صاحبہ ، ریمبو
02 May 2019 2019-05-02

قارئین، اداکارریمبو کے مقابلے میں اُن کی بیوی اداکارہ اور ہیروئن صاحبہ کتنی خوش نصیب ہیں، کہ ان کا نام ملک کے وزیراعظم کی زبان پہ اتنے سلیقے سے آیا، کہ میرا کی خواہشات خاک میں ملتی نظر آئیں، اور اگر مرحومہ قندیل بلوچ زندہ ہوتیں، تو شاید وہ خاک میں لُوٹ پوٹ ہوجاتیں، لیکن اگر اس کا مثبت پہلو دیکھا جائے، تو بلاول، جسے ”بھٹو“ لکھتے ہوئے قلم شرماتا ہے، بلاول زرداری میں بڑی واضح اور حیران کن تبدیلی آئی ہے۔

صاحبہ کے طنز نے وہ کام کیا ہے، کہ جو شاید آصف علی زرداری سمیت ان کا پورا خاندان نہیں کرسکا، مجھے یقین ہے ان کے والد محترم انہیں ضرور سمجھاتے ہوں گے، کہ اپنا لب ولہجہ درست کریں اور آواز کو بھی نسوانہ بنانے کی بجائے، مردانہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہیدکی تقلید نہ کریں، کیونکہ ان کی تربیت شروع ہی سے ان خطوط نہ ہوئی ہے، کہ جیسا ذوالفقار علی بھٹو چاہتے تھے، وہ برملا کہتے تھے، کہ میں بے نظیر جسے پیار سے وہ پنکی کہتے تھے، اس کی سیاسی تربیت کررہا ہوں اس لیے اس کے بچپنا ہونے کے باوجود جب وہ ہندوستان کے دورے میں گئے ، تو اسے شملہ ساتھ لے گئے تھے، اور ان کا تعارف اندرا گاندھی اور اس کے لیے دوسرے رہنماﺅں سے اس طرح کرایا تھا کہ وہ مذاکرات کے دوران بھی ان کو اپنے ساتھ رکھتے تھے، مجھے یہ بات لکھنے میں تامل نہیں، کہ میں تحریک انصاف کی بہت سی باتوں سے اتفاق نہیں کرتا، اور ان پہ اکثر مثبت تنقید کرتا ہوں، مثلاً تحریک انصاف نے جو شیلٹر ہوم بنائے ہیں، میں نے اس کی نہ صرف کھل کر تعریف کی ہے، بلکہ میں اس میں معاونت کرنے، اور کھانے میں حصہ ڈالنے کو بھی تیار ہوں مگر میں چاہتا ہوں، کہ پورے پاکستان کو شیلٹر ہوم میں بدل دیا جائے، کیونکہ انصاف کا تقاضا یہی ہے، اور حکمران کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ وہ یہ سہولیات ومراعات دوسرے مستحقین تک بھی پہنچائے۔کیونکہ اسلام میں زکوٰة جس کی بار بار تاکید کی گئی ہے، اس کے لیے فرمان ہے زکوٰة کے مستحق وہ ایسے ”سفید پوش“ لوگ ہوتے ہیں، جو اپنی ضرورت دوسروں پہ ظاہر نہیں کرتے، مگر وہی لوگ سب سے زیادہ مستحق ہوتے ہیں۔

میں بات کررہا تھا صاحبہ کی، خدا جانے غلطی سے یا خداجانے عمران خان نے دانستہ انہیں بلاول صاحبہ کہہ دیا، مگر چونکہ کہا جاتا ہے، کہ انسان کو ہمیشہ ہربات کو مثبت لے کر اس میں خیر کا پہلو ڈھونڈنا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات شر میں سے بھی خیر کا پہلو نکل آتا ہے۔ میری دانست میں کسی کے منفی کلمات پہ ردعمل کا اظہار فوراً نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وقت ایسا مرہم ہوتا ہے، جو زبان کی کاٹ کو بھی مندمل کردیتا ہے، جیسا کہ میں عرض کررہا تھا، کہ عمران خان کی ایک بات نے وہ اثر دکھایا کہ جو پاکستان بھر کے دانشور، تنقید نگار، اپوزیشن والے بھی نہ کرسکے، جو بلاول کو اس کے بولنے کے انداز طفلانہ کی وجہ سے اسے ”چوسنی گروپ تک“ کہنا شروع ہوگئے تھے، ویسے بھی ان کی سنجیدہ گفتگو، تحمل بردباری، مثبت تنقید کو یارلوگ سراہنے شروع ہوگئے تھے مگر بلاول کے باز نہ آنے پر ملک کے بڑے بڑے چینلز ، بلاول زرداری کی بولنے کی نقل پہ اپنا پروگرام چلارہے ہیں، ماشاءاللہ اللہ نے جو قد کاٹھ، ٹھاٹھ باٹھ اور جسامت دی ہے، اس کا تقاضا یہ تھا کہ زبان میں اور بول چال میں رعب ہوتا۔ مگر نجانے کن مشیروں نے انہیں مشورہ دیا، کہ اپنی والدہ صاحبہ کا انداز اپنائیں، ان کے خیال خام میں یہ تھا کہ یہ انداز اپنا کر شہید بی بی کو لوگ یاد کرنا شروع ہوجائیں گے، اور یہ چیز پیپلزپارٹی کے حق میں جائے گی مگر انسان کو خود بھی غوروفکر کرنا چاہیے۔

