اطلاع۔آم۔۔
02 May 2019 2019-05-02

دوستو، ہم چونکہ عوامی ہیں اسی لئے عوام کے لئے لکھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ باتیں ہر گز نہ کریں جو ’’خواص‘‘ کے لئے مخصوص ہیں۔اس لئے سوچا کہ آج کچھ ایسی ’’عام‘‘ باتیں کی جائیں جو ’’ آم ‘‘ کی طرح ہیں اور بغیر کسی ’’سیزن‘‘ کے سال کے بارہ مہینے ہمارے آس پاس معاشرے میں پائی جاتی ہیں۔۔تو چلیں پھر اپنی اوٹ پٹانگ باتوں کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔۔

کہیں بھی کوئی واردات ہوتی ہے تو پولیس فوری حرکت میں آجاتی ہے، جس بے چارے کے ساتھ واردات ہوتی ہے پولیس کا پہلا شک اسی پر جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کراچی میں نوے فیصد شہری موبائل فون چھینے جانے کے باوجود پولیس میں رپورٹ درج کرانے سے کتراتے ہیں۔پولیس سندھ کی ہو یا پنجاب کی، عادت و اطوار اور طریق کار سب کا یکساں ہی ہوتا ہے، پولیس کی جانب سے کوئی بھی حکم نامہ جاری ہوتا ہے تو خاص طور سے لکھا جاتا ہے کہ ’’بحکم آئی جی صاحب‘‘۔۔اس طرح کے کچھ نرالے حکم نامے یعنی اطلاع برائے عوام الناس ہمیں بھی ملے ہیں۔۔ اگر کوئی پولیس والا رشوت لیتا تھا پھر لینا چھوڑ دے تو آئی جی کو اطلاع کریں۔۔اگر کوئی پینٹ پہنتا تھا پھر کرتا شلوار شروع کر دے تو آئی جی کو اطلاع کریں۔۔اگر کسی کا پائنچہ ٹخنوں سے نیچے تھا پھر اوپر ہو جائے تو آئی جی کو اطلاع کریں۔۔آپ کسی کو کال کریں اور کال بیک ٹون میں گانے کی جگہ نعت سنائی دے تو آئی جی کو اطلاع کریں۔۔اگر کوئی فون پر ہیلو کہتا تھا پھر السلام علیکم کہنا شروع کر دے تو آئی جی کو اطلاع کریں۔۔اگر کوئی اسٹار پلس کی جگہ ’’پیس ٹی وی‘‘ لگا دے تو آئی جی کو اطلاع کریں۔۔اگر کوئی چاول چمچ سے کھاتا تھا پھر ہاتھ سے کھانا شروع کر دے تو آئی جی کو اطلاع کریں۔۔اگر کوئی ماما پاپا اور موم ڈیڈ کی جگہ ابا اماں کہنا شروع کر دے تو آئی جی کو اطلاع کریں۔۔اگر بچہ "ڈوریمون" کی جگہ "عبدالباری" دیکھنے کی ضد کرے تو آئی جی کو اطلاع کریں۔۔

فیس بک پر کچھ اوٹ پٹانگ باتیں لکھی تھیں جسے کافی پسند کیاگیا، کچھ باتیں لکھنے سے رہ گئی تھیں۔۔ تصور کریں اگر فیس بک پر پابندی لگادی جائے تو پھر ہمارے معاشرے کاماحول کیسا ہوگا؟؟۔۔فیس بک کی بندش کے ساتھ ہی بہوؤں نے ساس کی مرضی کے مطابق گھر کے سارے کام سرانجام دیئے۔۔گھر کے تمام بچوں نے ماں باپ کے ساتھ تسلی سے بیٹھ کر کھانا کھایا۔اور والدین کو پتہ چلا کہ ان کے بچے پانچ پانچ روٹیاں بھی کھا سکتے ہیں۔۔بڑے بھائی کو پتہ چل گیا کہ سب سے چھوٹے بھائی کی مونچھیں نکل رہی ہیں اور وہ بڑا ہوگیا ہے، فیس بک سے کبھی فرصت ہی نہیں تھی کہ چھوٹے بھائی کو اتنے غور سے دیکھتا۔۔امی نے جوتا مارنے کو اٹھایا تو دیکھ کر حیران ہوگئی کہ بیٹاتو موبائل میں نہیں کتاب پڑھنے میں مصروف ہے۔۔جامی پہلی بار بائیک کو کھمبے سے ٹکرا کر گرنے سے بچا،کیوں کہ بائیک چلاتے وقت بھی اس کا سارا دھیان موبائل میں لگاہوتا تھا۔۔پہلی ہی آواز میں بیٹی رانی امی کی بات سننے کو پہنچ گئی۔۔پہلی بار گھر کے سارے برتن رات کو ہی وقت پر دھل گئے۔۔باباجی کئی دن بعد وقت پر رات کو سوئے اور صبح فجر کی نماز باجماعت اداکرنے کی سعادت بھی حاصل کی۔۔فیس بک کی بندش کی وجہ سے عمر سارا دن نڈھال ،نڈھال بستر پر پڑا رہا، رات کوگھر والے گاڑی میں ڈال کر اسپتال لے گئے،پتہ نہیںکتنا شدید بیمار ہوگیا۔۔

