لے سانس بھی آہستہ
02 May 2019 2019-05-02

پانچ ماہ گزرنے کے باوجود آج بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے بالکل ترو تازہ ہے اور آوازیں کانوں میں گونج رہی ہیں۔

ایک مقامی بس سروس میں راولپنڈی سے لاہور کا سفر تقریباًپانچ بج کر دو منٹ پر شروع ہوا ۔ میں بس میں سیٹ نمبر 27پر براجمان ہونے کیلئے چڑھا تو معلوم ہوا کہ بس مکمل طور پر بھری ہوئی ہے۔بہرحال میں اپنی نشت پر بیٹھ گیا۔ سیٹ نمبر 5بس کی سب سے اگلی سیٹ ہوتی ہے اور ڈرائیور کے عین پیچھے ہوتی ہے ۔ دونوں میں اتنا ہی فاصلہ ہوتا ہے کہ اگر5نمبر کا مسافر زور سے سانس باہر نکالے تو بس ڈرائیور کی ٹوپی اس کے سر کی قید سے آزاد ہو جائے۔ سیٹ نمبر27اور سیٹ نمبر5میں تقریباً 18فٹ کا فاصلہ ہوتا ہے۔

اس وقت تک بس میں خاموشی کا راج تھا اور بس کا ماحول سفر کے آرام دہ اور پر سکون ہونے کی نشاندہی کر رہا تھا۔ شاید یہ صرف ہمار ا خیال تھا، یا پھر ایک خوشی فہمی ، جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

5نمبر سیٹ پر ایک بھاری بھرکم اور قدر آور (معذرت کے ساتھ ،جس کی لمبائی شمال سے جنوب کم اور مشرق سے مغرب کی طرف زیادہ تھی) صاحب تشریف فرما تھے۔ اُنہوں نے بس میں بیٹھتے ہی اپنا بڑا سا اسمارٹ فون اور ساتھ ہی 2عدد بلیو ٹوتھ نکال لیے ۔ یہ وہ لمحہ تھا جب میں اپنی نشست کی جانب بڑھ رہا تھا۔

ان صاحب کی طرح اور لوگ بھی اپنے سامان گفتگو (ہینڈ فری وغیرہ ) سے اپنے آپ کو لیس کر رہے تھے۔ عام سی بات تھی اور یوں سفر کی ابتداء ہوئی جس کا بس میںباقاعدہ اعلان بھی کیا گیا۔ ابھی سفر کو شروع ہوئے قریباً پانچ منٹ ہی گزرے تھے کہ ان صاحب کی بلند آواز سنائی دی جو پوری بس میں طبل جنگ کی طرح گونجی ’’پائین !کی حال اے؟!کتھے ہندے او اَج کل‘‘ ؟

سلیس:(بھائیجان ، کیسے ہیں، کدھر ہوتے ہیں آج کل؟)

دو نشستیں چھوڑ کر ماں کی گود میں گہری نیند سوتا ہوا تقریباً ایک سال کا بچہ اس آواز کی تاب نہ لاتے ہوئے اُٹھ کر زور زور سے ، بلک بلک کر رونے لگا۔ اس کے رونے کی آواز سن کر میرے ماتھے پر بھی شاید کچھ بل سے آئے لیکن پھر شک کی بنا پر میں نے سوچا کہ شاید ان صاحب کو وہ سوتا ہوا بچہ دکھائی نہ دیا ہو ۔ ابھی میں اس سوچ کی کشمکش میں ہی تھا کہ ایک اُونچے سے جملے نے تقریباً اگلے پانچ گھنٹے کے اُس سفر کا نقشہ کھینچ دیا۔ ’’میں سوچیا سی راولپنڈی تو چلاّں گا تے توہاڈے نال لمبی گپ لاواں گا‘‘؟ اُنھوں نے سوچا تھا کہ جب وہ اسلام آباد سے چلیں گے تو ہماری خیر نہیں) اور وہ ایک لمبی سی گفتگو فرمائیں گے۔

وقت:6:15منٹ۔ ماشاء اللہ ’’با آواز بلند صاحب ‘‘کا موبائل فون بڑی جاندار بیٹری کا متحمل تھا لیکن اس وقت تک اُن کے اِرد گرد موجود مسافروں کی بیٹری ختم ہوئی اور پھونک نکلتی جا رہی تھی۔ معاملہ گفتگو کا نہیں تھا بلکہ اس قدر اُونچی اور بے پرواہی سے گفتگو کا تھا۔ جو اس ماحول اور موقع محل سے کسی طور پر مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ مسافروں کی یہ عجب سی پریشانی اب اُن کے چہروں پر بھی نمایاں ہونی شروع ہو چکی تھی۔ کچھ مسافر تو فون کو اس غور سے دیکھ رہے تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ نظروں کے زور سے اُسے بند کرنے توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

ایک بار تو میں نے ذرا اُوپر اُٹھ کر دیکھا تو یہ نظر آیا کہ ان کے بالکل ساتھ بیٹھے ہوئے شخصن نے ایک تکیہ نما گدی میں منہ ٹھونسا ہوا تھا۔ میں یہ اندازہ لگانے سے قاصر رہا کہ وہ صاحب آواز سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غنودگی کے مراحل سے گزر رہے ہیں یا اُس لگاتار گفتگو کے اثر سے منہ سیدھا رکھ کر بے ہوش ہو گئے ہیں!

