوں کی ماند پڑتی ہوئی چمک، ایسا نظا ر ہ ہو تا ہے جس سے وا سطہ پڑ نا معمو ل کی با ت ہے۔

مزدوروں کی سطح سے کچھ اوپر اگر کارپوریٹ اور دوسرے اداروں کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ مالکان نے ملازمین کے حقوق سے مکمل طور پر ا ٓزاد ہونے کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ اصل میں تو یہ مغرب کی سرمایہ دارانہ ذہنیت کی اختراع ہے۔ یوں ہیومن ریسورسز (HR) ڈیپارٹمنٹ کا اداروں میں ظہور ملازمین کے حقوق کی حفاظت کے نام پر ہوا تھا لیکن پس پردہ اس کا مقصد کم ملازمین سے زیادہ کام لینے کا تھا۔ یعنی ایچ ا ٓ ر کو ٹاسک دیاجاتا ہے کہ اس سال ا ٓپ کو کمپنی کی کارکردگی متاثر کیے بغیر اتنے ملازم مزید کم کرنے ہیں۔ یہ کہ ان کے پے سکیل کو بھی کم کرناہے۔ اس طرح کے کام کو سرانجام دینے کے لیے ایچ ا ٓ ر نے تھرڈ پارٹی ریسورسز کا طریقہ متعارف کروایا ہے۔ اس طریقِ کار کے تحت تھرڈ پارٹی اسے ملازمین فراہم کرتی ہے، جو تھرڈ پارٹی کے پے رول پر ہوتے ہیں۔ یعنی ان کی تنخواہ، انہیں رکھنے اور نکالنے کا بالواسطہ کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تھرڈ پارٹی کے متعارف ہونے کے بعد کمپنیوں کے اپنے پے رول پہ محض گنے چنے ملازمین ہوتے ہیں۔

پاکستان میں مزدوروں کے استحصال کا تاریک ترین پہلو کم عمر بچوں سے مزدوری لینے سے متعلق ہے۔ 1990ء کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ تعداد میں کم عمر بچے مزدوری اور اسی نوعیت کے دوسرے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے ا ٓدھی سے زیادہ تعداد ایسے بچوں کی ہے جن کی عمر دس برس سے بھی کم ہے۔ یہاں تک کہ حیدر ا ٓباد میں چار سال سے پانچ سال کی عمر کے بچے چوڑی سازی کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ پھر سیالکوٹ میں پانچ سال سے چودہ سال کی عمر کے بچوں سے دس سے گیارہ گھنٹے فٹ بال سازی کی صنعت میں کام لیا جاتا ہے ۔ تو قا ر ئین کر ا م، پھر سے ایک نئے یو مِ مئی کی ضرورت ہے ۔ کیو ںکہ جب تک محنت کش ایک نیایوم مئی بپا نہیں کرتے، چانکیہ ذہنیت والی مکار سرمایہ دارانہ پالیسیاں امیروں اور غریبوں کے درمیان فاصلے بڑھاتی رہیں گی۔


ای پیپر