سیاست میں مصلحت پسندی کامیابی کی کلید ہے، اگر یہ بات قابل تقلید نہ ہوتی، تو دنیا بھر کی اسمبلیوں میں جو تم پیزارنہ ہوتا، اور جوتی پھینکنے اور اتارنے میں تو اکیلی نفرت ہی کافی ہے، ارسطو نے کیا خوب بات کہی ہے، کہ غصہ ہمیشہ حماقت سے شروع ہوتا ہے، اور ندامت پر ختم ہوتا ہے، یہی وجہ ہے، کہ ایک دفعہ آصف زرداری نے فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کرتے ہی دوبئی کی راہ لی تھی، اور جنرل راحیل شریف جب تک ریٹائرڈ نہ ہوئے، وہ پاکستان واپس نہ آئے لہٰذا دانائی، عقلمندی اور مصلحت کا یہ تقاضا ہے کہ کسی تنقید کو دانائی اور بینائی سے مثبت لے کر مخالف کاموں کی اصلاح کرنا بہ نسبت غصہ کرنے اور اس مبتلا رہنے سے بہت بہتر ہے۔

اس دور میں جو تبدیلی آگئی ہے، وہ سب کو معلوم ہے، وزراءاور مشیر صاحبان میں شاذ ہی کوئی صاحب ہوں گے کہ جن کو اپنے منصب اور اپنے کام سے کام ہوگا، بیشتر اپنا وقت ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے ، اور لعن طعن میں گزار دیتے ہیں، فیاض الحسن چوہان، کی فیاضی پہ مٹی ڈالو، گو ان کا خیال ہے کہ مولا جٹ کی واپسی ہوگی، اور فواد چودھری یہ رٹے رٹائے فقرے کہ قیمتوں میں مہنگائی سابقہ دور کی وجہ ہے، ڈالر کی قدر میں سابقہ حکومت مصنوعی طورپر ڈالر کو کنٹرول کررہی تھی، میٹرو اور اورنج ٹرین بھی سابقہ حکومت کا ناجائز منصوبہ تھا۔

امارات ، سعودی عرب، چین، ہندوستان، سری لنکا وغیرہ سے تعلقات میں گرمجوشی کا فقدان اور کمی بھی سابقہ حکومتوں کی وجہ ہے، اور خودکشیوں پہ مجبور کردینے والی مہنگائی کی وجہ بھی سابقہ حکمران ہیں، ایوانوں میں گتھم گتھم ہونا بھی سابقہ سیاسی جماعتوں کی وجہ ہے، روزمرہ استعمال کی اشیاءحتیٰ کہ تیل پہ بھی سبسڈی دے کر سابقہ حکمرانوں نے عوام کو نکما، سست اور کاہل کردیا، نیز یہ کہ آئے روز، ٹرینوں کے ڈبوں کا پٹڑی سے پھسلنا، اس کے ذمہ دار بھی سابقہ لوگ ہیں، ریلوے میں کروڑوں کا گھاٹااور کراچی تک بغیر کہیں رکے کراچی تک چلنے والی ایکسپریس بھی سعدرفیق کی وجہ سے بند کرنی پڑی، وغیرہ وغیرہ۔

مگر میری دانست میں تحریک انصاف کا وہ کام جس کی وجہ سے وہ تعریف کی متقاضی ہے، عمران خان نے بلاول پہ تیر کے طنز برسا کر ان کی زبان درست کردی ہے، اس میں شکر ہے روانی بھی آگئی ہے، نسوانیت بھی ختم ہوگئی ہے ۔

یہ صحیح ہے بقول اقبالؒ

افسردہ اگر اس کی نواسے ہو گلستان

بہتر ہے کہ خاموش رہے مرغ سحرخیز


ای پیپر