وقت: رات 8:11منٹ

ایسا بھی نہیں تھا کہ بس کی ہوسٹیس (میزبان) نے اپنی سی کوشش نہیں کی ۔ سفر کے تقریباً 100میل اور گفتگو کے368میل ہو چکے تھے جب اُنہوں نے بڑے ادب سے ان صاحب سے گزارش کی کہ وہ اپنی آواز مہربانی فرما کر مدھم کر دیں ۔ با آواز بلند صاحب نے پہلے تو قدرے بحث کی کہ وہ تو اُونچا بول ہی نہیں رہے ۔ پھر تقریباً48سیکنڈ اپنی آواز مدہم رکھنے کی کوشش کی لیکن پھر فوراً اُسی آواز بلندی کے مقام پر آپہنچے جو ان کا خاصہ تھا۔ اس موقع پر غالب کا یہ مصرعہ نہ جانے کیوں بہت یاد آیا:

قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں

بس کے باقی مسافروں کی حالت زار پر ترس کھاتے ہوئے ایک دو بار تو میں نے مصمم ارادہ بھی کر لیا کہ اُن صاحب کو جا کر تھوڑا سا درس دوں اور کہوں کہ قبلہ ڈرائنگ روم اور بس کی کرسیوں میں ہی نہیں بلکہ باقی لوازمات ، ماحول اور آداب گفتگو میں بھی فرق ہوتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ چھوٹا سا خیال بھی آیا کہ انسانی دانتوں کے ٹوٹنے کا عمل اگر قدرتی ہی رہے تو بہتر ہوتا ہے اور تکلیف قدرے کم ہوتی ہے اور چونکہ تھوبڑے پر پڑا ہوا گھسن قدرتی عمل میں شامل نہیں اس لیے ہمیں اپنا یہ خیال ترک کرنا پڑا ۔ بندہ بشر ہے۔

پھر اچانک نہ جانے کیا ہوا کہ سفر ختم ہونے سے تقریباً چالیس منٹ پہلے یہ آواز بلند صاحب کی آواز آنا بند ہو گئی۔ اُسی لمحے مجھے اُن کی صحت پر گمان بھی گزرا۔ لیکن باقی سفر بھی آرام سے کٹنا اس لیے محال ہوا کیونکہ میں(اور شاید اور بہت سے مسافر ) یہی سوچتے رہے کہ آخر ہوا کیا ؟اس فون کے دوسری طرف کے بھائی جان کہاں چلے گئے ہیں؟ اس نظر کرم کی آخرکیا وجہ ہو سکتی ہے؟ اُس سفر کے دوران ہم ان صاحب کے متعلق صرف یہ بات ہی نہیں جان پائے تھے کہ وہ دن میں کتنے گلاس پانی پیتے ہیں یا بچپن میں اُن کے پالتو کتے نے کتنی بار اُن کا پھینکا ہوا گیند پکڑا۔ ان کے آبائو اجداد، پسندیدہ ڈرامے، روزمرّہ کی مصروفیات ملکی سیاست پر اُن کی نظر وغیرہ وغیرہ کی وجہ سے اس سفر با کمال کے دوران اُنہوں نے تقریباً پینتس ان چاہے راز دار پید اکر لیے تھے۔

اگر ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالیں تو صرف بسوں تک محدود نہیں ۔ بازاروں، کھانے، پینے کی جگہوں یا ریستورانٹ کا سرسری معائنہ کریں تو ایسا بہت کچھ’’ سننے ‘‘کو ملے گا۔ کسی سے بات یا گفتگو کرنا یقینا انسانی زندگی اور معاشرے کی ایک بنیادی ضرورت ہے لیکن کیا یہ کسی کو بھی زیب دیتا ہے کہ وہ صرف اپنی ذات ، اپنی طبیعت کے مطابق چلیں اور ارد گر د کے ماحول اور تہذیب کے اُصول و ضوابط کو نظر انداز کر دیں ؟ فیصلہ اس بات کا ہے اور احساس اس چیز کا ہے کہ ہم بات کر رہے ہیں ، منادی کر رہے ہیں،اعلان کر رہے ہیں، تقریر فرما رہے ہیں یا کسی دوسرے ملک میں بیٹھے اپنے کسی رشتہ دار یا دوست کو یہیں سے صدا دے رہے ہیں۔ یہی فرق کافی ہے اور تھوڑا سا خیال بھی کر لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔

لے سانس بھی ذرا آہستہ کہ نازک ہے بہت کام


ای پیپر