عمرانوفوبیاکا بڑھتا ہوامرض ، علاج کیسے ممکن؟
02 May 2019 2019-05-02

بلاول بھٹوزرداری کو ’’صاحبہ‘‘ کیوں کہا؟ گزشتہ چند روز سے ملک کا یہ سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا تھاا ،صحافیوں، تجزیہ کاروں اور سیاستدانوں نے اپنے درخشاں ماضی کو بھلا کر صاحبہ کہنے والے پر خوب تنقید کے نشتر چلائے ، شائد ان کے نزدیک یہ گالی سے بدتر لفظ بن گیا تھا ۔ خیر دیر آید درست آید ،اسلام آباد کے جناح کنونشن سنٹر میں وزیراعظم عمران خان نے بلاول کو ’’صاحب‘‘کہہ کرمذکر، مؤنث کا یہ سب بڑا مسئلہ ختم کردیا ۔ اب کسی کو بلاول کو صاحب کہنے پر اعتراض ہواتووہ محبت بلاول میں نہیں بلکہ بغض کپتان میں مبتلا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے23ویں یوم تاسیس کے موقع پر جہاں صاحب اور صاحبہ کا مسئلہ حل ہوا وہیں پارٹی کے بانی عمران خان نے عثمان بزدار کو پنجاب کا زبردست وزیراعلیٰ کہہ کر پنجاب میں آئے روز تبدیلی کی افواہوں کا بھی گلا گھونٹ دیا ۔ تونسہ کے سردار کی تبدیلی کی جھوٹی خبروں میں ملوث صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو کم ازکم اب اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر عوام سے جھوٹ بولنے پر معافی مانگنی چاہیے کیونکہ ان سیاسی جماعتوں کے ترجمان نماصحافیوں نے سوشل میڈیا کا سہارا لیکر عوام میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کی۔ بزدار صاحب کا اصل قصور میرے خیال میں لاہور کا رہائشی نہ ہونا تھا ۔ وہ سر پر ہیٹ رکھتے تھے نہ سابق وزیراعلیٰ کی طرح ٓلانگ شوز پہنتے تھے ۔ وہ قبیلے کے سردار تو تھے مگر پیسوں کی ریل پیل ان کے گھر میں نہ تھی۔ وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے انہوںنے اپنے بیمار والد کا علاج لندن یا امریکا میں نہیں کرایا ۔ان کے والد اس دنیا فانی سے کوچ کرگئے مگر مخالفین نے ان سے ہمدردی کا اظہار کرنے کے بجائے ان کی تبدیلی کی افواہوں کو اس دوران بھی سرگرم رکھا ۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ کا قصور یہ بھی تھا کہ وہ صحافیوں کو زیادہ لفٹ نہیں کرواتے تھے ۔ ان کے کم گوہونے پر بھی ان کا مذاق اڑایا گیا ۔ ایک ایسا شخص جو میدان سیاست میں گزشتہ دو دہائیوں سے پنجہ آزمائی کررہا ہے وہ اسمبلی میں اپنے حلقے کے لاکھوں افراد کی نمائندگی کرتا رہاہے۔ ماضی میں اس کے حلقے کو نظر اندازکیاجاتار ہا مگروہ مسلسل خاموش رہا۔وزیراعلیٰ بنتے ہی اس نے پنجاب بھر میں تجاوزات کیخلاف بلاتفریق آپریشن شروع کروایا ۔ اس نے اشرافیہ پر ہاتھ ڈالا ، فٹ پاتھ پر سونے والوں کا احساس اس کی حکومت نے کیا یہی وجہ ہے کہ شیلٹر ہومز کا سلسلہ جو لاہور سے شروع ہوا تھا وہ اب دوسرے شہروں تک پھیل چکا ہے ۔ بزدارحکومت نے جنوبی پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھانا بھی شروع کیا۔اس کی حکومت نے پنجاب کی تاریخ کا بہترین بلدیاتی نظام کا بل اسمبلی سے منظور کروایا۔ اپوزیشن نے عدالتوں کی آڑ میں اس میں رخنہ نہ ڈالا تو بہت جلد اس بلدیاتی نظام کے ثمرات عوام تک پہنچے گے ۔ بزدار انگلی ہلا ہلا کر بندے معطل نہیں کررہاوہ ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کراضلاع کے دورے بھی کم کررہا ہے ۔ وہ صرف ضلعی مشینری کو ایکٹوکرہا ہے وہ’’ ون مین شو‘‘کے بجائے ٹیم بلڈنگ پر کام رہا ہے ۔ وہ خود بھی کام کررہا ہے اورمتعلقہ بندوں سے کام بھی کروا رہا ہے، یہی اس کا قصور ہے ۔شائد یہ کام سیاسی جماعتوں کے ترجمان نما صحافیوں کو نظر نہیں آرہے ان کا مطمع نظر صرف تنقید کرنا ہے بزدارچونکہ رکھ رکھاؤ والے ایماندار انسان ہیں اور ان پر کرپشن کا کوئی الزام بھی نہیں ۔ وہ کسی بھی بینک کے ڈلفالٹر نہیں اور نہ ہی وہ زیادہ رعب دار شخصیت ہیں اس لیے وہ تنقیدکیلئے آسان ہدف ثابت ہورہے ہیںورنہ وہ ان تنقید کرنے والوںکو بتاتے چودھری پرویزالہٰی کی حکومت نے 2008ء میں جو صوبہ سرپلس بجٹ کے ساتھ سابق خادم اعلیٰ پنجاب کے حوالے کیا تھا وہ دس سال بعد1100ارب روپے کے خسارے میں تھا ۔ تنقیداگر تعمیری ہوتویہ نظام کوسدھارنے کا باعث بنتی ہے ورنہ تضحیک آمیز تنقید تواچھے بھلے چلتے ہوئے نظام کو بگاڑ دیتی ہے۔ خیر کپتان نے اپنے وسیم اکرم پلس پر دوبارہ اعتماد کا اظہار کردیا ہے اگر اب کوئی تبدیلی کی افواہیں پھیلائے گا تو سراسر بغض بزدار میں ملوث ہوگا ۔