کامیڈین لیجنڈ عمرشریف ایک بار ایک ٹی وی اداکارکے گھر گئے تو باتوں باتوں میں بولے’’اس گلی میں تمہارے علاوہ کتنے بے ہودہ آدمی رہتے ہیں؟۔۔ٹی وی آرٹسٹ ذراخفگی سے بولے۔آپ میری توہین کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟۔۔’’ہر گز نہیں‘‘عمر شریف نے سنجیدگی سے جواب دیا۔’’اگر مجھے تمہاری توہین کرنی ہوتی تو میں یہ سوال یوں پوچھتا،اس گلی میں تم سمیت کتنے بیہودہ آدمی رہتے ہیں۔‘‘۔۔پوری دنیا ترقی پر ترقی کئے جارہی ہے یہاں تک کہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں بھی چلنے لگی ہیں،لیکن ہمارے یہاں عوام یہ مستقل اس سوچ میں غرق ہیں کہ ایکسیڈنٹ کے بعد دھلائی کس کی کریں گے؟؟ ۔آپ تمام لوگوں کی اطلاع کے لئے یہ بھی انکشاف کرتے چلیں کہ سائنسی زبان میں ’’پیراسائیٹ‘‘اس جاندار کو کہتے ہیں۔ جو آپ کا خون چوسے اور آپ کے پاس بھی رہے۔۔ہمارے ہاں ایسے جاندار کو رشتہ دار کہتے ہیں ۔۔کسی سائنسی مضمون میں جب ہم نے پڑھا کہ انسانوں کو نرمچھر نہیں بلکہ مادہ مچھر نشانہ بناتی ہیں تو ہمیں کافی حیرت ہوئی کہ ۔۔مچھر تو مچھر،ان کی بیویاں بھی کاٹتی ہیں ،بے شرم کہیں کی۔۔باباجی کو جب ہم نے یہ بتایا تو اگلے ہفتے وہ ہمیں بتانے لگے کہ اب انہوں نے مچھروں کو مارنا چھوڑ دیا ہے، وجہ دریافت کی تو بڑی معصومیت سے بولے۔۔اب عورتوں پر کون ہاتھ اٹھائے۔۔آپ کے لئے یہ اطلاع بھی حیرت سے کم نہیں ہوگی کہ۔۔دْلہن کو تقریب مین سب سے آخر میں ایسے لایا جاتا ہے جیسے ویڈیو گیم میں سب سے بڑی بلا کو آخر میں چھوڑا جاتا ہے۔۔

چلیں جی اب آپ کو وزن کم کرنے کے کچھ طریقے بتاتے چلیں جس کی مدد سے آپ بغیر کسی ڈائیٹنگ اور ورزش اپنا وزن باآسانی کم کرسکتے ہیں۔۔ سب سے پہلے تو یہ دھیان رہے کہ کپڑے ڈھیلے ڈھالے پہنا کریں اس سے آپ کا وزن کم لگے گا۔۔ تصویر ہمیشہ دْور سے لیں اور کوشش کریں کہ پاس کوئی بڑی چیز جیسے بَس ٹرک یا بلند عمارت ہو۔۔ وزن کرتے ہوئے ہمیشہ ایک پیر زمین پر رکھیں ،اور دوسرے سے اسکیل کو دبائیں یہاں تک کہ سوئی آپ کے آج کے ہدف تک پہنچ جائے۔۔ دْبلے پتلے اور خوراک کا خیال رکھنے والے دوستوں سے تعلقات توڑ دیں۔۔ خود کو یقین دلائیں کہ موٹاپے کا احساس صرف اور صرف آپ کے دماغ کی خرافات ہیں۔ ۔۔ گھر کے تمام آئینے توڑ کر باہر پھینک دیں۔۔ کھانے سے پہلے اور بعد میں خوب کھانا کھائیں تا کہ کھانے کے وقت بھوک کم لگے۔۔ کھانا ہمیشہ بہت زیادہ بنائیں تا کہ بچے ہوئے کھانے کو دیکھ کر یہی احساس ہو کہ کم کھایا۔۔ اپنے کمرے میں جگہ جگہ جاپانی ’’سومو‘‘ پہلوانوں کے پوسٹر اور تصاویر آویزاں کریں۔۔ روزانہ متعدد بار ورزش سے بھاگیں کیونکہ بھاگنے سے وزن خودبخود کم ہوجاتاہے۔۔۔ موٹاپے کی طرف توجہ دلوانے والے دوستوں کو اپنی آنکھیں چیک کروانے کا مشورہ دیں۔۔ کھاتے ہوئے یاد رکھیں کہ کم کھانے کی صورت میں جَلد ہی ایک شدید احساسِ محرومی آپ کو لاتعداد اشیائے خورد و نوش دیوانہ وار مْنہ میں ڈالنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ایک متوازن انسان کبھی ایسے احساسات کو قریب پھٹکنے نہیں دیتا۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔شام کا ایک گھنٹہ اپنے لیے ضرور نکالیں۔۔گھر کی چھت پر بیٹھیں۔۔لوگوں کے مکان دیکھیں۔۔آسمان میں اڑتے پرندے دیکھیں۔۔کافی یا چائے کا کپ دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر حرارت محسوس کریں۔۔اپنے لیے وقت نکالیں،اپنے آپ کو اہمیت دیں۔۔زندگی کی تلخیوں کو چائے کی چسکیوں کے ساتھ ختم کریںاور اگر پھر بھی سکون نہ آئے تو اس خالی کپ کو دیکھیے جس طرح اس کپ میں دوبارہ چائے بھرنے کی گنجائش ہے اسی طرح آپکے اندر بھی زندگی اور خوشی بھرنے کی گنجائش باقی ہے۔۔۔ اپنے اندر کی خالی جگہوں کو پْر کرنا سیکھئے۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔


ای پیپر