تصویر ٹوئٹر

شاہد آفریدی کی سنسنی خیز انکشاف سے بھرپور آپ بیتی’گیم چینجر‘ منظر عام پر آگئی
02 May 2019 (13:42) 2019-05-02

لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان کی انکشافات سے بھرپور آپ بیتی ’ گیم چینجر ‘ منظر عام پر آگئی ہے جس میں انہوں نے سابق کپتان جاوید میانداد، وقار یونس اور شعیب ملک کے بارے سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شاہد آفریدی نے اپنی کتاب ’ گیم چینجر میں لکھا کہ پہلا ون ڈے کھیلا تو عمر 16 نہیں 19 سال تھی۔ سابق کپتان نے انکشاف کیا کہ جاوید میانداد کو میرے بیٹنگ سٹائل سے نفرت تھی، 1999 میں چنئی ٹیسٹ سے پہلے نیٹ پریکٹس نہ کرنے دی، پریزنٹیشن تقریب میں مجھ سے زبردستی تعریف کرائی، میانداد کو بڑا کھلاڑی سمجھا جاتا ہے مگر وہ چھوٹے آدمی ہیں۔

آفریدی نے سابق کوچ و کپتان وقار یونس کے بارے لکھا کہ وقار یونس بدترین کوچ اور کپتان تھے، وقار یونس نے میرے خلاف لابنگ کی، اعجاز بٹ وقار یونس کی باتوں میں آگئے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ شعیب ملک کپتانی کے لیے فٹ نہیں تھے، ناتجربہ کاری شعیب ملک کی کمزوری تھی، ملک کو کپتان اور بٹ کو نائب کپتان بنانا غلط اقدام تھا، کان کا کچا شعیب ملک برے لوگوں سے برے مشورے لیتا تھا۔

سپاٹ فکسنگ سکینڈل کا بہت پہلے علم ہوگیا تھا، مظہر مجید نے فون مرمت کیلئے لندن میں ایک دکان پر دیا تھا، اتفاقاً دکان کا مالک میرے دوست کا دوست نکلا۔ مظہر مجید کے فون سے پاکستانی کھلاڑیوں کو کیے گئے پیغامات ملے۔ شاہد آفریدی نے اپنی آپ بیتی میں لکھا کہ ٹیم مینجمنٹ کو ثبوت دکھائے مگر کوئی ایکشن نہ ہوا، میں نے یہ پیغامات وقار یونس، یاور سعید سے شیئر کیے، مینجمنٹ خوفزدہ تھی یا اسے ملک کے وقار کا خیال نہ تھا، یاور سعید نے یہ پیغامات دیکھ کر بے بسی کا اظہار کیا۔ یاور سعید نے مجھ سے پیغامات کی کاپی مانگنے کی زحمت بھی نہ کی، عبدالرزاق نے بھی سلمان، عامر اور آصف پر شک کا اظہار کیا تھا۔

شاہد آفریدی نے لکھا کہ لارڈز ٹیسٹ کے دوران کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا، چوتھے دن سلمان سے کہا وہ قیادت سنبھال سکتا ہے، میرا پورے سیٹ اپ سے اعتبار اٹھ چکا تھا، ٹیم مینجمنٹ معاملے کی فعال تحقیقات نہیں کر رہی تھی، سلمان بٹ کو مستقبل میں قومی ٹیم پاکستان کے لیے کھیلنے والی کسی بھی ٹیم میں جگہ نہیں ملنی چاہیے۔


ای پیپر