کپتان نے اپنے خطاب میں ماضی کے قرضوں کا بھی تذکرہ کیا ۔ جو معاشی ماہرین اور سیاسی جماعتوں کے ترجمان صحافیوں نے تحریک انصاف کی حکومت پر دشنام طرازیاں کیں ان کا دلائل سے جواب دیا گیا ۔ اسد عمر کو معاشی بحران کا ذمہ دارقراردینے والوں کو بھی شائدقرار مل گیا ہوگا۔وزیراعظم نے جہاں اپنی اور گزشتہ دو حکومتوں کے پہلے آٹھ ماہ کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ پیش کیاوہیں انہوں نے گزشتہ 10برسوں میں چھ ہزار سے بڑھ کر 30ہزارارب روپے ہونے والے قرضوں کا سوال بھی اٹھا یا ۔انہوں نے بتایا کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت کے پہلے آٹھ مہینوں میں مہنگائی21فیصد تھی، مسلم لیگ ن دور میں یہ آٹھ فیصد ہوئی جبکہ تحریک انصاف حکومت کے پہلے آٹھ مہینوں میں یہ شرح چھ فیصد رہی ۔ کپتان نے جب حکومت سنبھالی تو صرف بجلی کے شعبے میں 1200ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ تھا گیس کا خسارہ 150ارب روپے تھا۔ 2008ء میںپیپلزپارٹی نے جب مسلم لیگ ن کو اقتدار منتقل کیا تواڑھائی ارب ڈالر کا خسارہ تھا لیکن جب مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف کے حوالے اقتدار کیا تو یہ خسارہ 19ارب ڈالر سے تجاوز کرگیاتھا۔ عمران خان نے اس بات کابھی برملا اظہار کیا کہ اس وقت ملک پر 30ہزار ارب روپے کا قرضہ ہے اگر پانچ سال بعد یہ قرضہ کم ہو کر 20ہزار ارب روپے ہوتا ہے تو یہ ان کی حکومت کی بڑی کامیابی ہوگی ۔

اب اگر یہ اعداو شمار غلط ہیں تو پھر ان حقائق کو دلائل سے جھٹلایا جائے ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید برائے تنقید کی جارہی ہے کیونکہ جہاں چند لوگ بغض بزدار میں ملوث ہیں وہیں ایک بڑی تعداد میں سیاسی جماعتوں کے ترجمان نما صحافیوں ’’کو عمرانو فوبیا‘‘ بھی ہوچکا ہے ۔ جن کا کام صرف حقائق کو بالائے طاق رکھ کر تنقید کرنا ہے۔ ان تنقید کرنے والوںکو اگر کسی ادارے یا شخصیت سے ذاتی ایشو ہے تو انہیں خود کو صحافیوں کی صف سے باہر کر لینا چاہیے کیونکہ صحافی کی خبر میں سب پہلا عنصر معروضیت کا ہوتا ہے اگر خبر سے معروضی عنصر غائب ہے تو وہ صرف رائے ہے خبر نہیں، یہ رائے آپ کو سوشل میڈیا پربڑا ایکٹوسٹ تو بنا سکتی ہے مگر صحافی نہیں۔میر ے خیال میں ہمیں حکومت کو کام کرنے دینا چاہیے اور جمہوری رویہ اپناتے ہوئے انہیں تھوڑ ا وقت دینا چاہیے ۔حکومتی پالیسیوں پر تنقید ضرور کیجئے مگر اس تنقید میں تحقیر کا عنصر شامل کرنے سے اجنتاب کیجئے اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو پھر صحافی نہیں سیاسی جماعتوں کے ترجمان ہی کہلائیں گے ۔ جن کا مقصد صرف اس حکومت کو کسی بھی طرح گرانا ہے ۔انہیں معلوم ہونا چاہیے جمہوریت کی گاڑی بڑی مشکل سے ٹریک پر واپس آئی ہے ۔اس کے آگے روڑے مت اٹکائیں۔ جیسے جیسے جمہوری نظام چلتا جائے گا یہ خود بخود مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے گا ۔ یہ حکومت بھی اگر عوامی امنگوں کے مطابق ڈیلیورنہ کرسکی تو اس کا حال بھی پچھلی حکومتوں جیسا ہوگا ۔ اصل تبدیلی وہ ہوگی جو بیلٹ باکس سے آتی رہے گی۔ افواہیں پھیلانے سے سیاسی جماعتوں کے صحافی نما ترجمانوں کو ذاتی تسکین تو حاصل ہوسکتی ہے مگر ان کے اس عمل سے ملک میں جمہوریت کی چلتی گاڑی کے آگے کوئی سپیڈ بریکر آسکتا ہے۔


ای پیپر